لاہور ہائیکورٹ کا سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ملازمین کے تبادلوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازمت میں تبادلہ سروس کا حصہ ہے اور کوئی ملازم اپنی مرضی کے سٹیشن پر تعیناتی کا قانونی دعویٰ نہیں کر سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ محض آٹھ دن کے اندر تبادلہ ہونا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں ہے، جب تک تبادلے میں انتظامی بدنیتی ثابت نہ ہو، عدالت اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔
یہ فیصلہ جسٹس راحیل کامران نے چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم میں جاری کیا، عدالت نے بلڈنگ انسپکٹر محمد عمران ارشاد کی تبادلے کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی، درخواست گزار نے تبادلے کے محض آٹھ دن بعد عدالت سے رجوع کیا تھا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید قرار دیا کہ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے نفاذ کے بعد سابقہ قانون مؤثر نہیں رہا اور نئے قانون میں ملازمین کی تعیناتی کی مدت یعنی سیکیورٹی آف ٹینور کا کوئی تحفظ موجود نہیں لہٰذا محکمہ بلدیات کے ملازمین کسی مخصوص مدت تک ایک ہی جگہ تعیناتی کا حق نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑٖھیں:ڈی پورٹ ہونیوالے بھکاریوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کافیصلہ
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ پرانے عدالتی نظائر نئے قانون کی موجودگی میں درخواست گزار کے کام نہیں آ سکتے۔