لگتا ہے بھارت کو دوسری بار پھر سبق سکھانا پڑے گا ؛ سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا کہ جس قسم کی حرکات بھارت کر رہا ہے لگتا ہے کہ اس کو دوسری بار پھر سبق پڑھانا پڑ جائے لیکن اگر ایسا ہو اتو پھر انڈا یاد رکھے کہ پھر اب جو بھارت کو سبق پڑھایا جائے گا وہ اپنے سلیبس کی کتابوں میں بچوں کو پڑھائیں گے ۔
24 نیوز کے پروگرام ’’ سلیم بخاری شو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ بھارت جس طرح بارڈر پر حرکتیں کر رہا ہے ویسا ہی جواب مل رہا ہے،انہوں نے کہا کہ بزدل دشمن سے اپ کبھی لاتعلق نہیں رہ سکتے ہر وقت اس کی تلاش میں رہنا چاہیے کہ وہ کیا کر سکتا ہے اور ہم ا س کے ساتھ کی کچھ کر سکتے ہیں۔
سلیم بخاری کا کہنا تھاکہ بھارت سر کریک کے علاقے میں کوئی مس ایڈونچر کرنے کا پلان بنا رہا ہےیہ ایک حسا س علاقہ ہے لیکن پاکستان نے بھی پلان کیا ہے کہ ہمیں بھی بھارت کی کوئی نا کوئی سافٹ ویلی تلاش کرتے رہنا چاہیے،لہذا جنرل شمشا د مرزا کا دورہ بنگلہ دیش کا دورہ بہت اہم ہے۔
جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے سرکاری دورۂ بنگلادیش کے دوران چیف ایڈوائزر محمد یونس، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمد نازم الحسن، چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل حسن محمود خان اور آرمڈ فورسز ڈویژن کے پرنسپل سٹاف آفیسر لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم سے الگ الگ ملاقاتیں کیں،وہ جو اتنی دہائیوں کی دوریان تھیں وہ قربتوں میں بد لنے لگی ہیں،دونوں ممالک نے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون میں بہتری کے حوالے سے امید ظاہر کی اور عسکری سطح پر تعلقات اور مشترکہ اقدامات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقاتوں میں بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورتِ حال اور سیکیورٹی کے چیلنجز پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور اس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے،جنرل شمشاد ایک کو ایک ایسی جگہ کا بھی دورہ کرایا جائے گا جس کو چکن نیک کہا جاتا ہے،اس پٹی کے ساتھ بھارت کی7 ریاستیں جڑی ہوئی ہیں جہاں پر علیحدگی پسندی کی تحریکیں کافی عرصہ سے چل رہیں ہیں،اس کا مطلب موسٹ سافٹ ویلی بھارت اور وہ حصہ جس کو اسانی سے ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے اگر بھارت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ہم بھارت کو ایک نیا سبق سکھا کر چھوڑیں گے۔
سلیم بخاری نے ترکیے میں پاک افغان طالبان مذاکرات کے تیسرے دور اوراس پر ڈیولپمنٹ پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات دیرینہ ہیں جس میں ہم نے مشترکہ طور پر روس کے خلاف جنگ بھی لڑ لی اور وہ جنگ ہم نے جیت بھی لیکن یہ نہیں پتہ کیسے،نہ تو ان کے پاس ہتھیار تھے نہ کوئی سٹریٹجی تھی نہ کوئی فوجی اور فوجی تربیت تھی بحرحال دعویٰ کرنے میں کی لگتا ہے،تعلقات کی نوعیت کے مطابق ہمارا اندازہ تھا کہ جب ہم ان کے ساتھ مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھیں گے توکوئی نہ کوئی بات بن جائے گی، اس کے بارے میں پاکستان کا رویہ اتنا پازیٹو تھا لیکن بد قسمتی سے وہ ہتھے چڑھ گئے ہیں ایک مکار ملک بھارت اور مکار شخص کے جس کو مودی کہتےہیں اس لیے اگر کہا جائے کہ یہ وہ طالبان نہیں ہیں جنہیں ہم جانتے تھے۔
سلیم بخار ی نے کہا ترکیے کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کا آغاز ہو گیا ہے، پاکستان نے افغان حکام کو دہشت گردی کی روک تھام کا جامع پلان دیا تھا جبکہ اس حوالے سے انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کا بھی حوالہ دیا کہ افغان طالبان کے پاس دو ہی آپشن ہیں یا تو امن کے ساتھ رہیں یا پھر ہماری ان کے ساتھ کھلی جنگ ہے۔
اس حوالےسے استنبول مذاکرات، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی سر پرستی منظور نہیں،انہوں نے پاکستانی موقت دہرایا کہ پاکستان نے اپنا مؤقف پیش کردیا کہ دہشت گردی کے خاتمےکے لیے ٹھوس اور یقینی اقدامات کرنے ہوں گے جبکہ انہوں نے اس کے برعکس طالبان کے دلائل غیرمنطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر ہیں،صاف نظر آرہا ہےکہ افغان طالبان کسی اور ایجنڈے پر چل رہے ہیں،یہ ایجنڈا افغانستان، پاکستان اور خطےکے استحکام کے مفاد میں نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں مزید پیشرفت افغان طالبان کے مثبت رویے پر منحصر ہے،پاکستان کے مطالبات مکمل واضح، شواہد پر مبنی اور مسئلے کا حقیقی حل ہیں،افغان طالبان کی ہٹ دھرمی اور عدم تعاون معامالات کو مزید بگاڑے گا۔
سلیم بخاری نے کہا پاکستان کے دہشت گردی کے متعلق سب سے بڑے مطالبے پرکوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ مذاکرات کارترکیہ کوشش کر رہا ہےکہ طالبان وفد زمینی حقائق اور شواہد کو سمجھے اور سنجیدگی سے تعاون کرے تاکہ مذاکرات نتیجہ خیز ہوسکیں۔
پاک فوج غزہ فورس کا حصہ بننے جا رہی ہے؟
غزہ میں تعینات کی جانیوالی بین الاقوامی فورس میں پاکستانی فوج کی شمولیت پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ غزہ میں 2 سالہ جنگ کے بعد استحکام قائم کرنے کے لیے تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی فورس میں پاکستان کے فوجی دستے بھی شامل ہو سکتے ہیں،اس بین الاقوامی فورس میں انڈونیشیا، آذربائیجان اور پاکستان کے فوجی شامل ہوں گے۔
انڈونیشیا پہلے ہی اس مشن کے لیے اپنی فوج بھیجنے کی پیشکش کر چکا ہے،پاکستانی فوجیوں کی ممکنہ شمولیت کے بارے میں اب تک باضابطہ طور پر کوئی اعلان یا عوامی سطح پر تذکرہ نہیں کیا گیا لیکن وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے غزہ میں پاکستانی افواج کی تعیناتی کے حوالے سے کہا تھا کہ اس بارے میں وزارت خارجہ جواب دے گی۔
انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی فوجی اس فورس کا حصہ بننے جا رہے ہیں کہ نہیں اگر اس فورس میں پاکستانی فوجی بھی ہوں گے تو نیتن یاہو کوئی لبرٹی نہیں لے سکتا اس علاقے میں۔
یہ بھی پڑھیں :لیبیا کشتی حادثہ، 2 ملزمان کو 20، 20 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی