پاکستانی رنرز سیشلز کیوں اور کیسے پہنچے؟ جزیرے پر صرف پاکستان زندہ باد کے نعرے کیوں؟ 

روزینہ علی

Aug 31, 2025 | 18:42:PM
پاکستانی رنرز سیشلز کیوں اور کیسے پہنچے؟ جزیرے پر صرف پاکستان زندہ باد کے نعرے کیوں؟ 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ایسٹ افریقہ کا سیشلز دنیا کا ایک خوبصورت عجوبہ ہے ،ایک ایسا جزیرہ جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے لیکن جب سیشلز نے ماہے میں 22 کلو میٹر کی نیچر ٹریل رننگ کا اعلان کیا تو دنیا بھر کے رنرز کی نگاہیں سیشلز پر جم گئیں جن میں پاکستانی رنرز بھی شامل تھے لیکن وہاں کیسے پہنچا جائے یہ دنیا کے باقی رنرز کے مقابلے میں پاکستانی رنرز کے لیے خاصا مشکل نظر آ رہا تھا۔ 

 پاکستانی رنرز کو اس خوبصورت جذیرے پر دنیا بھر میں نمایاں کرنے کے لیے واگا ٹیلز نے سیشلز ٹورازم کے توسط سے ایک احسن اقدام کرتے ہوئے پاکستانی رنرز کے لیے یہ سفر آسان بنایا، ٹورازم سیشلز سے منظوری کے بعد واگا ٹیلز نے صرف ایک یا دو نہیں بلکہ 6 پروفیشنل رنرز کے لیے اس ایڈوینچر ٹریل رننگ میں شمولیت کی یقین دہانی کرائی اور 3 صحافیوں کو بھی اس ٹریل کو ایکسپلور کرنے اور رننگ کا موقع دیا تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ پاکستان کسی سے کم نہیں یہاں بھی بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے۔

آخر ماہے کی یہ 22 کلو میٹر کی نیچر ٹریل دنیا بھر کی توجہ کا مرکز کیوں بنی؟ اور پاکستانی رنرز کی بھی خصوصی دلچسپی کیوں رہی؟ اس لیے کیوں کہ ایک تو اس نیچر ٹریل پر قدرت کا حسن بے تحاشا ہے، انتہائی گھنا سبزہ ، گہرے سناٹوں کے ساتھ سکوت طاری کرتا گھنا جنگل، سنگلاخ چٹانیں پہاڑوں میں چھپا جیسے یہ قدرت کا قیمتی خزانہ ہے اور ہر کوئی اس خزانے کو حاصل کرنا چاہتا تھا، ایسا لگتا تھا کہ یہ خزانہ نہ ملا تو سانسیں بند ہو جائیں گی، دوسری طرف انڈین اوشین کی لہروں کا گرجدار شور ، سمندر کی اونچی لہریں نیلا صاف شفاف پانی ان پہاڑوں کے ساتھ ساتھ بہتا ہے اور سیاحوں کو جیسے سیشلز کے حسن کی داستان چیخ چیخ کر سناتا ہے کہ دیکھو آؤ قدرت کے رنگ کتنے خوبصورت ہیں ، یہاں قدرت الگ ہی انداز سے جلوہ گر ہے، اور پھر رنرز کو مشکل ٹاسک ہمیشہ دلچسپ لگتے ہیں، پاکستانی رنرز بھی اس انوکھی اور ایڈوینچرس ٹریل رننگ کا منفرد تجربہ کرنا چاہتے تھے۔

 رنرز نے جب اپنے مقررہ راستوں پر دوڑنا شروع کیا تو جیسے ان راستوں کی سحر انگیزی نے کئی بار انکے قدم روک بھی دیئے کہ ابھی کہاں چل دیئے ابھی تو دلکش نظاروں کے حسن سے محظوظ ہونے کا وقت ہے، سخت بڑی بڑی چٹانوں کو عبور کرنا ایک دلچسپ مرحلہ ہوتا تھا اور کئی مقامات پر جو سلوپ بنے ہوئے تھے جن پر پھسلن بھی زیادہ تھی رنرز کے لیے یقیناً ایک ٹیکنیکل اور مشکل مرحلہ ہوتا تھا، لیکن بہرحال خطرناک کھیل کا ایڈونچر ہر کوئی انجوائے کر رہا تھا ۔

خیر اس نیچر  ٹریل تک پہنچنے کی سہولت اور آسانیاں تو واگا ٹیلز اور سیشلز نے دی لیکن اس ٹریل کے خطرناک راستوں کو عبور کرنے کے لیے ہر رنر کی اپنی ہمت حوصلہ اور جنون تھا، پاکستان کے پہلے ٹاپ رنر وقاص احمد نے جب اپنی رننگ ممکل کی پہلی پوزیشن کے ساتھ تو خوشی کا ایک الگ ہی سماں تھا، پھر دھیرے دھیرے سب رنرز پہنچتے گئے جن میں عمر زمان، مزمل شہزاد، انم عذیر ، نیلاب کیانی، زائرہ سید ، محسن اعجاز اور فیضان لاکھانی شامل تھے، پاکستان کی اس شاندار کامیابی پر فضاء صرف پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی، دوسری ،چوتھی، پانچویں ، پوزیشنز بھی پاکستان کی تھی، وہ لمحہ اس قدر خوبصورت تھا کہ جب سب نمبر ون پاکستانی رنر وقاص اور دیگر رنرز کو بار بار سراہتے رہے سیشلز کی فضاؤں میں ہر لمحہ پاکستانی رنرز کی دھوم مچی رہی، یہ پہلا موقع تھا ان پاکستانی رنرز کے لیے جو ہر قدم پر دوڑتے پاکستان کے لیے کامیابی سمیٹ رہے تھے ۔

واگا ٹیلز کی روح رواں کرن نے اپنی خصوصی گفتگو میں بتایا کہ پاکستان کے لیے کچھ خاص کرنے کی جستجو تھی، خواہش تھی کہ پاکستان کہ لیے ایسا کارنامہ سرانجام دوں کہ پاکستان کا نام ہر ملک کی زبان پر رہے تو جب سیشلز نیچر ٹریل کا سنا تو یہ ایک خوبصورت موقع لگا اور سوچ لیا کہ اپنے پاکستانی رنرز کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کرنی ہے تب ہی سیشلز ٹورازم سے بات کر کے پاکستان کے لیے اس امر کو یقینی بنایا، اور یقیناً واگا ٹیلز کی یہ روح رواں وہ نایاب ہیرا ہے جو خاموشی سے وطن عزیز پر محبتیں نچھاور کرتی ہے اور اپنے ہم وطنوں کے کامیابیوں میں ان کے مددگار ہوتی ہے۔

ہم نے سیشلز کے جزیرے پر ماہے سے لے کر پرالین اور لا دیگ تک ہر دن پاکستان کی کامیابی کا تذکرہ سنا، سیشلز میں بار بار پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھے گئے، پاکستان میں یقیناً ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور واگا ٹیلز کی طرح اگر باقی ادارے بھی ٹیلنٹ کو صحیح مواقع فراہم کریں تو یقیناً پاکستان کی نام یونہی دنیا بھر میں چمکتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں؛ انڈونیشیا:حکومتی شاہ خرچیوں کیخلاف احتجاج کامیاب،اراکین سے مراعات واپس لینے کا اعلان