چین بھارت کاپانی روک سکتا ہے،سینئر صحافی سلیم بخاری کاتہلکہ خیزانکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے ایشیا میں پانی پر ہونے والی سیاست پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کی طرف سے تبت کے اندر جو ڈیم بنانے کی بات ہے بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے،انہوں نے کہاہے کہ اگر ڈاون سٹریم واٹر روکنے کی روایت پڑ گئی تو چین بھی بھارت کا پانی روک سکتا ہے۔
بھارت کی جانب سے 24 گھنٹوں میں پاکستان سے دوسرا رابطہ اور بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد کی جانب سے وزارت خارجہ سے رابطہ کرکے دریائے ستلج میں سیلاب سے متعلق معلومات دینے پر سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ بھارت کے دل میں ہماری محبت نہیں جاگی بلکہ ورلڈ کا پریشر اتنا ہے کہ مجبورا ایسا کرنا پڑا ،جب سے انڈس واٹر کا کیس لیکر دنیا میں گئے ہیں،پوری دینا نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے،اس وجہ نے بھارت کو مجبور کیا ہےجبکہ دوسری بات چین کی طرف سے تبت کے اندر جو ڈیم بنانے کی بات ہے وہ بھی بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیوں کے اگر ڈاون سٹریم واٹر روکنے کی روایت پڑ گئی تو چین بھی بھارت کا پانی روک سکتا ہے۔
سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ اس لیے بھارت نے پاکستان کو ایڈوانس بتا دیا ہے کہ ہم تو پانی چھوڑنے لگے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس کو صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ ہلکی سے برف پگھلی ہے لیکن اس کو ہندوستا ن کی طرف سے کوئی فیور نہ سمجھا جائے بلکہ یہ صرف ورلڈ پریشر کے نیچے کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سینئر صحافی کا مزید کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ بھارت واپس اپنی پووزیشن پر جارہا ہے اور معاملات کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے،ورنہ وہ ایسا نہ کرتا۔
رانا ثنا کے گھر حملے کا کیس؛
سلیم بخاری نے کہا کہ فوجی قیادت کی کوشش ہے کہ اس قسم کی سزائیں دی جائیں کہ کوئی دوبارہ ایسا کرنے کا سوچے بھی نہ،واقعتا جو حرکت ہوئی تھی وہ نہیں ہونی چاہیے تھی،آپ اپنے جی ایچ کیو کے اندر اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملہ آور نہیں ہو سکتے۔
رانا ثنا کے گھر حملے میں پی ٹی آئی رہنماعمر ایوب اور شبلی فراز سمیت 59 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا پر سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ فیصل آباد میں 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے مقدمات میں 4 مقدمات درج ہوئے تھے جس میں سے 3 کے فیصلے پہلے سنا دیے گئے تھے،چوتھا مقدمہ رانا ثنا اللہ کے گھر پر حملے اور توڑ پھوڑ کا سمن آباد تھانے میں درج ہوا تھا جس میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سمیت 109 افراد کو نامزد کیا گیا تھا،اس قسم کے کیسز کے ایسے ہی فیصلے آنے تھے،یہ تو پہلے سوچنا چاہیے تھا نہ کہ یہ ٹھیک نہیں ہے،انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تو میانوالی کے کیسز کے بھی فیصلے آنے ہیں۔
کیا بانی پر اور تحریک انصاف پر سیاسی مقدمات بنائے گئے ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ جو مقدمات بانی پر بنے ہیں یا بشریٰ بی بی پر بنے ہیں وہ سیاسی ہو سکتے ہیں لیکن جو نو مئی کے مقدمات ہیں وہ سیاسی بلکل بھی نہیں ہیں،یہ بہت بڑی زیادتی ہو گی اگر ان کو سیاسی مقدمات کہا جائے۔
پولیٹیکل سپیس بلکل ختم ہو گئی ہے؟
اس حولے سے انہوں نے کہا کہ اس میں بھی کس کا قصور ہے،بانی خود سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے ،وہ ان کو ڈاکو اور لٹیرے کہتے ہیں، ملڑی لیڈر شپ ان سے بات کرنے کو راضی نہیں ہے تو پھر مزاکرات کس سے ہونگے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا عہدے سے مستعفی ہونےکے فیصلہ پر اپنی رائے کا دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بات تو یہ ہے کہ جو پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنانا تھا تو بتایا جاتا ہے کہ ایڈہاک بنانا ہے اگر پارٹی تقسیم کا شکار ہے، اس کی ایک وجہ ہے کہ پارٹی کی لیڈر شپ ان کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے، اس وجہ سے پارتی انتشار کاشکار ہے۔
دوسری وجہ علیمہ خان سے معاملات درست نہیں ہیں جس کی وجہ سے سلمان اکرم راجہ دلبرداشتہ ہوئے، سلمان اکرم راجہ اور علیمہ خان کے درمیان ضمنی انتخابات کے معاملے پربحث و تکرار ہوئی تھی،علیمہ خان نےکہا کہ بانی پی ٹی آئی کا واضح حکم تھا کہ ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لیں،پارٹی ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ نے سیاسی کمیٹی کا مؤقف اور ارکان کی رائے سے علیمہ خان کو آگاہ کیا۔
گریٹراسرائیل منصوبہ خطے کیلئے خطرہ ہے، اس منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں: پاکستان
سلیم بخاری نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اس بیان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہ اسرائیل کا گریٹراسرائیل منصوبے خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے اور پاکستان گریٹر اسرائیل منصوبے کو سختی سے مسترد کرتا ہے،انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں پہلی بار تمام وزرائے خارجہ نے یک زبان ہو کر کہا کہ یہ جو گریٹر اسرائیل کی بات ہے یہ کچھ بھی نہیں ہے بلکہ نانسینس ہے اور ساتھ میں ایک لفظ کہا گیا ہے کہ ہم نہیں ہونے دینگے،
سلیم بخاری نے مزیدکہا کہ یہ ایک سیریس پیغام ہے نا صرف اسرائیل کے لیے بلکہ امریکہ کے لیے بھی۔جو یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ عرب ملک سارے طفیلیے ہیں اس موقع پر اس قسم کا بیان معانی خیز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات کے سفیر کی پاکستان میں9سالہ قیام کے بعد وزیراعظم سے الوداعی ملاقات