زرعی بائیوڈائیورسٹی کی تباہی، موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کی خوراک کو خطرے میں ڈال دیا 

Feb 28, 2026 | 14:37:PM
زرعی بائیوڈائیورسٹی کی تباہی، موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کی خوراک کو خطرے میں ڈال دیا 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

کھانا اچھا نہیں ہے،مہنگے مصالحہ جات کے باوجود کھانے میں ذائقہ ہی نہیں ہے، کھانا کھا کے بھی ابھی مزید بھوک ہے، پیٹ فل ہو گیا مگر کھانا کھانے کے بعد اور کچھ کھانے کا دل کر رہا ہے، کھانا کھانے کے بعد بھی عجیب سی سُستی ہے، جسم میں جان ہی نہیں ہے، یہ وہ جملے ہیں جو اکثر و بیشتر ہم خود بولتے ہیں یا ہمیں سننے کو ملتے ہیں اور وجہ اس کی کیا ہے؟؟ اس کی وجہ ہے موسمیاتی تبدیلیاں... اب آپ کہیں گے کہ ہر بات کو موسمیاتی تبدیلیوں سے میں نے جوڑنے کی کوشش کی ہے تو یہ میں نہیں کہہ رہی یہ ماہرین کہہ رہے ہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ہماری خوراک پر ہو رہے ہیں ایگریکلچر بائیو ڈائورسٹی شدید متاثر ہو رہی ہے، ہر سال آنے والا سیلاب ہماری خوراک کو متاثر کر رہا ہے؟ ایگریکلچر بائیوڈاییورسٹی پر منفی اثرات کے باعث ہماری خوراک اب متوازن نہیں ہے نہ ہی اس میں پہلے سی غذائيت ہے نہ ہی خوراک میں ضروری اجزاء ہیں، یعنی جو خوراک اب ہم تک پہنچ رہی ہے اس میں ماہرین کے مطابق آئرن، زنک اور  پروٹین کی کمی ہے، اس لیے اکثر ہم کھانا کھا کے بھی نڈھال ہوتے ہیں خود کو بیمار محسوس کرتے ہیں،  اب بھی آپ کو یقین نہیں آیا نا تو ذرا ان عداد و شمار کو جان لیجیے  حال ہی میں گین نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ایگریکلچر بائیوڈاییورسٹی کی تباہ حالی یعنی فصلوں کے نقصانات کا بتایا گیا ہے ، گلوبل الائنس فار ایمپرووڈ نیوٹریشن کی رپورٹ کے اعدادوشمار کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث 2050 تک بھوک کے خطرے میں 30 فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے، 2050 تک موسمیاتی اثرات کے باعث سالانہ پانچ لاکھ اضافی اموات کا امکان ہے، پاکستان میں 2060 تک گندم کی پیداوار میں 19 فیصد کمی متوقع ہے، پنجاب میں گندم کی پیداوار میں نمایاں کمی قومی غذائی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، بلوچستان اور اندرون سندھ موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی سطح پر صرف 2 فیصد موسمیاتی منصوبوں میں غذائیت شامل ہے، پاکستان میں موسمیات اور غذائیت پالیسیوں میں ہم آہنگی کی فوری ضرورت ہے کیونکہ شدید موسمی حالات خوراک، روزگار اور صحت کے لیے بڑا خطرہ بن گئے، کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ بنیادی فصلوں کی غذائی قدر کم کرنے لگا، رپورٹ میں ہی یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ درجہ حرارت اور بارشوں میں تبدیلی سے فصلوں میں پروٹین، زنک اور آئرن کی کمی ہوئی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے باعث غذائی قلت اور بچوں میں نشوونما کی کمی کا خطرہ بڑھ گیا ہے، سیلاب، خشک سالی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے جیسے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے، زرعی شعبہ، مویشی پالنا، جنگلات اور آبی وسائل شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث صحت اور خوراک کے نظام پر دباؤ ہے، غذائیت سے متعلق واضح اہداف اور بجٹ مختص نہ ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے، ماہرین کے مطابق قومی موسمیاتی پالیسیوں میں بہتری کی گنجائش برقرار ہے، اسوقت ماحولیاتی تنزلی انسانی صحت کے لیے مہنگی ثابت ہو رہی ہے. 

