برطانیہ کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا مشروط اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )برطانوی وزیراعظم کئیراسٹارمر اور ان کے سینئر وزرا نے ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کئیر اسٹارمر نے ایک ہنگامی ورچوئل کابینہ کا اجلاس منعقد کیا جہاں انہوں نےسینئر وزرا کو بتایا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ غزہ میں امن کے لیے اپنا منصوبہ پیش کیا۔
واضح رہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں ۔
کیئراسٹارمر نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی اور 2 ریاستی حل کی ضمانت دینا ہو گی، اسرائیل کو غرب اردن میں الحاق نہ کرنے کی بھی ضمانت دینا ہو گی, اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے جمعہ کو کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کی دیرپا سلامتی کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے۔
برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم نے اصرار کیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بارے میں ’’غیر متزلزل‘‘ ہیں، تاہم انھوں نے کہا کہ وہ تب تسلیم کریں گے جب اس سے ’’مصیبت کے شکار لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ افادیت یقینی ہو۔‘‘
کیئر اسٹارمر نے کہا فلسطینی ریاست کا قیام وسیع تر امن منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے، دو ریاستی حل ہی پائیدار امن کا راستہ ہے، فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے وقت اور حکمت عملی ضروری ہے، اور فلسطینیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے مؤثر پالیسی کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ 221 برطانوی ارکان پارلیمنٹ پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں، اور برطانوی وزیر اعظم کی پالیسی پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، اور فلسطین کو تسلیم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس ستمبر میں فلسطین کو تسلیم کرلے گا، یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کیلئے کیا ہے, فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فلسطینی ریاست قبول کرنے کا وہ باقاعدہ اعلان ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کریں گے۔
فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ نے صدر ایمانوئل میکرون کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے, اب سعودی وزارت خارجہ نے بھی ایمانوئل میکرون کے اعلان کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امید ہے دیگر ممالک بھی اسی سمت میں قدم اٹھائیں گے۔
سعودی عرب اور فرانس اٹھائیس تا انتیس جولائی کو دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کریں گے تاہم امریکا نے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :بھارتی لوک سبھا میں بھی پاکستان کے ہاتھوں رافیل گرانے کی تصدیق