شوگر سیکٹر میں نیا گٹھ جوڑ،چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)چینی کی قیمتوں میں مزید اضافےکا خدشہ پیداہوگیااورشوگر سیکٹر میں نیا گٹھ جوڑسامنے آگیاجبکہ مسابقتی کمیشن نے 10شوگر ملز مالکان کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
ملک میں چینی کی قیمتیں 200 سے لےکر 229 روپےکلو تک پہنچ گئیں جبکہ شوگرانڈسٹری نےکرشنگ سیزن تاخیر سے شروع کرنےکے لیے ایک بار پھرگٹھ جوڑکرلیاجس کےنتیجےمیں چینی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے شوگر انڈسٹری میں نئے گٹھ جوڑ پر ملز مالکان کے خلاف دوبارہ تحقیقات شروع کردیں۔
شوگرملزپرگنے کی قیمت 400 روپےفی من فکس کرنے کا الزام ہے،مسابقتی کمیشن نے گنےکی کرشنگ میں تاخیر پر 10 شوگرملوں کو شوکازنوٹس جاری کرکے 14 دن میں جواب طلب کرلیااورجواب جمع نہ کرانے پرقانونی کارروائی کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
کمیشن کے مطابق فاطمہ شوگر ملز میں 10 نومبر 2025 کی کارٹیل میٹنگ کی تصدیق ہوگئی جس میں کرشنگ 28 نومبر سے شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ پنجاب شوگر کین کمشنر کی ہدایت کے مطابق 15 نومبر سے کرشنگ شروع کرنا لازمی تھا۔
کارٹلائزیشن اجلاس کے دوران بھکر، ڈی آئی خان،سرگودھا اور جنوبی پنجاب زون کے شوگرملزمالکان مسلسل رابطے میں تھے،گنے کی کرشنگ میں تاخیر سے چینی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے صارفین اور کسانوں کو اربوں روپےنقصان کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
مسابقتی کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ گٹھ جوڑ کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی ہے، چیئرمین مسابقتی کمیشن ڈاکٹر کبیر سدھو نے تجارتی ایسوسی ایشنز کا پلیٹ فارم کارٹل کے لیے استعمال نہ کرنے پر زور دیا ہے۔
چینی کی قیمتوں میں گٹھ جوڑ ثابت ہونے پرشوگر ملز مالکان کو پہلے بھی 44 ارب روپے جرمانہ کیا گیاتھا،تاہم شوگرملز ایسوسی ایشن اورمالکان نےفیصلے کیخلاف عدالت سے رجوع کرکےحکم امتناع لے لیا، سپریم کورٹ نے یہ کیس دوبارہ غور کیلئے ایپلٹ ٹریبونل کو واپس بھجوا دیا تھا۔