جرات کی کوئی جینڈر نہیں، تنقید کو نظر انداز کریں، آگے بڑھیں، پنجاب میں "عورت راج" ہے، مریم نواز کی عورتوں کے عالمی دن پر گفتگو

Mar 29, 2026 | 18:52:PM
 جرات کی کوئی جینڈر نہیں، تنقید کو نظر انداز کریں، آگے بڑھیں، پنجاب میں
کیپشن: فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(راؤ دلشاد)وزیراعلیٰ  مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ جدید جہد کرنےوالی خواتین دوسروں کے لئے رول ماڈل ہیں۔ بچیوں سے کوئی کہے  کہ "آپ کسی سے کم ہیں",   تو اس بات پر کبھی یقین نہ کریں۔خود پر اعتماد کریں اور آگے بڑھیں۔ مریم نے مزید  کہا کہ معاشرہ کے مرد عورت پر اعتماد کریں گے تو وہ وہ کچھ کردکھائے گی جو آپ سوچ نہیں سکتے۔

مریم نوازشریف نے یہ باتیں  آج لاہور میں عالمی یوم خواتین پر  عورتوں کی خدمات کو تسلیم کرنے کے لئے منعقد کی گئی ”ہم لیڈرایوارڈ“ کی تقریب سمیں گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ 

مریم نوازشریف نے کہا، ویمن لیڈر ایوارڈ کی پروقار  تقریب میں شرکت میرے لئے باعث فخر ہے،شکریہ اد اکرتی ہوں۔

انہوں نے کہا،  خواتین کی خود مختاری،طاقت اورصلاحیت میرے دل کے قریب ہے۔ایوارڈ حاصل کرنے والی خواتین کو سلیوٹ پیش کرتی ہوں، عورت کے لئے خودمختاری کا سفر آسان نہیں۔میرا سفر بھی بحیثیت عورت دوسروں سے زیادہ مختلف نہیں، دور سے سب اچھا لگتا ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہوتا۔ مخصوص مائنڈ سیٹ سے لڑکر سامنے آئی اوراپنے آپ کو منوایا۔
پنجاب بلکہ پاکستان کی پہلی سی ایم بننے کا اعزاز حاصل کیا، سی ایم بننا ہر ماں،بہن اوربیٹی کیلئے اعزاز ہے۔
آج لوگ کہتے ہیں پنجاب اچھا پرفارم کررہا ہے کیوں پرفارم کررہا ہے اس کے پیچھے محنت ہیں۔
اللہ تعالی نے جب محبت کی مثال دی تو کہا کہ میں 70ماؤں سے زیادہ پیارکرتا ہوں۔
سلطانہ آپا جیسے عظیم خواتین کے بچے ان کی قدرکرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کتنی قربانیاں دی گئی ہیں۔
پنجاب 12کروڑ عوام کا صوبہ ہے،جہاں گلی،محلو ں،سڑکوں کی صفائی اورانفراسٹرکچر کو بہتر کیا جا رہاہے۔
پنجاب میں خواتین کو تحفظ کے ساتھ رزق کمانے کے مواقع دیئے جارہے ہیں۔
پنجاب کی سڑکیں اورپارک سجے دیکھ کر ایسی خوش ہوتی ہوں جیسے ماں خوش ہوتی ہے۔
کسی چھوٹے سے شہر میں چھوٹا سا پارک بھی بن جائے تو خوشی کی انتہاء نہیں رہتی۔
بہت مراعات یافتہ اوراچھے گھرسے تعلق ہونے کے باوجود میرے والد مشرقی روایات کے امین ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  صحتمند پنجاب کی جانب اہم قدم! چیف منسٹرز کارڈیک سرجری پروگرام کا باقاعدہ آغاز

چیف منسٹر مریم  نے اپنی سیاسی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا،  ڈری سہمی لڑکی کا سی ایم بننا آسان سفر نہیں،کرسی تک پہنچنا آسان نہیں تھا،میری جہدوجہد کے سفر کو لوگ نہیں جانتے۔

مریم نے کہا۔  جب میں اڈیالہ جیل میں تھی تو پتہ نہیں تھا کہ میرا جرم کیا ہے۔ آفس میں سی ایم ہوتی ہوں لیکن گھر میں ایک ماں ہوتی ہوں۔ مرد حضرات بہت محنت کرتے ہیں مگر خواتین بیک وقت کئی امور کو متوازی لے کر چلتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہرجماعت، سیاسی جماعت پر مردوں کی اجارا داری ہے۔

سی ایم مریم نے کہا،  میں تو مردوں کی اجارداری کے معاشرے میں سی ایم بننے کا سوچ نہیں سکتی تھی۔ والد اورچچا وزیراعلیٰ وزیراعظم کے عہدوں پر بارہا فائز رہے۔ تین مرتبہ پرائم منسٹر اورتین مرتبہ وزیراعلیٰ کی بھتیجی ہونا اعزاز تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مشکل بھی بہت تھا۔

مریم کی مختصر عرصہ میں خدمت کا امپیکٹ؛ ماں کا سٹیٹس مل گیا

سی ایم مریم نے  اپنی  خدمت کے مختصر عرصہ کے امپیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ، اب  چھوٹے شہروں میں جائیں تو بچے مجھے سب کی ماں کہتے ہیں۔مریم نوازشریف
 اللہ تعالی کے فضل و کرم سے سکول میں زیر تعلیم دو بچوں کی نانی بھی ہوں۔

مریم نوازشریف نے بتایا کہ میری  پارٹی کے ہی  لوگ کہتے تھے کہ مریم  صوبہ کیسے چلائے گی، بڑے کہتے تھے کہ مریم کیسے بگڑے ہوئے نظام کو ٹھیک کرے گی۔  میں آج فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ لیڈر شپ صنفی امتیاز سے ماورا ہوتی ہے۔ میں ایک خاتون ہو کر صوبے کی اکانومی،زراعت اورانفراسٹرکچر اورپولیس سمیت دیگر محکمے چلا رہی ہوں۔

سی ایم مریم نے بتایا کہ ہمارے معاشرہ میں والد،بھائی اورشوہر کہتے ہیں کہ عورت کے سر پر عزت کا بوجھ ہے۔ اس سوچ کا ایک اثر یہ ہوتا ہے کہ کوئی ظلم ہوجائے تو بچی ڈر کے مارے بتانہیں سکتی۔ میں کہتی ہوں کہ جس سے زیادتی ہو،اس کے سر پر ہاتھ رکھا جائے۔

مریم نوازشریف نے حاضرین کو بتایا کہ میرے والدمجھے کہتے تھے، تم نے  گھبرانا نہیں!  میں تمہارے پیچھے کھڑا ہوں۔ سی ایم نے کہا،  والدین ساتھ ہیں تو بیٹیاں وہ کامیابیاں لائیں گی جس پرسر فخر سے بلند ہوگا۔

پنجاب میں ہمہ گیر عورت راج!

مریم نواز شریف  نے مزید کہا،  آج پنجاب میں وزیراعلیٰ،چیف جسٹس، کئی وزرا، کئی صوبائی سیکرٹری،کمشنر،ڈپٹی کمشنر اورڈی پی اوخواتین ہیں۔

انہوں نے کہا، خواتین پاک فوج، ایئراورنیوی میں آرہی ہیں، انجینئیر اور ڈاکٹر بن رہی ہیں۔ یہ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔

خواتین کی اوپن میرٹ پر کامیابیاں

مریم نوازشریف نے بتایا کہ میں نے کسی سرکاری سکیم میں خواتین کا کوٹہ نہیں رکھا۔ اوپن میرٹ پر جتنی بھی آجائیں، انہین احترام کے ساتھ بہترین جگہ ملے گی۔مریم اورنگزیب،عظمیٰ بخاری،ثانیہ عاشق اورسلمیٰ بٹ شاندار کام کررہی ہیں۔مریم نوازشریف

میں کہتی ہوں کہ میرٹ کی کوئی جینڈر نہیں ہوتی۔مریم نوازشریف

فسیلی ٹیشن اور سہولیات

مریم نوازشریف نے بتایا کہ ہم  وسائل سے محروم بچوں کوہونہار سکالرشپ دے رہے ہیں۔ گرین بسوں میں لیڈز ڈیپارٹمنٹ الگ ہے خواتین سے کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا۔ خواتین بزنس کرتی ہیں،ملازمت کرتی ہیں اورمحنت کرتی ہیں۔

تحفظ اور مدد

مریم نوازشریف نے بتایا کہ  بچیوں کو ہراسانی جیسے واقعات سے محفوظ رکھنے کیلئے ورچوئل پولیس سٹیشن قائم کئے ہیں۔
خواتین کے لئے تھانے جانا تکلیف دہ ہوتا ہے، اب وہ شکایت کرنا چاہیں تو  ویڈیو کال کرسکتی ہیں۔مریم نوازشریف نے یاد دلایا کہ پنجاب کی حکومت نے جگہ جگہ  "پینک بٹن" لگائے ہیں جہاں صرف بٹن دبانے پر پولیس پہنچ جاتی ہے۔

