بدلتا عالمی نظام
تحریر: حسنات خان ابدالی
Stay tuned with 24 News HD Android App
امریکہ آج جس راستے پر گامزن ہے، اس کے ممکنہ نتائج کو سمجھنے کے لیے تاریخ کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے، کیونکہ عالمی سیاست میں طاقتور ریاستوں کے رویے اکثر خود کو دہراتے ہیں۔ موجودہ امریکی پالیسیوں میں ایسی علامات نمایاں ہو رہی ہیں جو ماضی کی بعض عالمی طاقتوں کے طرزِ عمل سے مشابہ دکھائی دیتی ہیں۔
انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں برطانوی سلطنت ایک ہمہ گیر عالمی طاقت تھی، جس کے زیرِ اثر تجارتی راستے، مالیاتی ادارے اور عسکری اتحاد کام کر رہے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ، جنگوں کے معاشی اثرات اور بدلتے عالمی حالات کے باعث، برطانیہ کی عالمی قیادت بتدریج اپنے معاشی مفادات کے تحفظ تک محدود ہوتی چلی گئی۔ نوآبادیاتی نظام کے معاشی پہلوؤں پر انحصار، اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی نظم کو برقرار رکھنے کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنا، برطانوی عالمی اثر و رسوخ میں کمی کا باعث بنا۔
اگر موجودہ امریکی پالیسیوں پر نظر ڈالی جائے تو ایک ملتا جلتا رجحان دکھائی دیتا ہے، جسے مفادات کی بنیاد پر تشکیل پانے والی خارجہ پالیسی کہا جا سکتا ہے۔ امریکہ اور اس کے روایتی اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس کی واضح مثال ہے۔نیٹو اتحادی ڈنمارک سے گرین لینڈ کے حوالے سے کیے گئے مطالبات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی فضا پیدا ہونا، کینیڈا کا چین کے ساتھ بڑھتا ہوا معاشی تعاون، اور ورلڈ اکنامک فورم میں کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کی تقریر ،یہ تمام عوامل امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان پیدا ہوتی ہوئی خلیج کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اسی طرح وینزویلا میں صدر نیکولس مادورو کی برطرفی کے بعد اس کے تیل کی فروخت پر طویل المدتی امریکی کنٹرول کا فیصلہ، یوکرین کے ساتھ معدنیاتی معاہدے کے بعد 310 ملین ڈالر مالیت کی اسلحہ فروخت کی منظوری، اور ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں امریکی صدر کا امریکہ کو “دنیا کا معاشی انجن” قرار دینا۔یہ سب اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ کا ہر قدم براہِ راست معاشی مفاد سے منسلک ہے۔
اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کا 66 بین الاقوامی تنظیموں (جن میں 31 اقوامِ متحدہ اور 35 غیر اقوامِ متحدہ ادارے شامل ہیں) سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کرنا کہ وہ امریکی مفادات کا تحفظ نہیں کرتیں، اس بدلتے ہوئے رویے کی ایک اور مثال ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض ممالک امریکی سرپرستی میں قائم اداروں کو شکوک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان میں شمولیت سے گریز کر رہے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اب صرف انہی اتحادیوں اور اداروں کے ساتھ چلنے کو تیار ہے جہاں اسے اپنا مفاد واضح طور پر دکھائی دے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عالمی قیادت صرف معاشی طاقت سے برقرار نہیں رہتی، بلکہ اعتماد، اشتراک اور ذمہ دارانہ قیادت سے مستحکم ہوتی ہے۔ جب کوئی عالمی طاقت اتحاد کو بوجھ اور اصولوں کو ثانوی حیثیت دے دیتی ہے، تو اس کی حیثیت بتدریج کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ تاریخ کے تجربات سے سیکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں میں توازن پیدا کرے گایا عالمی نظام ایک نئی طاقت کی جانب سرکنے کے عمل میں داخل ہو چکا ہے؟