حالیہ کشیدکی کے دوران کیا بھارتی مسافر طیارو ں کو پاکستان میں ہنگامی لینڈنگ کی اجازت ہوگی۔۔؟

Apr 26, 2025 | 22:42:PM
 حالیہ کشیدکی کے دوران کیا بھارتی مسافر طیارو ں کو پاکستان میں ہنگامی لینڈنگ کی اجازت ہوگی۔۔؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)پاکستان اور بھارت دونوں نے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف سخت سفارتی اقدامات کیے ہیں۔ نئی دہلی اور اسلام آباد میں موجود سفارتی عملے اور دونوں ممالک کے شہریوں کو اپنے ملک واپس جانے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی جبکہ پاکستان نے انڈین ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ایسے ماحول میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کوئی انڈین مسافر طیارہ اگر ہنگامی یا میڈیکل ایمرجنسی میں پاکستانی حدود میں داخل ہونا چاہے تو کیا وہ لینڈنگ کی اجازت حاصل کر سکتا ہے؟ کیا قانون اس کی اجازت دیتا ہے؟
 رپوْرٹ کےمطابق اگر ماضی پر نظر دوڑائیں تو متعدد بار انڈین طیاروں نے پاکستان اور بالخصوص کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایمرجنسی یا میڈیکل بنیادوں پر لینڈنگ کی ہے۔حالیہ مثالوں میں ایئر انڈیا ایکسپریس کی وہ پرواز شامل ہے جو دبئی سے امرتسر جا رہی تھی۔ راستے میں ایک مسافر کو مرگی کا شدید دورہ پڑا۔ پائلٹ نے فوری طور پر کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایمرجنسی لینڈنگ کی اجازت حاصل کی۔جہاز کے لینڈ ہونے کے بعد کراچی ایئرپورٹ کے طبی عملے نے مریض کو دوا فراہم کی اور طیارہ اپنی اگلی منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔اس سے قبل انڈیگو ایئرلائن کی دہلی سے جدہ جانے والی پرواز نے بھی ایک مسافر کی حالت بگڑنے پر کراچی ایئرپورٹ پر میڈیکل لینڈنگ کی تھی۔ اس واقعے میں بھی پاکستان سول ایوی ایشن نے انسانی بنیادوں پر پرواز کو لینڈنگ کی اجازت دی اور میڈیکل ٹیم نے فوری امداد فراہم کی۔ایسا ہی ایک واقعہ نومبر 2023 میں پیش آیا، جب جدہ سے انڈین شہر حیدرآباد جانے والی پرواز میں سوار خاتون مسافر کی طبیعت خراب ہو گئی، لیکن کراچی پہنچنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر چکی تھیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے جہاز کو لینڈنگ کی اجازت دی تاکہ باقی عمل مکمل کیا جا سکے۔پاکستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے قوانین کے مطابق کسی بھی غیرملکی طیارے کو ایمرجنسی یا طبی وجوہات کی بنیاد پر لینڈنگ کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
سول ایوی ایشن آرڈیننس 1960 کے تحت پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو فضائی نقل و حمل کو کنٹرول کرنے اور ریگولیٹ کرنے کے اختیارات حاصل ہیں، جن میں ایمرجنسی لینڈنگز سے متعلق قوانین و ضوابط بھی شامل ہیں۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ایکٹ 2023 ہوائی اڈوں کے انتظامات اور آپریشنز کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ قانون ایمرجنسی لینڈنگز کے دوران مؤثر انتظامات کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری ردِعمل فراہم کیا جا سکےیہ قانون بین الاقوامی ایوی ایشن (آئی سی اے او) ادارے کے اصولوں کے تحت ترتیب دیا گیا ہے، جس کی رُکنیت پاکستان اور انڈیا دونوں کے پاس ہے۔
آئی سی اے او کا ایننکس 9 ریاستوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ انسانی جان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں۔آئی سی اے او کا ایننکس 9 دراصل بین الاقوامی شہری ہوا بازی کے معاہدے شکاگو کنونشن کا حصہ ہے، اور اس کا تعلق سہولت کاری یعنی ہوائی سفر کو آسان بنانے سے ہے۔آئی سی اے او کے تحت تمام ریاستوں پر یہ لازم ہے کہ وہ ہنگامی حالات میں طیاروں کو فوری لینڈنگ کی اجازت دیں، خاص طور پر اگر مسافر کی حالت تشویش ناک ہو۔