پنجاب حکومت محفوظ بسنت کی گارنٹی دے، 3روز کی بجائے پورا سال منائی جائے:اظہر صدیق
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)نامور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اظہر صدیق نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت ہمیں محفوظ بسنت کی گارنٹی دے اور پھر اسے تین روز کی بجائے پورا سال ہی منائے تاکہ اس انڈسٹری سے وابستہ کاروباری افراد کو روز گار میسر آ سکے۔
انھوں نے ’’سٹی 42 ‘‘کے مقبول ترین پروگرام’’ بنام سرکار‘‘ میں اینکر زوہیب سلیم بٹ کے ساتھ محفوظ بسنت پر اُٹھنے والے اعتراضات اور اپنے تحفظات پر کھل کر گفتگو کی ۔ اُنہوں نے پروگرام ’’بنام سرکار‘‘ کے اینکر زوہیب سلیم بٹ کے سوال کے جواب میں بتایا کہ مجھے گورنمنٹ چار چیزوں پریقین دہانی کروائے کہ مارکیٹ میں موٹا دھاگا استعمال نہیں ہوگا ، دوسرا گڈی کا سائز چھوٹا ہوگا اور تیسرا چرخی کی جگہ پنہ اور چوتھا کھلے میدان کیونکہ اندرون لاہور میں بسنت نہیں منائی جا سکتی ۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ گورنمنٹ کو چاہئے کہ وہ اس کو دو تین دن کی بجائے پورے سال کیلئے کھولے تاکہ اس کے جڑی ہوئی پوری انڈسٹری کا بزنس کھل سکے۔ اینکرزوہیب سلیم بٹ کو اُنہوں نے دوران گفتگو مزید بتایا کہ حکومت کو چاہئے کہ اس کو کھلے میدانوں میں جس میں شالیمار باغ ، منٹو پارک، اور جلو پارک شامل ہے وہاں محفوظ بسنت کی اجازت دینی چاہئے اور وہاں اندر تمام رجسٹرڈ گڈی فروش ہونگے کوئی بھی بندہ باہر سے اپنی ڈور گڈی نہیں لےکر آئے گا ۔
اظہر صدیق نے گفتگو کے دوران بتایا کہ میں نے بسنت بند کروائی تھی اور میں نے بسنت رات کی اجازت دلوائی تھی لیکن اس خوبصورت تہوار کو موٹی ڈور اور موٹرسائیکل کی تار کے استعمال نے خونی کھیل بنا دیا ، اصل مسئلہ تب شروع ہوا جب مارکیٹ میں موٹی ڈور آئی اور اُس پر بھی کیمیکل لگا ہوا تھا۔
اینکرزوہیب سلیم بٹ کے سوال کے جواب میں اُنہوں نے بتایا میں بسنت کے خلاف نہیں ہوں میں بس یہ چاہتا ہوں کہ کسی معصوم کی جان نہ چلی جائے ،میں نے انگلینڈ ، چائنا، انڈیا میں بھی بسنت منائی ہے لیکن وہاں پر بھی موٹا دھاگہ استعمال نہیں ہوتا ۔ موٹی ڈور کے استعمال نے بدمعاشی کلچر کو فروغ دیا پھر آہستہ آہستہ یہ کھیل خونی کھیل بن گیا ۔
اُنہوں نے کہا کہ موٹی ڈور کے حوالے میں نے وزرات داخلہ ، خارجہ اور ایف بی آر کو بھی خط لکھے ہیں، پرانے لاہور کی یاد کوتازہ کرتے ہوئے اینکرزوہیب سلیم بٹ نے پرانی بسنت کی یادیں تازہ کیں جس میں اظہر صدیق نے پنجاب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور موجودہ حکومت کے منصوبوں نے میرے باغوں کے شہر کو کنکریٹ کے جنگل میں بدل دیا ہے ۔
میٹرو اور اورنج لائن ٹرین نے میرے لاہور کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے ،ورنہ میرے لاہور میں جگنو، چڑیوں کی آوازیں ، اور میلے ٹھیلے لگتے تھے وہ سب اب ختم ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :سال2025: پاکستان کا دورہ کرنیوالی عالمی شخصیات