نورِ سحر میں "حضرت خواجہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ۔۔۔حیات و تعلیمات"  بصیرت افروز ،روح پرور نشست  

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ حقیقی اولیائے کرام انسانیت کے لیے رحمت اور سایۂ عاطفت ہوتے ہیں

Dec 27, 2025 | 14:13:PM
 نورِ سحر میں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف دینی و علمی پروگرام "نورِ سحر" میں "حضرت خواجہ معین الدین اجمیری علیہ الرحمہ۔۔۔حیات و تعلیمات" کے موضوع پر ایک نہایت مؤثر، بصیرت افروز اور روح پرور نشست کا انعقاد کیا گیا۔ 

پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ حقیقی اولیائے کرام انسانیت کے لیے رحمت اور سایۂ عاطفت ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیر کا اصل کام لوگوں کو جھکوانا نہیں بلکہ بندے کو خدا سے جوڑنا ہے، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدیوں بعد بھی اولیائے اللہ کا نور باقی رہتا ہے اور ان کی پہچان مٹتی نہیں۔

انہوں نے تصوف کو محبت، خدمت اور انسان دوستی کا پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اولیائے کرام کے حسنِ اخلاق سے پھیلا۔

پروفیسر نرید فاطمہ نے کہا کہ اولیائے کرام نے محبت اور روحانیت کا جو نظام قائم کیا وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے، انہوں نے خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت فاطمۃ الزہراءؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت حفصہؓ اور حضرت زینبؓ کی علمی و روحانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا،انہوں نے خواجہ غریب نوازؒ کی صاحبزادی بی بی جمالؒ کو سلسلۂ چشتیہ میں خواتین کی دینی و سماجی قیادت کی روشن مثال قرار دیا۔

پروفیسر سلطان منیر نے ایک تمثیلی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اولیائے کرام انسان کو اپنی ذات سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے جوڑتے ہیں، انہوں نے نام نہاد پیروں اور جعلی تصوف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تصوف کا راستہ اخلاص، خدمت اور انکساری کا راستہ ہے، نہ کہ دنیاوی مفادات کا۔

پروفیسر سید فہد علی کاظمی نے کہا کہ خواجہ غریب نوازؒ برصغیر میں رحمتِ رسول ﷺ کا عملی عکس ہیں، جن کی روحانی دعوت نے اس خطے کی تاریخ بدل دی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اولیائے کرام کی عظمت کسی پروپیگنڈے سے کم نہیں ہو سکتی،انہوں نے مستند صوفی لٹریچر اور غیر مستند ملفوظات میں فرق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تصوف کا مقصد کرامات نہیں بلکہ بندے کو خدا سے جوڑنا ہے۔