ہمارے دشمن کو بیشک اپنے گھر بسائیں لیکن دشمن کا کردار نہ ادا کریں: خواجہ آصف کا سراج الدین حقانی کو جواب
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حقانی صاحب آپکی ماضی کی جنگوں میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان دل وجان کے ساتھ آپکے ساتھ کھڑا تھا، لیکن بدلے میں بدامنی کا سامنا کرنا پڑا،ہمارے دشمن کو بیشک اپنے گھر بسائیں، لیکن انکے ساتھ ملکر ہمارے ساتھ دشمن کا کردار نہ ادا کریں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے پیغام میں خواجہ آصف نے افغان طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف افغان قیادت بلکہ ان کے خاندانوں کی بھی دہائیوں تک مہمان نوازی کی جن میں سراج الدین حقانی کا خاندان بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان اور افغان قیادت کا ہدف مشترکہ تھا، تاہم بعد ازاں نائن الیون کے بعد پاکستان کو حقانی نیٹ ورک کی مبینہ سہولت کاری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔
حقانی صاحب آپکی ماضی کی جنگوں میں سوویت یونین کے خلاف پاکستان دل وجان کے ساتھ آپکے ساتھ کھڑا تھا ۔ آپ ھمارے مہمان رہے آپکے خاندانوں کی دھائیاں مہمانداری کی۔ تب کے لاکھوں مہمانوں میں لاکھوں ابھی بھی پاک سر زمین پہ پناہ گزین ھیں۔ ھماری پاک مٹی سے رزق کماتے ھیں۔ آپ بھی بمعہ… https://t.co/RlYy2oZlqS pic.twitter.com/PwTnyyH7ed
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) February 27, 2026
وزیر دفاع نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کے متعلق پاکستان پر عائد کیے گئے الزامات سچ تھے یا جھوٹ، اس بارے میں سراج الدین حقانی کو دنیا کے سامنے وضاحت کرنی چاہیے،پاکستان نے مختلف ادوار میں افغان دھڑوں کے درمیان صلح کرانے کی کوششیں کیں اور انہیں مکہ معظمہ لے جا کر مفاہمت کی راہ بھی ہموار کی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے 3 نسلوں تک افغان قیادت کی میزبانی کی مگر اس کے بدلے میں پاکستان کو دہشت گردی اور بدامنی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:مذاکرات سے خوش نہیں، ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہونی چاہئے:ٹرمپ
انہوں نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور ایسے عناصر کی پشت پناہی نہ کریں جو پاکستان میں معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس نسبت سے آپکو حقانی پکارا جاتا ہے وہ بہت عظیم بزرگ تھے ، اس نام کی ہی لاج رکھیں،ہمارے دشمن کو بیشک اپنے گھر بسائیں، لیکن انکے ساتھ ملکر ہمارے ساتھ دشمن کا کردار نہ ادا کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کسی سے کچھ نہیں مانگتا، صرف یہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور دشمن عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
وزیر دفاع نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ ہماری روایت، ثقافت اور دین یہ سکھاتا ہے کہ جس گھر میں پناہ لی جائے اس کی خیر خواہی کی جائے۔
انہوں نے ’اللہ اکبر‘ اور ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے کے ساتھ اپنا بیان ختم کیا۔