ایگریکلچر بائیوڈاییورسٹی کس طرح متاثر ہو رہی ہے اور ہمیں کس قدر نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس سے متعلق یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد ثنا اللہ نے اس حوالے سے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں صرف ہماری انوائرمنٹ کا مسئلہ نہیں رہا کہ جس کی وجہ سے ہمارا موسم تبدیل ہو رہا ہے گرمی ہو رہی ہے اس کا سب سے بڑا مسئلہ فوڈ سیکیورٹی ہے کیونکہ جب کلائمیٹ چینج ہوتا ہے اس کی وجہ سے سیلاب آتے ہیں، ہیٹ ویوز اتی ہیں، خشک سالی ہوتی ہے اور یہ سب چیزیں انسانی صحت کو ہماری نیوٹریشن کو ہماری فوڈ سیکیورٹی کو خوراک کی موجودگی کو ان تمام چیزوں کو متاثر کرتی ہیں، اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جو پالیسیاں ہیں ان میں کیا گیپس ہیں ڈاکٹر محمد ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ٹاپ ممالک میں شامل ہے جو سب سے زیادہ موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہا ہے ہمارے لیے یہ زیادہ ضروری ہے کہ بجائے ہم جب کوئی مسئلہ ہو اس کے رسپانس میں کچھ کریں ہمیں پہلے سے ہی تیاری کرنے کی ضرورت ہے کہ جب مسائل ہوں تو پہلے سے ہی ان کا انتظام موجود ہو تاکہ ہمیں کم سے کم نقصان ہو، ہماری تقریبا زیادہ آبادی غذائیت کی کمی کا شکار ہے تو موسمیاتی تبدیلیاں اسے مزید بڑھا رہی ہیں جس کی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں ہمیں ایک نیکسز چاہیے جس میں کلائمٹ چینج ہو جس میں ایگریکلچر ہو، واٹر کے لوگ ہوں جس میں پالیسی کے لوگ ہوں اور مل کے ایسا پلان بنائیں کہ جو ہمارے مسائل ہیں وہ ہم مل کر حل کر سکیں، ڈاکٹر محمد ثناء اللہ نے کہا کہ ہم سمارٹ ایگریکلچر یا ماحول دوست زراعت نہیں کر رہے، اور گزشتہ کچھ برسوں میں ہم نے اپنی پریکٹسز کو صحیح نہیں دیکھا جیسے ہم نے بہت زیادہ کیمیکل کا استعمال کیا قدرتی پلانٹیشن کو ہم نے ڈسٹرب کیا ان مسائل کی وجہ سے جو موسمیاتی تبدیلیاں ہوئی ہیں تو اس کی وجہ سے جب ہیبیٹاٹ چینج ہوتا ہے تو بائیوڈائورسٹی بھی متاثر ہوتی ہے پچھلے 10 سالوں میں کچھ پودے تھے کچھ پرندے تھے کچھ جاندار تھے جو اُس وقت موجود تھے اور جو ہمارے لیے فائدہ مند تھے انہیں ہم نے خود ہی اپنے عوامل کی وجہ سے خراب کر دیا اس کی وجہ سے اب ہمیں نظر نہیں آتے ہیں، ڈاکٹر محمد ثناء اللہ نے مزید گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کلائمٹ چینج کا براہ راست اثر  ہماری بائیو ڈائیورسٹی پر ہے اور بائیوڈائیورسٹی کنزرویشن ہمارا اہم ہدف ہے اس کو جب تک ہم حاصل نہیں کریں گے ہم ایک پائیدار زندگی نہیں گزار سکتے، بائیو ڈائیورسٹی کا ایگریکلچر میں بہت اہم کردار ہے لیکن بدقسمتی سے ایگریکلچر بائیو ڈائیورسٹی کو نظر انداز کیا جاتا ہے یہ ایک انفرادی رجحان نہیں ہوگا ہمیں مل کر کام کرنا پڑے گا ہمیں نیکسز کرنا پڑے گا اور اس میں ریسرچر، پالیسی میکر اور گورنمنٹ بھی ہوگی اور اس میں اسٹیک ہولڈرز بھی ہوں گے اور فارمرز بھی ہوں گے، فارمرز کو باقاعدہ ٹریننگ کی ضرورت ہے فارمرز کو بتانے کی ضرورت ہے کہ ان چیلنجز میں اپ کیسے بہتر سروائیو کر سکتے ہیں کلائمٹ سمارٹ ایگریکلچر پر جانے کی ضرورت ہے جو ہماری موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اس میں ہماری زراعت کا 50 فیصد کردار ہے ہماری ایکٹیوٹیز اچھی نہیں ہیں، زراعت ہی وہ شعبہ ہے جو زیادہ متاثر ہو رہا ہے کسان کے لیے یہ صورتحال دلچسپ ہے اگر وہ سمارٹ ایگریکلچر پریکٹسز کرتا ہے تو زمین کی جو صحت ہے اچھی ہوگی، اگر وہ اس زمین کی صحت پر توجہ دیتا ہے اس کا خیال رکھتا ہے تو لچک ہوگی اور پروڈکٹیوٹی بڑھے گی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا نیٹ انکم بڑھے گی اور کلائمٹ کو بھی بہتر کرنے میں مدد ملے گی.

