عمران خان صحت مند ہیں،قانون کسی قیدی سے سیاسی ہدایات لینے کی اجازت نہیں دیتا؛بیرسٹر عقیل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نےکہا ہے کہ کوئی بھی قانون یہ اجازت نہیں دیتا کے کسی قیدی سے سیاسی ہدایات لی جائیں،عمران خان بالکل صحت مند ہیں، کیس کے حوالے سے اگر وکلا نے کوئی بات کرنی ہے تو وکلاء کی عمران خان سے ملاقات ضرور ہونی چاہیے۔
پروگرام نسیم زہرا @پاکستان میں گفتگو ہوئےکرتے ہوئے وزیر مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق چلنا پڑتا ہے کسی کی خواہش کے مطابق نہیں چلا جا سکتا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروانے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں بلکہ جیل سپرینڈنٹ کے پاس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 28 ستمبر 2023 کے بعد سے اب تک 870 لوگ عمران خان سے ملاقات کر چکے ہیں،4 جولائی 2019 کو ن لیگ کے 40 اراکین نواز شریف سے جب جیل میں ملنے گئے تھے تو انہیں نہیں ملنے دیا گیا،کوئی بھی قانون یہ اجازت نہیں دیتاکہ کسی قیدی سے سیاسی ہدایات لی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں،کیس کے حوالے سے اگر وکلا نے کوئی بات کرنی ہے تو وکلاء کی عمران خان سے ملاقات ضرور ہونی چاہیے۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پہلے عمران خان کو ریلیف مل رہا تھا، ملاقاتیں ہو رہی تھی،جب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں نئے چیف جسٹس آئیں ہیں، تب سے یہ حالات خراب ہوئے ہیں ،جب نواز شریف جیل میں تھے تب ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جیل مینول پہلے بھی وہی تھا تو تب کیوں ملنے دیتے تھے اور آج نہیں ملنے دے رہے،انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک مجھے لگتا ہے علی امین گنڈا پور نے عمران خان کی صحت کے حوالہ سے بیان دینے سے پہلے ضرور عمران خان کو آن لائن دیکھا ہو گا،پھر یہ بیان دیا ہو گا۔
پروگرام میں بات کرتے ہوئے نیازی اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ جیل مینول میں یہ ہر قیدی کا ہفتہ میں 2 ملاقاتوں کا حق ہے،میں عمران خان کا ترجمان ہو لیکن 2 اپریل کے بعد میری عمران خان سےملاقات نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرحکومت کا بیانیہ ہے کہ 26 نومبر اور 24 اکتوبر کی وجہ سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی تو یہ ملاقات تب کیوں نہیں بند کی آج بند کر دی ہیں،عمران خان کے کیسز بھی ہائی کورٹ میں نہیں لگ رہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ 3 ہفتوں سے عمران خان کی کسی سے ملاقات ہی نہیں ہوئی تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سازشوں کی جڑ یہ افغان بستی سب کی نگاہوں سے اوجھل!