اسرائیل:2500 سال پرانی بچوں کی قبر دریافت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) اسرائیل میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے یروشلم کے جنوب مغرب میں واقع قدیم شہر ازیکہ کے کھنڈرات میں ایک زیرِ زمین پانی کے ذخیرے کی کھدائی کے دوران ایک ہولناک دریافت کی، یہ قدیم ذخیرہ جہاں ٹوٹے برتنوں اور مٹی سے بھرا ہوا تھا، وہیں اس میں بچوں کے درجنوں ڈھانچے بھی موجود تھے۔
تحقیق کے مطابق یہ اجتماعی قبر قریباً 2500 سال قبل فارسی دور میں استعمال ہوتی رہی، جس میں زیادہ تر 2 سال سے کم عمر بچوں کی باقیات شامل ہیں، اس جگہ سے مجموعی طور پر 89 افراد کی باقیات ملی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت آثارِ قدیمہ کے ایک پرانے معمہ کو حل کرنے میں مدد دیتی ہے، کیونکہ اس دور کی قبروں میں کم عمر بچوں کی عدم موجودگی ایک سوال تھا۔
تحقیق کے مطابق یہ بچے کسی قتلِ عام یا وبا کا شکار نہیں لگتے بلکہ غالب امکان ہے کہ انہیں طویل عرصے تک قدرتی وجوہات سے مرنے کے بعد یہاں دفن کیا جاتا رہا۔
مزید پڑھیں:امریکی حملہ، کراچی کا نوجوان ایران میں شہید
ازیکہ ایک قدیم پہاڑی بستی تھی جو وادی ایلا کے قریب واقع تھی اور بائبل میں حضرت داؤد اور جالوت کے معرکے کے حوالے سے مشہور ہے، یہ بستی 4 ہزار سال قبل کانسی دور میں آباد ہوئی۔
تل ابیب یونیورسٹی کے ماہر آثارِ قدیمہ کے مطابق اس دریافت کی نوعیت اتنی حساس تھی کہ کئی سال تک اس پر کام نہیں کیا گیا، کیونکہ مردہ بچوں کی باقیات سے متعلق تحقیق جذباتی طور پر مشکل تھی۔
یہ کنواں ابتدا میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا، تاہم 586 قبل مسیح میں بابلی حملے کے بعد یہ غیر استعمال شدہ ہوگیا، بعد ازاں فارسی دور میں اسے اجتماعی قبر کے طور پر استعمال کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق اس قبر میں دفن افراد میں سے قریباً 90 فیصد کی عمر 5 سال سے کم جبکہ 70 فیصد کی عمر 2 سال سے بھی کم تھی۔
باقیات پر تشدد یا کسی بیماری کے واضح آثار نہیں ملے، جس سے یہ امکان کم ہو جاتا ہے کہ یہ کسی ایک بڑے حادثے یا وبا کا نتیجہ ہو۔