ہیڈ آف پالیسی اینڈ نیوٹریشن فیض رسول  سے جب اس رپورٹ سے متعلق بات کی تو انہوں نے کہا جو تین کی(key) سیکٹرز ہیں ان کے درمیان جو ریلیشن شپ ہے ان کو سٹڈی کیا جائے اور وقت سے  پہلے کہ جب مسئلہ سر پہ آ جائے اس سے پہلے ہمیں پتہ ہو کہ ہم کہاں پہ کھڑے ہیں کس طرح کے میئرز ہمیں لینے کی ضرورت ہے، فوڈ سیکورٹی کلائمٹ چینج اینڈ نیوٹریشن ان تینوں سیکٹرز کے درمیان ہم لوگوں نے کنیکشن بلڈ کرنا ہے، فیض رسول نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نیوٹریشن ہمارا ایک چیلنج ہے  کب سے ہمارے بچے نشوونما کی غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، یہاں تک کہ جو فگرز ہیں بہت الارمنگ ہیں تقریبا 62 سے 64 فیصد پاکستانی ایسے ہیں متوازن غذا کو افورڈ نہیں کر سکتے، سیلابوں کے باعث فوڈ ان سکیورٹی بڑھ رہی ہے، لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہیں جو صحت کے مسائل سے دوچار ہیں، پاکستان کے اندر لوگ تین طرح کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں ان کو پراپر غذا نہیں مل رہی، اگر غذا مل رہی ہے تو وہ محفوظ نہیں ہے کہ وہ استعمال کر کے صحت مند رہ سکیں اور تیسرا جو ہماری غذا ہمیں مل رہی ہے ان کے اندر جو ہمیں چیزیں چاہیے جتنے مائکرو نیوٹرینٹس ہیں وہ پورے نہیں ہیں، ہم کھا رہے ہیں مگر اس کا امپیکٹ نہیں آ رہا تو یہ تمام کمپلیکیشنز ہیں جس کا ہم پہلے سے سامنا کرتے آ رہے تھے اور اب کلائمیٹ کا ایک اضافی مسئلہ ہے، فیض رسول نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ابھی تک پاکستان میں کوئی ڈیٹا نہیں ہے لوکل ڈیٹا کہ ہم مئیر کر سکیں کہ اگر ایک ڈگری ٹمپریچر بڑھتا ہے تو ہماری گندم کی پیداوار کتنی کم ہو جائے گی،  2029 یا 20230 تک شاید ہم اس قابل ہوں گے کہ لوکل ڈیٹا ہمارے پاس آ جائے جو ہمیں بتا سکے کہ جو کلائمٹ چینج ہمارا بڑھ رہا ہے پوری دنیا کے اندر چار ڈگری سیلسیس تک رسک ہے اور پاکستان میں پانچ ڈگری سیلسیس تک جانے کا امکان ہے  2050 تک تو اس کے ساتھ ہم کہاں پہ کھڑے ہوں گے؟ تو جب یہ ڈیٹا ہمارے پاس آ جائے گا ثبوت ہوگا تو ہم فخر سے اس ڈیٹا کو استعمال  کر سکتے ہیں اور انفارم کر سکتے ہیں پالیسی میکرز کو پروگرام ڈیزائنرز کو کہ ہمیں اس طرح کی زراعت کرنی ہے ہمیں اس طرح کے بیج استعمال کرنے ہیں، ہمیں کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچر کی طرف جانا ہے

