سونے کی مارکیٹ سے متعلق کمپٹیشن کمیشن کی ” اسیسمنٹ سٹڈی“ جاری

Nov 26, 2025 | 13:07:PM
 سونے کی مارکیٹ سے متعلق کمپٹیشن کمیشن کی ” اسیسمنٹ سٹڈی“ جاری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( وقاص عظیم )کمپٹیشن کمیشن نے سونے کی مارکیٹ پر ” اسیسمنٹ اسٹڈی“ جاری کردی۔
 کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی اسیسمنٹ سٹڈی کے مطابق پاکستان میں سونے کی مارکیٹ غیر دستاویزی اور غیر شفاف قیمتوں کا شکار ہے یہاں سالانہ 60 سے 90 ٹن تک سونے کی کھپت ہوتی ہے جبکہ ملک میں 90 فیصد سے زیادہ سونے کی تجارت غیر رسمی چینلز سے ہوتی ہے،گولڈ مارکیٹ کو دستاویزی شکل دینے کے لئے اتھارٹی تشکیل دی جائے۔
 ” اسیسمنٹ اسٹڈی“ کے مطابق مالی سال 2024 میں 17 ملین ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا،ریکو ڈک گولڈ پراجیکٹ 37 سال کے دورانیے میں تقریباً 74 ارب ڈالر مالیت کا سونا پیدا کرے گا، ریکو ڈیک منصوبہ سونے کی سپلائی چین کو بدلنے کی ممکنہ طاقت رکھتا ہے،غیر دستاویزی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے سونے کا زیادہ تر لین دین نقد ہوتا ہے ۔
 کمپٹیشن کمیشن کے مطابق تاجروں کے گروہ سونے کی قیمتوں اور سپلائی پر اثرانداز ہوتے ہیں،ملک میں سونے کے نرخ مقرر کرنے کا کوئی مارکیٹ میکانزم موجود نہیں،مختلف شہروں کی ایسوسی ایشنز روزانہ کی بنیادوں پر قیمتیں متعین کرتی ہیں ۔
 کمپٹیشن کمیشن کے مطابق ملک میں سونے کی مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے جامع ریگولیشن موجود نہیں ،سونے کی ٹرانزیکشن پر پیچیدہ ٹیکس کا نظام سمگلنگ اور انڈر انوائسنگ کو فروغ دیتا ہے،ملک میں سونے کی ریفائننگ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ،سونے کی ہال مارکنگ کی ناکافی سہولیات کے باعث ملاوٹ اور صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کے مسائل جنم لیتے ہیں ۔سونے کی درآمدات، فروخت اور خالص ہونے سے متعلق بھی قابلِ اعتماد ڈیٹا موجود نہیں  جس کے باعث مؤثر پالیسی سازی ممکن نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی سستی، فی یونٹ کتنی کمی ہوگی؟
 کمپٹیشن کمیشن کے مطابق گولڈ مارکیٹ کو منظم کرنے کے لیے کمپٹیشن کمیشن نے جامع اصلاحات تجویز کر دی ہیں جس کے تحت پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی تشکیل دی جائے،سونے کی لائسنسنگ، درآمدات اور اینٹی منی لانڈرنگ ریگولیشنز کے نفاذ کے لئے جامع اتھارٹی قائم کی جائے،سونے کے معیار کی جانچ اور درجہ بندی کو لازمی قرار دیا جائے ،سونے کی خرید و فروخت کو ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے منسلک کیا جائے،ترکی کے ماڈل پر گولڈ بنک کا نظام قائم کیا جائے،ریکو ڈیک منصوبے کے کمرشل آغاز سے پہلے گولڈ مارکیٹ کے لئے ریگولیشنز متعارف کروانے ضروری ہیں۔