وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ؛پنجاب پولیس میں بھرتی کیلئےبینائی کےمعیار پرنظرثانی کی ہدایت

Jan 27, 2026 | 17:47:PM
وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ؛پنجاب پولیس میں بھرتی کیلئےبینائی کےمعیار پرنظرثانی کی ہدایت
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جسٹس کریم خان آغا نے فیصلہ تحریر کیا۔

 عدالت نے ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ 90 سال پرانے پولیس میڈیکل رولز پر نظرثانی کریں،پولیس رولز 1934 کے تحت بھرتی کے وقت طبی معائنہ سخت ہونا ضروری ہے تاہم عدالت نے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی روشنی میں بینائی سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا۔

آئینی عدالت نے آئی جی پنجاب کو امیدوار کی بینائی کا دوبارہ معائنہ کرانے کی ہدایت کی ہے  جبکہ معذور افراد کا اسسمنٹ بورڈ امیدوار کی بینائی کا دوبارہ جائزہ لے،عدالت نے امیدوار کو معذور کوٹے یا دفتری کام کیلئے ایڈجسٹ کرنے پر غور کرنے کی تجویز بھی دی۔

عدالت نے بینائی کے معیار پر پورا نہ اترنے والے امیدوار کی اپیل کو خارج کر دیا،پولیس فورس میں بھرتی کے لیے فٹنس لازمی شرط ہے۔ فیصلے کے مطابق امیدوار کی ایک آنکھ کی بینائی 6/6 تھی جبکہ دوسری آنکھ معیار سے کم پائی گئی اور طبی ماہرین نے امیدوار کو پولیس کی فیلڈ ڈیوٹی کے لیے غیر موزوں قرار دیا تھا۔

درخواست گزار محمد فرحان نے پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی کے لیے اوپن میرٹ پر درخواست دی تھی  لیکن مقررہ طبی معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے درخواست گزار کو غیر موزوں قرار دیا گیا۔

درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی جس کے سنگل بنچ نے درخواست گزار کو کانسٹیبل بھرتی کرنے کا حکم دیا  تاہم لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے انٹرا کورٹ اپیل میں اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں : وادیِ تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا،کے پی کی حکومت اپنی ناکامیاں فوج اور اس آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں، خواجہ آصف