قازقستان ، چین اور یورپ کی تجارت کا نیا مرکز بن گیا

May 26, 2026 | 10:46:AM
قازقستان ، چین اور یورپ کی تجارت کا نیا مرکز بن گیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی تجارت کے راستوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں چین اور یورپ کے درمیان زمینی ریل ٹرانسپورٹ میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اس رجحان سے قازقستان کو اربوں ڈالر کا معاشی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق قازقستان کی قومی ریلوے کمپنی “قازقستان ٹیمیر ژولی” (Kazakhstan Temir Zholy) کے سی ای او تلگت الدیبرگینوف نے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث کارگو ٹرانسپورٹ کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے مطابق چینی کمپنیوں نے سمندری راستوں کے بجائے زمینی ریل راستوں کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے، جس کی وجہ سے قازقستان کے ٹرانزٹ فیس، فریٹ چارجز اور لاجسٹکس آمدن میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:گیم تبدیل!تیل کا معاہدہ ختم کرنے اعلان

 ماہرین کے مطابق اس بڑھتی ہوئی ٹرانزٹ سرگرمی سے قازقستان کو مجموعی طور پر اربوں ڈالر کی اضافی آمدن متوقع ہے، کیونکہ ملک یورپ اور چین کے درمیان ایک اہم ٹرانزٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے۔

حکام کے مطابق اسی بڑھتی ہوئی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے قازقستان نے اپنا ریلوے انفراسٹرکچر مزید وسعت دینے اور جدید بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں مزید کارگو سنبھالا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جنگ اور خطے کی غیر یقینی صورتحال نے عالمی شپنگ انڈسٹری پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک اب محفوظ اور قابلِ اعتماد زمینی راستوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

تجزیہ کار اس رجحان کو عالمی سپلائی چین میں ایک بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں توانائی، تجارت اور لاجسٹکس کے شعبوں پر مزید واضح ہوں گے۔