 آخر ڈیٹا اکٹھا کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی ہے؟؟؟ ، میرے اس سوال کے جواب میں فیض رسول نے بتایا کہ ہم نے دو سال پہلے فوڈ سسٹم ڈیش بورڈ کے اوپر کام شروع کیا تھا   تو آپ حیران ہوں گے سن کے کہ پاکستان کے اندر ہمیں صرف 26 انڈیکیٹر کا ڈیٹا ملا دوسرے ملکوں میں 200 سے زیادہ انڈیکیٹر کا ڈیٹا ہے اور ہمارے پاس تو صرف 26 انڈیکیٹر کا اور یہ 26 انڈیکیٹر کا ڈیٹا لینے کے لیے بھی ہمیں ڈیڑھ سال محنت کرنا پڑی، کنسلٹنٹس کو انگیج کرنا پڑا، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ڈیٹا کی کمی ہے اگر ڈیٹا ہے تو وہ بکھرا ہوا ہے چھوٹے چھوٹے حصوں میں بکھرا ہوا ہے اس کو یکجا نہیں کیا جا رہا،  اب گورنمنٹ اقدام کر رہی ہے اور اب جو ریسنٹ ڈیویلپمنٹ ہے اس کا نام ہے نیشنل فوڈ سسٹم ٹرانسمیشن ،ڈیجیٹل پلیٹ فارم ایک ایڈوانس سٹیج ہے ڈیٹا شیئرنگ کی جس کے اندر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو بھی استعمال کیا گیا ہے جو آپ کو مدد کرے گا یوزرز کو کہ ان ڈیٹا کے ساتھ پلے کر سکے ڈیٹا کو یوز کریں اور انفارم کرے ، ہمارے ہاں کمپلیکیشنز ہیں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ  جو مختلف پالیسیز ہیں وہ آپس میں منسلک نہیں ہیں اگر فوڈ سیکیورٹی پالیسی ہے تو وہ کلائمٹ چینج کو ایڈریس نہیں کرتی کلائمٹ چینج پالیسی ہے تو وہ فوڈ سیکورٹی چیلنجز کو ایڈریس نہیں کرتی بدقسمتی سے نیوٹریشن پہ کوئی پالیسی پاکستان میں ہے ہی نہیں، مسئلہ تو یہ اتنا بڑا گیپ ہے، آپ چھوٹے سے ملکوں میں جائیں افریقہ میں دیکھتے ہیں تو افریقہ کے چھوٹے چھوٹے ملک جو 10 ملک ہوں گے پاکستان کے ایک کے برابر اور وہ پچھلے 15 پندرہ سالوں سے اپنی نیشنل پالیسی بنا کے بیٹھے ہوئے ہیں اور پاکستان اتنا بڑا ملک ہے جس کے لاکھوں بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں مگر ہمارے پاس کوئی نیوٹریشن پالیسی نہیں ہے، اہم فصلیں جو پانی کو استعمال کرتی ہیں تو ہمیں سوچنا ہے کہ ہم کن فصلوں کی طرف جائیں جو موسمیاتی لچک کے مطابق ہوں، ہم ایسی فصلیں استعمال کریں جن میں پانی کم استعمال ہو کیونکہ پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ملک ہیں، تو ہم اتنا پانی استعمال نہ کریں، دیکھنا ہوگا ایسی کون سی فصلیں ہو سکتی ہیں، ایسی کون سی ٹیکنیکس یا ٹیکنالوجی ہو سکتی ہے جو ہمیں کم ریسورسز استعمال کر کے بہتر پیداوار دے اور ہمارے لیے  مفید بھی ہوں بہت قیمتی بھی ہوں. 

