بلوچستان سے متعلق ہر پاکستانی کو تصور اور حقیقت میں فرق جاننا ہوگا:سرفراز بگٹی

Apr 30, 2025 | 12:51:PM
بلوچستان سے متعلق ہر پاکستانی کو تصور اور حقیقت میں فرق جاننا ہوگا:سرفراز بگٹی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ شناخت کی بنیاد پر بلوچ پنجابیوں کا نہیں بلکہ دہشت گرد پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں،بلوچستان سے متعلق ہر پاکستانی کو تصور اور حقیقت میں فرق جاننا ہوگا۔

میر سرفراز بگٹی کا پندرہویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کنفیوژن سے نکل کر زمینی حقائق اور واضح سوچ کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انسرجنسی کی وجہ غیر متوازن ترقی نہیں، غیر متوازن ترقی پورے پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک کا مسئلہ ہے، بیڈ گورننس اور عدم ترقی کا شکوہ حکومت سے ہوسکتا ہے ریاست سے ناراضگی کا جواز نہیں، آئین کا آرٹیکل 5 ریاست سے غیر مشروط وفاداری پر مبنی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں تاریخ سے آگاہی ضروری ہے، تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے بجائے حقائق کی تحقیق کی جانی ضروری ہے، ماضی میں قلات کے محدود آپریشن کو پورے بلوچستان میں آپریشن کا نام دیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ رحیم یار خان کے محدود آپریشن کو پورے پنجاب یا لیاری میں آپریشن کو پورے کراچی کا آپریشن نہیں کہا جا سکتا، اسی طرح قلات کے مخصوص علاقے کو پورے بلوچستان کا آپریشن کہنا درست نہیں،بلوچستان میں بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام شروع کیا جاچکا ہے، میٹرک تا پی ایچ ڈی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں غریب طالب علموں کی رسائی ممکن ہوئی، آج بلوچستان کے غریب مزدو کا بچہ وہیں پڑھ رہا ہے جہاں صاحب حیثیت فرد کا بچہ زیر تعلیم ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی بتایا کہ سویلین شہداء کے بچوں، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر کیلئے خصوصی تعلیمی اسکالرشپس مختص کی گئی ہیں، 30 ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر بیرون ملک روزگار کیلئے بھیج رہے ہیں۔