بلوچ قبائل کی ٹرانسفارمیشن کا گداز عمل ؟
اسلم اعوان
Stay tuned with 24 News HD Android App
شکیل بھائی بندہ آپ کی چشم بصیرت کو داد دیتا ہے بلاشبہ آپ آئینہ ایام میں مستقبل کے حوادث کو دیکھنے کی صلاحیت سے بہرور ہیں ، مجھے بھی آپ کی اس رائے سے اتفاق ہے کہ مہرنگ بلوچ ہی دراصل بلوچ اقوام کی ایسی نمائندہ لیڈر بن چکی ہیں ،جس نے بلوچ سرداروں کی روایتی اجارہ داری کو ختم کرکے قبائلیت کے جمود کو توڑ دیا ہے اور وہ اپنی پرامن جدوجہد کے ذریعے بلوچ قبائل کو ایک ایسا صحت مند معاشرے میں ڈھالنے کی طرف پیشقدمی کر رہی ہیں ، جس میں عہد جدید کے تمام عناصر موجود ہوں گے ۔ چنانچہ قبائلیت کی ٹرانسفارمیشن کے اس گداز عمل کےلئے یہ ضروری ہے کہ مہرنگ بلوچ کی پرامن مزاحمتی تحریک کو مہمیز دینے کی خاطر ریاست اس کے خلاف ایسی تادیبی کارrوائیوں جاری رکھے جس سے بلوچ قبائل میں اس کی مقبولیت کو پوری شدت سے راسخ کیا جا سکتا ہو ۔ جیسے انگریزوں نے سوبھاش چند بھوس اور بھگت سنگھ جیسے سچے فریڈم فائٹرز کو پیچھے دھکیلنے کے لئے نہرو اور گاندھی جیسے اپنے اطاعت گزاروں کی امیج سازی کی تھی ، جیسے حال ہی میں برما کی فوج نے اسی قسم کے ہتھکنڈوں کے ذریعے آن سانگ سوچی کو پروموٹ کیا تھا ۔
علی ہذالقیاس، میرے لئے یہ دعویٰ کرنا تو ممکن نہیں کہ ہماری ریاستی مقتدرہ بھی بلوچستان میں قبائلیت کے جمود کو توڑنے کی خاطر پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مہرنگ بلوچ اور سمی دین کو بطور بلوچ لیڈر پروموٹ کر رہی ہے لیکن عملاً صورت واقعہ یہی بن گئی ہے ، بلاشبہ اپنی تمام تر خرابیوں اور بشری کمزوریوں کے باوجود بلوچ سرداروں خاص کر عظیم اکبر بگٹی ، عطااللہ مینگل اور نواب خیربخش مری نے اپنی قبائلی شناخت ، قومی وقار اور قبائلی ساخت کا کامیاب دفاع کیا ، جس کی بدولت پچھلے 80 سالوں میں بلوچستان کا جغرافیائی وجود ، قومی شناخت اور سیاسی تمدن مربوط اور بلوچ ساورینیٹی کا سوال قائم رہا لیکن اس کے برعکس مہرنگ بلوچ کی سیاسی تحریک بہت جلد بلوچستان کے قبائلی تمدن کو ایک ماڈرن معاشرے میں ٹرانسفارم کر لے گی جس کے نتیجہ میں بلوچ سرداروں کی روایتی بالادستی ختم ، قبائلی نظم و ضبط تحلیل اور بلوچستان کا سیاسی و جغرافیائی منظرنامہ تبدیل ہو جائے گا ۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ہماری ریاست نے خیبر پختون خوا کے پٹھان قبائلی علاقوں کو مسخر کرنے کی خاطر ایک مخصوص طریقہ کار کے ذریعے پہلے قبائلی سرداروں کا قلع قمع کیا پھر پی ٹی ایم کی شکل میں قبائلی نوجوانوں کی ایک متوازی لیڈر شپ کھڑی کرکے بآسانی قبائلی علاقوں کو ضم کرکے وہاں کے فطری نظم و ضبط ، قبائلی شناخت اور سماجی و سیاسی ڈھانچہ کو تحلیل کرکے پٹھانوں کی روایتی مزاحمتی قوت اور تاریخی سرشاری کو نہایت آرام سے تحلیل کر لیا ، اب وہاں کے عوام مولانا فضل الرحمن جیسے متعبر عالم دین، اسفندیار ولی جیسے قدآور قوم پرست پشتون لیڈر اور روایتی قبائیلی سرداروں کو ٹھکرا کر ایک پنجابی لیڈر عمران خان کے حاشیہ برداروں کو وہاں انتخابی سلطنتیں فراہم کر دی ہیں۔