محکمہ موسمیات کا بھی کہنا ہے کہ درجہ حرارت مسلسل بڑھتے رہیں گے، ڈپٹی ڈائریکٹر عرفان ورک نے کہا کہ موجودہ موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹس کو بہترین ریسرچ کی جانب جانا چاہیے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق پلانز بنانے چاہیئں۔

اب اگر خوراک متوازن اور غذائیت سے بھرپور نہیں ہو گی تو اس کا اثر سب سے زیادہ کس پر ہوگا؟؟ 

 کنٹری ڈائریکٹر گلوبل الائنس فرح ناز نے اس سے متعلق 24 نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ہماری زمین کو انتہائی متاثر کر رہی ہیں لیکن جس طرح ہم فارمنگ کرتے ہیں اور بے کیمیکلز استعمال کرتے ہیں تو زمین کی صحت خراب ہوتی ہے، ہم اپنے پرانے طریقے بھول گئے ہیں جو ہم مختلف فصلیں لگاتے تھے نائٹروجن کے ساتھ دوبارہ زمین کی طاقت واپس آتی تھی لیکن پہلے والی پریکٹسز ہم نے چھوڑ دی ہیں، جب زمین میں مائیکرو نیوٹریشن نہیں ہونگے تو ہماری خوراک میں کہاں سے آئیں گے، اب مختلف بیج بننا شروع ہونے ہیں جو بائیو فورٹیفائیڈ ہیں لیکن اگر زمین کی صحت اچھی نہیں ہوگی تو اس میں بھی مزا نہیں آئے گا، فرح ناز نے یہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جب یہ کیمیکلز خواتین میں ٹرانسفر ہوتے ہیں تو یہ تمام چیزیں اثر انداز ہو رہی ہیں، اگر خوراک بہتر نہیں ہوگی تو مائیں بھی صحت مند نہیں ہونگی اور جب مائیں صحت مند نہیں ہونگی تو بچے کیسے صحت مند پیدا ہونگے، انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو اگر کافی مقدار میں مائیکرو نیوٹریشن نہیں ملتے تو ان کی گروتھ متاثر ہوتی ہے انکی ذہنی و جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے

زرعی بائیوڈاییورسٹی انتہائی اہم ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اگر زرعی بائیوڈاییورسٹی کم ہوتی ہے تو مستقبل میں ہماری خوراک کے آپشنز بھی محدود ہو جائیں گے اور موسمیاتی جھٹکوں کا مقابلہ کرنا بھی مشکل ہو جائے گا، موسمیاتی تبدیلیاں اب صرف ایک. خبر نہیں ہیں اس کا تعلق اب ہماری پلیٹ میں رکھے کھانے سے جُڑ چکا ہے، ہماری صحت کے لیے ریڈ الرٹ ہو چکا ہے تاہم ماہرین کے مطابق ماحول دوست زراعت سے کچھ حد کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے