اے آئی کی وجہ سے دنیا بھر کی کمپنیوں نے ملازمتوں میں کٹوتی کی رفتار تیز کر دی

Oct 29, 2025 | 20:10:PM
اے آئی کی وجہ سے دنیا بھر کی کمپنیوں نے ملازمتوں میں کٹوتی کی رفتار تیز کر دی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) کمزور معاشی رجحانات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال کے باعث عالمی کمپنیوں میں ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی کی جانے لگی ہے۔

دنیا بھر کی کمپنیوں نے ملازمتوں میں کٹوتی کی رفتار تیز کر دی ہے،بڑی بین الاقوامی کمپنیوں، جن میں ایمیزون (Amazon)، نیسلے (Nestlé) اور یو پی ایس (UPS) شامل ہیں نے اخراجات میں کمی شروع کر دی ہے۔

اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ایک صارفین کے اعتماد میں کمی آ رہی ہے اور دوسری طرف مصنوعی ذہانت (AI) پر مرکوز ٹیکنالوجی کمپنیاں انسانی ملازمتوں کو خودکار نظام سے تبدیل کرنے لگی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکی کمپنیوں نے صرف رواں ماہ میں 25,000 سے زائد ملازمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے، اس میں یو پی ایس کے 48,000 ملازمین کی کٹوتی شامل نہیں جو 2025 کے آغاز سے لاگو ہوگی۔

یورپ میں یہ تعداد 20,000 سے تجاوز کر گئی ہے جس میں سب سے بڑا حصہ نیسلے کا ہے جس نے گزشتہ ہفتے 16,000 ملازمین کی کمی کا اعلان کیا تھا۔

چوںکہ امریکا کی حکومت اپنی تاریخ کے دوسرے طویل ترین شٹ ڈاؤن (تعلقاتِ عامہ کی بندش) سے گزر رہی ہے، اس لیے ملازمتوں میں کمی کے مجموعی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔

نیویارک کی سرمایہ کاری کمپنی 50 پارک انویسٹمنٹس کے چیف ایگزیکٹیو ایڈم سرہان نے کہا کہ ایمیزون جیسی کمپنیوں میں ملازمتوں کی کٹوتی اس بات کا اشارہ ہے کہ معیشت سست پڑ رہی ہے، مضبوط نہیں ہو رہی۔ جب معیشت مضبوط ہو تو بڑے پیمانے پر ملازمین کو نہیں نکالا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں ؛ فیس بک میں خاموشی سے ایک بہترین فیچر کا اضافہ کر دیا گیا