یوکرینی ڈرون حملے،روس کی اہم ریفائنریاں بند،یومیہ پیداوار تقریباً 80 ہزار ٹن رہ گئی

Aug 29, 2026 | 09:35:AM
یوکرینی ڈرون حملے،روس کی اہم ریفائنریاں بند،یومیہ پیداوار تقریباً 80 ہزار ٹن رہ گئی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روس میں پٹرول کا بحران ایک بار پھر شدت اختیار کرگیا، ملک میں پٹرول کی پیداوار گھٹ کر ملکی طلب کے تقریباً 70 فیصد تک رہ گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے  کے مطابق دو صنعتی ذرائع نے بتایا کہ اگست کے اختتام پر روس میں پٹرول کی یومیہ پیداوار تقریباً 80 ہزار ٹن رہ گئی، جبکہ ملک میں روزانہ طلب تقریباً 115 ہزار ٹن ہے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرینی ڈرون حملوں نے روس کی کئی اہم آئل ریفائنریوں کو آپریشن معطل کرنے پر مجبور کردیا۔ ان میں پرم، نزنی نووگورود اور یاروسلاول کی ریفائنریاں شامل ہیں، جو موٹر پٹرول کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ریفرائنریوں کی بندش کے باعث پٹرول کی پیداوار اور مارکیٹ کی طلب کے درمیان فرق بڑھ کر تقریباً 35 ہزار میٹرک ٹن یومیہ ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق روس میں اگست کے دوران پٹرول کی اوسط یومیہ پیداوار تقریباً 90 ہزار ٹن رہی، جو گرمیوں کی متوقع یومیہ طلب 115 ہزار ٹن کا تقریباً 80 فیصد بنتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:پیٹرول کی قیمتوں میں تاریخی کمی؟ ٹرمپ نے شہریوں کو بڑی خوشخبری سنا دی !

ایندھن کی قلت کے باعث روس کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر پٹرول کی فروخت پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ بعض علاقوں میں فی صارف خریداری کی مقدار محدود کردی گئی ہے، جبکہ کہیں گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبر کے مطابق پٹرول فروخت کرنے کے اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔

پٹرول اسٹیشنز پر طویل قطاروں اور ایندھن ختم ہونے کے خدشے کے باعث بعض ڈرائیور غیر ضروری سفر سے بھی گریز کر رہے ہیں، جس سے قلت کے اثرات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔

روس نے بیرونِ ملک سے پٹرول منگوانا شروع کردیا
پٹرول کی مقامی پیداوار میں کمی نے روس کو پٹرولیم مصنوعات کی درآمد بڑھانے پر مجبور کردیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق اگست میں ایشیائی ممالک سے سمندری راستے کے ذریعے تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار ٹن پٹرولیم مصنوعات روس پہنچنے کی توقع ہے۔

اس کے علاوہ بیلاروس سے پٹرول کی درآمد تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار ٹن تک پہنچنے کا اندازہ ہے، جو روزانہ تقریباً 5 ہزار ٹن بنتی ہے۔

تاجروں کے اندازے کے مطابق اگست میں اب تک تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار ٹن درآمد شدہ پٹرول روس پہنچ چکا ہے، جبکہ اوسطاً روزانہ تقریباً 7 ہزار ٹن پٹرول درآمد کیا جا رہا ہے۔

روس نے مقامی مارکیٹ میں سپلائی برقرار رکھنے کے لیے پٹرول کی برآمدات پر پابندی بھی عائد کر رکھی ہے، جو 31 جنوری تک برقرار رہنے کی توقع ہے۔

رائٹرز کے مطابق درآمدات اور مقامی پیداوار کو ملا کر اگست میں روسی مارکیٹ کو اوسطاً تقریباً 97 ہزار ٹن یومیہ پٹرول دستیاب ہوسکتا ہے، جو ملکی طلب کا تقریباً 85 فیصد بنتا ہے۔

یوں یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روس کی توانائی تنصیبات پر دباؤ بڑھنے سے پٹرول کی مقامی پیداوار اور طلب کے درمیان فرق مزید نمایاں ہوگیا ہے۔