ہرمز بحران کے بعد بھارت نے مشرقِ وسطیٰ چھوڑ کر افریقہ اور لاطینی امریکا کا رخ کر لیا

May 25, 2026 | 13:39:PM
ہرمز بحران کے بعد بھارت نے مشرقِ وسطیٰ چھوڑ کر افریقہ اور لاطینی امریکا کا رخ کر لیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں شپنگ متاثر ہونے کے بعد بھارت نے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار کم کرتے ہوئے افریقہ اور لاطینی امریکا سے خام تیل کی درآمدات بڑھا دی ہیں۔

بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق دنیا کے تیسرے بڑے تیل درآمد کنندہ بھارت نے اپریل اور مئی کے دوران وینزویلا، برازیل، انگولا اور نائجیریا سے تیل خریداری میں نمایاں اضافہ کیا، تاکہ مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی میں آنے والی رکاوٹ کو پورا کیا جا سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران تنازع اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے کے بعد بھارتی آئل ریفائنریز نے متبادل ذرائع تلاش کرنا شروع کیے، اس دوران بھارت نے روسی تیل کی خریداری بھی جاری رکھی، اگرچہ مارچ کے مقابلے میں روس سے درآمدات میں کمی دیکھی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:پٹرول 102.12،ڈیزل 95.20 روپے!نئی قیمتوں کا اعلان ہو گیا

حیران کن طور پر بھارت نے تقریباً سات سال بعد ایرانی تیل بھی درآمد کیا، جس کے لیے امریکا کی جانب سے عارضی رعایت دی گئی تاکہ عالمی تیل مارکیٹ کو مستحکم رکھا جا سکے۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں بھارت نے عراق سے تیل خریداری تقریباً بند رکھی، جبکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے درآمدات میں اضافہ ہوا، کیونکہ یہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی پائپ لائنز استعمال کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ بحران نے بھارت کو اپنی توانائی پالیسی تبدیل کرنے اور متبادل عالمی سپلائرز کی جانب تیزی سے بڑھنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے، جبکہ سرمایہ کار خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