اقوام متحدہ کی نسل کشی رپورٹ۔۔پاک افغان مذاکرات۔۔ سلیم بخاری کا فکر انگیز تجزیہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
ورلڈ آرڈر تبدیلی کی طرف۔۔۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کی وقعت کیا ؟؟
(فرخ احمد)آ ج کے شو میں معروف تجزیہ نگارسلیم بخاری نےاقوام متحدہ کی فلسطین کے لیے خصوصی نمائندے کی جاری ہونے والی ایک رپورٹ جس میں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا، برطانیہ اور جرمنی سمیت 63 ممالک غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی 2 سالہ نسل کشی میں شریک یا معاون رہے ہیں،پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ63ملکوں میں جو غیر مسلم ممالک شامل ہیں ان سے تو کیا گلہ کیا جائے اس میں جو مسلمان ممالک شامل ہیں ان کا کیا جائے،مسلمانوں نے جس قسم کے تعاون اور مدد کی اس پر تو ہمارے سر شر م سے جھک جانے چاہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ کس کس کا ماتم کیا جائے یہ جو یو این کی رپورٹ ہے اس نے اپنی ذمہ داری بہت اچھی طرح سے نبھائی ہے حالانکہ اس سے قبل یو این نے ہمیشہ روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے اور غزہ کے حوالے سے صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس رپورٹ کا ماضی کی رپورٹ سے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا کیوںکہ اس میں جتنی تفصیل سے اور جس لہجے میں یہ رپورٹ بنائی ہے وہ بھی امریکہ بہادر کے ہوتےہوئےانسانیت کے قاتلوں کے منہ پر تو کالک ملی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جو اس میں کسی نہ کسی طرح سے شریک رہے ہیں ان کو دنیا کے سامنے ننگا کر کے رکھ دیا ہے۔تہذیب یافتہ دنیا کو تو اس رپورٹ کو پڑھ کر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔
ترکیہ کی درخواست پر پاکستان افغان مذاکرات ایک بارپھر شروع ،مذاکرات کا نیا سلسلہ نتیجہ خیز ثابت ہو گا ؟؟؟
اس سوال کے جواب میں سلیم بخاری نے کہا کہ پاکستان ثالث کی درخواست پر افغان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامند ہوگیا، مذاکراتی عمل کو جاری رکھ کر امن کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،لیکن پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو تو گئے ہیں لیکن یہ کسی نتیجہ پر پہنچ بھی پاتے ہیں یا نہیں اس کے متعلق ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔کیونکہ افغان وفد والے جب مذاکرات کے ڈرافٹ پر کابل سے رہنمائی لینے کی کوشش کرتے وہیں تو کابل والے ایک پراکسی کے طور پر دہلی والوں کو فون کر کے ان کی مرضی معلوم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستا ن کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کا مغربی بارڈر پر امن ہو جائے بلکہ بھار ت کی تو یہ کوشش ہو گی کہ پاکستان کو بلیڈ کرایا جائےاب ایسا ہوتا ہے یا نہیں یہ الگ معاملہ ہے ۔انہوں نے خواجہ آصف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت یہ نہیں جانتا کہ وہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف ’کم شدت کی جنگ‘ لڑ رہا ہے اور نئی دہلی مئی میں اسلام آباد کے ساتھ ہونے والی چار روزہ جھڑپ میں شکست کے بعد بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے۔بخاری صاحب نے کہا کہ پاکستان کا موقف بلکل صاف ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ دہشتگرد یہاں آکر دہشتگردی کریں اور پاکستان ان کو چائے پلا کر واپس بھیج دیے۔اگر ایسا ہوا تو پاکستان کتنا خوفنا ک رد عمل دے گا افغانستان کو اندازہ نہیں ہے۔
سلیم بخاری نے انکشاف کیا کہ افغان عوام طالبان رجیم کے ساتھ ایک پیج پر نہیں ہیں عوام نہیں چاہتے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب ہوں ان کا رزق جڑا ہوا ہے، پاکستان کے ساتھ کچھ چیزیں افغانستان سے ادھر آتی ہیں اور کچھ یہاں سے وہاں جاتی ہیں کیونکہ افغانستان تو ایک لینڈ لاک کنٹری ہے۔تو یہ افغان قوم کے حق میں ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بیٹھ کر کوئی پر امن حل ڈھوندیں۔
بھارت کی زیرِ قبضہ ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکوں نے زور پکڑ لیا
اس سوا ل کے جواب میں کہ جس طرح بھارت میں علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑتی جارہی ہیں کیا اس طرح انڈین فیڈریشن کو کوئی خطرہ لاحق ہو گیا ہے؟ انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بےشک بہت بڑا چیلنج ہے یہ انڈین فیڈریشن کے لیےانہوں نے بتایا کہ وہاں 26آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں جو کہ کئی دہائیوں سے جاری ہیں جن میں سے جو دو بڑی تحریکیں ہیں ان میں سے ایک تو خالصتان موومنٹ ہے جبکہ دوسری مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی بہت بڑی تحریک ہےیہ جو دو بڑی ریاستوں میں بھارت کر رہا ہے وہ سب دنیا کے سامنے ہے۔انہوں نے بھارتی تجزیہ کاروں کی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انکو اس بات کاادراک ہے کہ اگر ایک ریاست بھی ٹوٹنے میں کامیاب ہو گئی تو پھر 20ٹکڑو ں میں ہندوستان بٹ جائے گا یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مقبوضہ کشمیر میں موجود رکھے ہوئے ہے لیکن اس کی کتنی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے،وہ بھارت ہی جانتا ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وہاں پر کوئی اقلیت محفوظ نہ ہے ، کبھی تو عیسائیوں کے چرچ جلائے جاتےہیں۔تو کبھی ان کے ساتھ تشدد کیا جاتا ہے،اس طرح مسلمانوں کے ساتھ تو جو سلوک آر ایس ایس روا رکھے ہوئے ہے اس کی تو کوئی مثال ہی نہیں ملتی، یہاں تک کے مسلمانوں کی مساجد تو غیر محفوظ ہیں ہی لیکن اب انکو عبادت کے لیے مساجد میں جا کر نماز پڑھنے پر بھی پابندی ہے۔یونیورسٹی میں مسلم بچیوں پر حجاب لینے پر پابندی ہے۔اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سیکولر ہیں۔اگر بھارت کا یہ مسخ شدہ چہرہ دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کہاں جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ملکی مجموعی ذخائر کم ہو کر 19.68ارب ڈالر رہ گئے