پاک بھارت موسیقی کا ایک اور دلکش پل جب سرحدیں دھن کے آگے ہٹ جاتی ہیں

تحریر ۔۔۔ زین مدنی حسینی 

Nov 26, 2025 | 22:13:PM
پاک بھارت موسیقی کا ایک اور دلکش پل جب سرحدیں دھن کے آگے ہٹ جاتی ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

آج جب موسیقی کے سننے اور سنانے کے طریقے بدل چکے ہیں، تب بھی وہ چند لمحے ایسے ہوتے ہیں جو    سیدھے دل تک پہنچ جاتے ہیں ۔ اور یہی لمحے اکثر سرحدوں کو کم معنی دیتے ہیں۔ حال ہی میں کینیڈین نژاد بھارتی گلوکارہ جیسمین سینڈلس اور پاکستانی گلوکار عمیر (Umair) بٹ کے مشترکہ گانوں کی کہانی اسی بات کی تازہ مثال ہے۔ دونوں نے مل کر “Titli / تتلی” جیسا پراجیکٹ کیا، جو مختلف اسٹریمنگ سروسز اور یوٹیوب پر باقاعدہ ریلیز ہوا اور صارفین میں خاصا مقبول رہا۔ یہ حقیقت ان آفیشل ریلیز لسٹنگز اور میوزک ویڈیو سے تصدیق ہوتی ہے۔ 
کچھ انٹرویوز، سوشل میڈیا کلپس اور شارٹس میں جیسمین نے کھل کر بتایا ہے کہ وہ پاکستانی گانے اور پاکستانی گلوکاروں کو بہت شوق سے سنتی ہیں ۔خاص طور پر ماضی کے کلاسیک و معیاری گلوکار جن کی آوازوں میں روح اور روایت دونوں ختمے ہوئے نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر اُن کے وہ مختصر کلپس مل جاتے ہیں جن میں وہ پاکستانی موسیقی کی تعریف کرتی دکھائی دیتی ہیں  یہ چھوٹی ویڈیوز اس بات کی شہادت ہیں کہ سرحد کے پار بیٹھے فنکار بھی ہماری دھنوں اور آوازوں کے سچے مداح بن جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے سرحد پار تعاون نئے نہیں،یہ بھی کوئی نئی بات نہیں کہ پاکستانی فنکار بھارت میں یا بھارتی پروڈکشنز کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر کام کرتے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر نصرت فتح علی خان نے اپنی عالمی شہرت کے ذریعے جنوبی ایشیائی موسیقی کو بین الاقوامی اسٹیجز تک پہنچایا، اور ان کے اثرات بھارتی فلمی موسیقی اور گلوکاری پر نمایاں رہے۔ اسی طرح راحت فتح علی خان، عاطف اسلم اور دیگر نے بھارتی یا مشترکہ پراجیکٹس میں حصہ لے کر دونوں جانب کے سننے والوں کو قریب کیا ہے۔ ان بڑے ناموں کی وساطت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ موسیقی نہ صرف فن ہے بلکہ ثقافتی سفارت کاری کا بھی ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ 
جب ہم پاکستانی موسیقی کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ملکۂ ترنم نور جہاں کی آواز، مہدی حسن کی غزلوں والی پرکشش آہنگ، اور نصرت کے روحانی قوالی انداز نے خطے کے موسیقی ذوق کو تشکیل دیا ۔ وہی دھنیں، وہی طرزِ آواز اور وہی شاعرانہ اظہار آج بھی نئے گلوکاروں اور بین الاقوامی سامعین کو متاثر کرتا ہے۔ یہی پرانیاں دھنیں آج کے مشترکہ پراجیکٹس میں نئے رنگ لے آتی ہیں اور جدید پروڈکشن کے ساتھ مل کر اُن کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔ ثقافتی پل بندی جب فنکار اکٹھے گیت بناتے ہیں تو اُن کی آوازیں اور مَضرِب (rhythms) ایک دوسرے کے ثقافتی سازوں  کو سمجھتی ہیں۔سامعین دو طرفہ ثقافتوں تک رسائی چاہتے ہیں ۔تخلیقی افق وسیع ہوتا ہے۔ پاکستان کے کلاسیکی، لوک اور غزل ورثے کا ملاپ بھارتی یا بین الاقوامی بیٹس، پروڈکشن اور مارکیٹنگ کے ساتھ نئے انداز جنم دیتا ہے۔ یوں ایک روایتی ساز بھی جدید پاپ میں نیا چہرہ پا لیتا ہے۔
 بڑے پراجیکٹس، شوز اور اسٹریمز سے فنکاروں کو نیا تجارتی دروازہ ملتا ہے ۔ باہمی تعاون دونوں انڈسٹریز کے لئے نئے سننے والوں اور مارکیٹوں کے راستے کھولتا ہے۔سیاست کے اَن گنت اتار چڑھاؤ کے باوجود، فنکار عام طور پر فن کے ذریعے بات چیت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ البتہ جب کبھی سیاسی اختلافات بڑھیں تو کلچرل شراکتوں پر اثر پڑتا ہے  ویزہ، پبلیسٹی، اور براہ راست پرفارمنس کے مسائل سامنے آتے ہیں۔  معاہدہ جاتی طریقہ کار، ڈیجیٹل تعاون (آن لائن ریکارڈنگ، کلاؤڈ پروڈکشن)، اور تیاری قبل از وقت ۔ یہ وہ عملی راستے ہیں جن سے فنکار، پروڈیوسر اور مینیجرز غیر یقینی دور میں بھی مشترکہ پراجیکٹس چلا سکتے ہیں۔جب جیسمین جیسی بین الاقوامی آرٹسٹ ہمارے گیت سنتی اور ان کی تعریف کرتی ہیں، اور جب وہی آوازیں مستقل بنیادوں پر مل کر نئی دھنیں بناتی ہیں، تو یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو سرحدوں کو پُھول بکھیرنے دیتی ہیں۔ ’’تتلی‘‘ اگر ایک گانا تھی تو اس نے اِک جالِ موسیقی میں نئے رشتے بنائے۔ اور یہ رشتے وقت کے ساتھ مضبوط ہوتے جائیں گے۔ موسیقی کا یہی حسن ہے۔ وہ ایک لمحے میں دشمنی کو بھلا دیتی ہے اور انسان کو صرف سننے اور محسوس کرنے کا باعث دیتی ہے۔عمیر بٹ اور جیسمین اب مزید پراجیکٹس کررہے ہیں جن کی ویڈیو لندن یا کینیڈا میں عکس بند کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:گلوکارہ ،اداکارہ و ماڈل فضاء علی کا نیا گانا ’’مہندی والی رات‘‘ریلیز