بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے نجکاری کا عمل آسان ہو جائیگا،وزیراعظم

Jul 29, 2025 | 23:41:PM
بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے نجکاری کا عمل آسان ہو جائیگا،وزیراعظم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی) وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی آنا انتہائی خوش آئند ہے،بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے ان کمپنیوں کی نجکاری کا عمل آسان ہو جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا،اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی آنا انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے ان کمپنیوں کی نجکاری کا عمل آسان ہو جائے گا۔وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخر عالم اور انکی ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا۔وزیراعظم نے بہترین کارکردگی دکھانے والی اور خسارے میں کمی لانے بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ستائشی خطوط بھیجنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی تقیسم کار کمپنیوں اور گردشی قرضوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کا خسارہ 193 ارب روپے کم ہوا ہے ۔لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے خسارے میں کمی کے حوالے سے سب سے اچھی کارکردگی دکھائی ۔ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں 242 ارب روپے کی بہتری آئی ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گردشی قرضوں کا فلو 780 ارب روپے رہا ہے۔ اس موقع پر کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور ڈویژن کی سفارش پر نیشنل الیکٹریسٹی پلان -اسٹریٹجک ڈائریکٹو 87 میں ترامیم کی منظوری دیدی۔ ان ترامیم کے تحت بجلی کی ترسیل کے اخراجات (wheeling charges) 12.55 روپے فی کلو واٹ ، اور بڈنگ پرائیس   اس میں شامل ہو گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈیپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کی آپریشنلائزیشن کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اسی طرح نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی اور بجلی تقیسم کار کمپنیوں میں مارکیٹ آپریشنز کے محکموں تشکیل دیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا فلسطین کے لیے فوری امدادی پیکج کا اعلان