مرنے کے بعد انسانی جسم کےساتھ شروع ہونے والا حیرت انگیز اور دلچسپ عمل

Sep 29, 2025 | 12:22:PM
مرنے کے بعد انسانی جسم کےساتھ شروع ہونے والا حیرت انگیز اور دلچسپ عمل
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)انسانی جسم کے مرنے کے بعد ایک حیرت انگیز اور دلچسپ عمل شروع ہو جاتا ہے جو سیکنڈز سے لے کر مہینوں تک جاری رہتا ہے اور فطرت کے عجوبوں کو سامنے لاتا ہے۔ ذیل میں اس دلفریب عمل کے اہم مراحل کو دلچسپ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

سیکنڈز (Seconds): مرنے کے فوری بعد دماغ کی سرگرمی اچانک رک جاتی ہے، جیسے کہ ایک دماغی فلم کا اختتام ہو! جسم کا درجہ حرارت 1.6 ڈگری فی گھنٹہ کی حیرت انگیز رفتار سے کم ہوتا ہے اور کمرے کے درجہ حرارت تک پہنچ جاتا ہے، جیسے کہ جسم اپنے آخری سفر کی تیاری کرتا ہو۔

منٹس (Minutes): چند منٹوں میں خلیوں میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے، جو ایک نئی کہانی، یعنی "پوٹریفیکیشن" (Putrefaction) کا آغاز کرتی ہے ،ایک ایسی تبدیلی جو فطرت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

گھنٹے (Hours): چند گھنٹوں کے اندر کیلشیم عضلات میں جمع ہوتا ہے، جس سے "رگور مارٹس" (Rigor Mortis) نامی جادوئی حالت پیدا ہوتی ہے جو 36 گھنٹوں تک قائم رہتی ہے، اس دوران پٹھوں میں ایسی سختی آتی ہے کہ جسم مجسمے جیسا لگتا ہے اور پھر نرمی آکر پیشاب یا پیشلاب کے زخیرے کھل جاتے ہیں،ایک حیرت انگیز قدرتی ڈرامہ۔

دن (Days): چند دنوں کے بعد جلد سکڑ جاتی ہے، جیسے کہ وہ اپنی آخری خوبصورتی کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہو اور ناخن یا بال دوبارہ بڑھنے کا دھوکہ دیتے ہیں، خون گرانٹے کی طاقت سے نیچے کی طرف بہتا ہے جو ہلکی جلد پر سرخ دھبوں (reddish splotches) کی شکل میں ایک رنگین شاہکار بناتا ہے، فطرت کا فن پارہ!۔

ہفتے (Weeks): کچھ ہفتوں میں اندرونی انزائمز خود کو ہضم کرنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے کہ جسم اپنے اندر ایک چھپا کیمیا لابورٹری چلا رہا ہو! بیکٹیریا اسے تیز کرتے ہیں، جس سے جسم پر ہری دھبے بنتے ہیں، میگOTS (مگOTS) جسم کو کھانا شروع کر دیتے ہیں، جو ایک ہفتے میں 60% تک ہضم کر سکتے ہیں،ایک حیرت انگیز کھانے کا میلہ! بیکٹیریا جسم کو جامنی رنگ دیتے ہوئے اسے ہضم کرتے رہتے ہیں، جیسے کہ ایک رنگین تبدیلی کا سلسلہ چل پڑا ہو۔

مہینے (Months): اگر جسم 50 ڈگری فارن ہائیٹ پر رہے تو 5 سے 5 مہینوں میں نرمی والے بافتوں (soft tissues) غائب ہو جاتے ہیں اور صرف ہڈیوں کا شاندار ڈھانچہ باقی رہ جاتا ہے،ایک زندہ فورینسک کہانی! اس دوران بال بھی گرنا شروع ہو جاتے ہیں، جیسے کہ جسم اپنی آخری محفل کو الوداع کہہ رہا ہو۔

اس دلفریب عمل میں بدبو پیدا کرنے والے کیمیکلز جیسے پیوٹریسین (Putrescine) اور کیڈاویرین (Cadaverine) بھی خارج ہوتے ہیں، جو اس زوال کو ایک عجیب و غریب خوشبو میں بدل دیتے ہیں، یہ سب کچھ طب، فورینسک سائنس، اور فطرت کے عجوبوں سے ماخوذ ہے، جو ہر مرحلے میں ایک نئی کہانی بتانے کا باعث بنتا ہے!۔