وائس چانسلر کا خاتون ڈاکٹر پر تشدد، اسلام آبادہائیکورٹ کا دوبارہ میڈیکل کرانے سے انکار 

Feb 27, 2026 | 22:51:PM
وائس چانسلر کا خاتون ڈاکٹر پر تشدد، اسلام آبادہائیکورٹ کا دوبارہ میڈیکل کرانے سے انکار 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے خاتون ڈاکٹر کی جانب سے شادی کے مطالبے پر اس کو تشدد کا نشانہ بنانے والے وائس چانسلر کی جانب سے متاثرہ خاتون کا دوبارہ میڈیکل کرانے کی استدعا مسترد کر دی ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں شادی کا مطالبہ کرنے پر خاتون ڈاکٹر کو تشدد کرنے والے وائس چانسلر کی اپیل یہ کہہ کر مسترد کردی کہ کافی تاخیر کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دینا ایک لاحاصل مشق ہو گی، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے وائس چانسلر ہیلتھ سروسز اکیڈمی شہزاد علی خان کی انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی۔

عدالت نے قرار دیا کہ معمولی نوعیت کی چوٹیں اور خراشیں وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، تاخیر سے کیے گئے معائنے کی کوئی قانونی یا طبی اہمیت باقی نہیں رہتی، عدالت نے قرار دیا کہ کافی تاخیر کے بعد میڈیکل بورڈ تشکیل دینا ایک لاحاصل مشق ہو گی، سنگل بینچ کا فیصلہ قانونی طور پر درست ہے۔

درخواست گزار نے سنگل بینچ کے 19 نومبر 2025ء کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، ڈاکٹر عائشہ خان کے مطابق شادی کے مطالبہ پر شہزاد علی خان نے ان پر تشدد کیا، مبینہ واقعے کے بعد ڈاکٹر عائشہ خان کا پمز ہسپتال سے میڈیکو لیگل معائنہ کروایا گیا تھا۔

شہزاد علی خان نے ایم ایل سی کو جعلی اور ٹمپرڈ قرار دیتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی تھی، جسے سنگل بینچ نے مسترد کیا تو ڈاکٹر شہزاد نے انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :پٹرول ڈیزل کل رات کتنا مہنگا ہوگا؟ اہم اطلاع سامنے آگئی