بسنت کے قانون کیخلاف درخواستیں: عدالت نے اعلیٰ افسران کوذاتی طور پرطلب کر لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے بسنت منانے کے قانون کے خلاف درخواستوں پر سماعت کا تحریری عبوری حکم جاری کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز سمیت متعدد افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے سپیشل سیکرٹری سکول ایجوکیشن، سپیشل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ڈی جی پی آر کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ہے .
جسٹس ملک محمد اویس خالد نے گزشتہ روز کی سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ حکم کے مطابق عدالت نے سپیشل سیکرٹری ہوم کو ہدایت کی ہے کہ وہ بسنت کے حوالے سے متعلقہ افسران اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کریں اور حفاظتی اقدامات پر مشاورت کے بعد رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔عدالت نے بسنت کے موقع پر قائم کیے جانے والے میڈیکل کیمپوں میں مناسب میڈیکل سٹاف کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
عدالت نے مخصوص علاقوں میں بسنت کا تہوار منانے کے معاملے پر سپیشل سیکرٹری ہوم سے رپورٹ طلب کی ہے۔ مجاز اتھارٹی سے ہدایات لے کر عدالت کے روبرو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے:آخر کس قانون کے تحت شہریوں کو آف لوڈ کیا جا رہا ہے:لاہور ہائیکورٹ
آج جاری کئے گئے تحریری حکم کے مطابق سماعت کے دوران سپی شل سیکرٹری ہوم، ایس پی سٹی سمیت دیگر متعلقہ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ سپیشل سیکرٹری ہوم نے بسنت کے موقع پر کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے متعلق رپورٹ پیش کی جبکہ ایس پی سٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ موٹرسائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے دس لاکھ اینٹینا راڈ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ بسنت کے موقع پر ون ون ٹو ٹو کے ذریعہ 70 کلینکس آن وہیلز کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ جن علاقوں سے کلینکس آن وہیلز فراہم کیے جائیں وہاں متبادل صحت سہولیات بھی یقینی بنائی جائیں۔ لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔
یہ بھی پڑھیئے: بسنت کی آمد،پتنگ سازوں کیلئے آرڈر پورے کرنا مشکل ہوگیا