مریم نوازشریف نے بتایا کہ  ٹرین میں بچی کو ہراساں کرنے کی اطلاع پر ملزم کو اگلے ہی سٹیشن پر پولیس نے گرفتار کرلیا۔ لاہور کے بازاروں میں  تجاوزات ختم کرکے وسیع کیا تاکہ خواتین کو ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سی سی ٹی وی کیمرے کی مدد سے بھی مانیٹرنگ پر خواتین کی مدد کی جاتی ہے۔

چیف منسٹر نے فخر کے ساتھ بتایا کہ اب  پنجاب کی خاتون اب خود کومحفوظ تصورکرتی ہے۔ سیف سٹی کے ذریعے متعد دبچیوں کوبلیک میلنگ سے تحفظ فراہم کیا۔  عور ت کے آنے سے پنجاب میں فرق پڑا ہے۔
چیف منسٹر نے کہا بیٹیوں سے کہتی ہوں کہ کبھی نہ سوچیں کہ کسی چیز کی کمی ہے اورمردحضرات سے کہتی ہوں کہ عورت پر بھروسہ کریں۔ اگر پاکستان کی 51فیصد ورک فورس ترقی کی جدوجہد میں حصہ نہیں ڈالیں گی تو ترقی پیچھے رہ جاتی ہے۔

بیٹیاں باپ کا سہارا

بیٹی ساتھ ہو تو ہر والد دنیا کا سب سے اہم شخص ہوتا ہے، 2016میں پانامہ کا جھوٹا کیس بنایا گیا تو والد کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہوگئی۔ گرم ہوائیں چل رہی تھی لیکن عہدکیا کہ اپنے والد کو گرم ہوا نہیں لگنے دوں گی۔ 

بیمار ماں کو چھوڑ کر وطن واپس آئی تو سیدھے اڈیالہ جیل بھیجاگیا۔ اڈایالہ جیل میں موت کی کوٹھڑی سے آسمان تک نظر نہیں آتا۔  وکیل نے کہا کہ عورت کی حیثیت سے آپ کو جیل میں رعایت مل سکتی ہے، پڑھی لکھی ہوں،بی کلاس مل سکتی ہے،کولر وغیرہ مل جائیگا، وکیل کو منع کر دیا۔

چی ایم  مریم نے جیل میں گزارے دن یاد کرتے ہوئے بتایا کہ 50ڈگری پر جیل کا سیل تپ رہا ہوتا تھا،سیل میں جائے نماز بچھانے کیلئے بھی پوری جگہ نہیں تھی۔ اللہ کے پلان کو کوئی نہیں سمجھ سکتا،ہر مشکل دراصل ایک موقع ہوتا ہے۔

سی ایم کے کپڑے جوتے پر ہی کیوں نظر

سی ایم میرم نے اپنے مخالفوں کے بچگانہ طرز عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کسی مخالف کا نام لئے بغیر کہا،  مخالفین کپڑے،جوتے دیکھتے ہیں،اچھا لگنا فطرت ہے،تنقید ہوتی ہے تو اگلے دن اس سے بھی اچھے کپڑے پہنتی ہوں۔
کپڑوں پر تنقید کا مطلب یہ ہے کہ میں جیت چکی ہوں،مخالفین کو اورکچھ سمجھ نہیں آتا۔مریم نوازشریف نےکہا کہ  ہماری معاشرتی روایت کے مطابق سب کو اچھا لگنا چاہیے،آپ بھی اچھے لگ سکتے ہیں۔

بیٹیاں گھبرائیں نہیں، سب خواب پورے ہوں گے

میں بیٹیوں سے کہتی ہوں کہ گھبرانانہیں میں آپ کو سپورٹ کروں گی اورآپ کے خواب پورے کروں گی۔مریم نوازشریف نے یاد دلایا کہ جرات کی کوئی جینڈر نہیں ہوتی ہے۔  کسی تنقید کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ 

خواتین کے لئے ایوارڈز
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے وویمن لیڈر ایوارڈ حاصل کرنے والی خواتین یاسمین قریشی،انیس ہارون،جہاں آرااورمائی جنداکو ایوارڈ دیئے