پاکستانی حکومت سرحد پر امن کیلئے افغان دہشتگردوں سے بار بار مطالبہ کر رہی ہے:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستانی حکومت افغان طالبان سے بار بار مطالبہ کر رہی ہے کہ دہشتگرد عناصر کا قلع قمع کیا جائے، ڈیورنڈ لائن کو دونوں ممالک کے محفوظ بنایا جائے۔
پروگرام ’’سلیم بخاری شو‘‘ میں رائے دیتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کے دوران افغان سرزمین کو پاکستان مخالف دہشتگرد تنظیموں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ کیا مگر طالبان نے شواہد کے باوجود سرحد پاردہشتگردی روکنے کی کوئی ضمانت نہ دی۔
انھوں نے کہا کہ ہر مرتبہ کابل سے ملنے والی ہدایات کے باعث افغان طالبان وفد کا مؤقف تبدیل ہوتا رہا، کابل سے ملنے والے غیر منطقی اور ناجائز مشورے ہی بات چیت کے بے نتیجہ رہنے کے ذمہ دار ہیں۔
مذاکرات کے دوران کئی دفعہ معاملا ت حل کے نزدیک پہنچ گئے اور ڈرافٹ بھی تیار ہو گیا لیکن جب مذاکراتی وفد کابل فون کرتے ہیں تو وہاں کے لوگ نئی دہلی سے رابطے میں ہوتے ہیں یوں رسیاں کھنچ جاتی ہیں اور مزاکرات کی بیل کسی منڈھے نہیں چڑھ پاتی حالانکہ پاکستان کا افغانستان سے واحد مطالبہ ہےکہ سرحد پار سے دہشتگردی روکی جائے اور اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف دو ٹوک بیان دے چکے ہیں کہ اگر افغانستان کے ساتھ معاملات مذاکرات کے ذریعے حل نہ ہوئے تو پھر ہماری ان سے کھلی جنگ ہے۔
انہوں نےمزید کہا افغان وفد نے بار بار گفتگو کے اصل مسئلے سے رخ موڑا اوراس اہم نکتے سے انحراف کیا،سلیم بخاری نے مزید کہا کہ طالبان، افغان عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں،کیا یہ وجہ ہے کہ مذاکرات کے دوران افغان طالبان نے الزام تراشی اور حیلے بہانوں کا سہارا لیا۔
اس سوال کے جواب پر کہ نیتن یاہو کے حکم کے بعد اسرائیلی طیاروں کی جانب سے غزہ شہر پر کی گئی وحشیانہ بمباری میں 100 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔اگر یہی سب کچھ ہونا تھا تو غزہ امن معاہدے کا فائدہ کیا؟
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حق میں بولنے کے لیے امریکہ ہے اور دیگر یورپی ممالک بھی ہیں لیکن فلسطین کے حق میں بولنے کے لیے تو کوئی مسلم ممالک بھی نہیں ہیں اس بڑی شرم کی اور کیا بات ہوگی یعنی اگر ایک فوجی پر حملہ ہو جائے تو 100سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا لیکن کوئی مسلمان بولا، الزام یہ عائد کیا کہ حماس نے حملہ کیا جبکہ حماس نے قطعی طور پر اس بات کی تردید کی ہے کہ ایسا بلکل بھی نہیں ہے۔
حماس نے امن معاہدے کے بعد کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے جبکہ اسرائیل آئے روز غزہ کے نہتے مسلمانوں جن میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ان کو شہید کر رہا ہے ۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان پر کہ حماس تو مشرق وسطیٰ کے ساتھ امن معاہدے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے یہ بلکل نامعقول بات ہے، اسرائیل اور امریکہ پھر کس سے مذاکرات کر رہے تھے اگر حماس اتنا ہی غیر اہم تھا تو اس سے کیوں مذاکرات کیے ؟ چھوٹے حصے کو کیوں اتنی اہمیت دی؟جب تک وہ راضی نہیں ہوئے معاہدہ کیوں نہیں ہوا ؟ وہ اس لیے کہ حماس ہی تو اصل پارٹی تھے اور غزہ کے اصل فریق بھی وہی تھے۔آپ کیسے ان کو چھوڑ کر معاہد ہ کر سکتے تھے کیونکہ وہی تو اصل فریق تھے اور ہیں۔
آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے انتخاب پر رائے دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم ڈٹ گئے ہیں پارٹیاں کہہ رہی ہیں کہ آپ استعفیٰ دیں یا عدم اعتماد کا سامنا کریں وہ عدم اعتماد کا سامنا کرنے کے لیے ڈٹ گئے ہیں، دوسری طرف دیگر پارٹیوں کی آپس میں مفاہمت ہو گئی ہے۔
ن لیگ نے کہا ہے کہ ووٹ تو پیپلز پارٹی کو دے گی لیکن حکومت کا حصہ نہیں بنے گی بلکل ایسے ہی ہے جیسے وفاق میں پیپلز پارٹی نے ووٹ تو مسلم لیگ ن کو دیا لیکن حکومت میں نہیں ہے۔
پہلے بھی اتحادی حکومت ہی تھی لیکن الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد 9وزراء جوکہ پی ٹی آئی کے ممبر تھے وہ اب آزاد قرار دیئے جا چکے ہیں اور انہوں نے باقاعدہ پیپلز پارٹی جوائن کر لی ہے۔ بخاری صاحب نے اُمید ظاہر کی کہ آزاد کشمیر کا مسئلہ جلد ہو جائے گا اور حکومت سازی کا مرحلہ جلد تکمیل کو پہنچ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان نیوی کی کمانڈاینڈسٹاف کانفرنس نیول ہیڈکوارٹرزاسلام آبادمیں اختتام پذیر