ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات میں کسی قسم کا مفادات کا ٹکراؤ نہیں ، ترک سفیر

مستقبل کے تناظر میں آذربائیجان، پاکستان اور ترکیہ سہ فریقی تعلقات میں مزید مضبوطی چاہتے ہیں، خضر فرھادوو، آذربائیجانی سفیر

Jan 28, 2026 | 22:23:PM
ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات میں کسی قسم کا مفادات کا ٹکراؤ نہیں ، ترک سفیر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (انور عباس) ادارہ برائے علاقائی مطالعہ جات کے زیر انتظام ترکیہ و آزربائیجان پروگرام کا افتتاح کر دیا گیا افتتاحی سیمینار سے خطاب میں ترکیہ سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوولو کہتے ہیں ترکیہ، پاکستان اور آزربائیجان کے تعلقات میں کسی قسم کا مفادات کا ٹکراو نہیں ہے، ترکیہ، پاکستان اور آزربائیجان سہہ فریقی تعاون بڑھ رہا ہے جو کہ استحکام، اقتصادی تعاون اور علاقائی منسلکی کو سپورٹ کرتا ہے، ادارہ برائے علاقائی مطالعہ جات کے زیر انتظام ترکیہ و آزربائیجان پروگرام کا افتتاح کیا گیا اس موقع پر پاکستان کے ترکیہ اور آزربائیجان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں سفارتی حکام اور محققین نے شرکت کی-

سیمینار سے  خطاب میں ترکیہ سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوولو کا کہنا تھا کہ ترکیہ، پاکستان اور آزربائیجان کے درمیان تعلقات غیرمعمولی ہیں جن کی بنیاد باہمی اعتماد، تاریخ اور یکجہتی پر ہے ہمارا سہہ فریقی تعاون بڑھ رہا ہے جو کہ استحکام، اقتصادی تعاون اور علاقائی منسلکی کو سپورٹ کرتا ہے، ڈاکٹر عرفان نذیر اوولو نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور آزربائیجان کے تعلقات میں کسی قسم کا مفادات کا ٹکراو نہیں ہے، ترکیہ سفیر نے واضع کیا کہ دنیا کو اس وقت گلوبل چیلنجز، عدم استحکام، لڑائیوں، سیکیورٹی تھریٹ، عالمی مخاصمت اور غیریقینی صورتحال دکھائی دیتی ہے اب چھوٹی اور درمیانی طاقتوں کے لیے علاقائی اقدامات اہم ہیں ۔

اس موقع پر آزربائیجان کے سفیر خضر فرھادوو نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے سب سے پہلے آزربائیجان کو تسلیم کیا اور اس کے بعد سے اب تک آزربائیجان کو بھرپور سپورٹ فراہم کی ہم مستقبل کے تناظر میں ان سہہ فریقی تعلقات میں مزید مضبوطی چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آزربائیجان کے باہمی تجارتی حجم میں مذید اضافہ کا پوٹینشل موجود ہے، پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان موجودہ تجارتی حجم کو بڑھانے کی ضرورت ہے ترکیہ آزربائیجان پروگرام کا آغاز وقت کی اہم ضرورت ہے قبل ازیں اپنے استقبالیہ خطبہ میں صدر انسٹیٹیوٹ فار ریجنل اسٹڈیز جوہر سلیم نے پاکستان، ترکیہ اور ازربائیجان کے درمیان موجود مثالی تعلقات پر روشنی ڈالی، سلیم جوہر کا کہنا تھا کہ ترکیہ آزربائیجان پروگرام میں تینوں ممالک کے سکالرز اور محقیقین کے درمیان تعاون فروغ پائے گا جبکہ سہہ فریقی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے تحقیق اور اکیڈیمک کام سے مدد ملے گی، اس موقع پر سفراء نے پینل ڈسکشن میں حصہ لیا اور شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دئیے۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: