لاکھوں دلوں پر راج کرنے والی حسن کی ملکہ ''مدھو بالا'' کی زندگی کے چھپے راز
مدھو بالا کے والد نے بہت تگ و دو کے بعد دلیپ کمار کے پیار کو مدھو کے دماغ سے نکال دیا تھا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(تیسری قسط)
آئیے ذرا اس پر بھی غور کرلیں کہ مدھو بالا اور دلیپ کمار کے عشق کے حوالے سے کچھ ایسے لوگوں کے احساسات کیا ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے ان دو پیار کرنے والوں کے قریب رہے ہیں،مدھو بالا کی بہن مُدھر بھوشن نے ایک انٹرویو میں کچھ ایسی باتوں پر سے پردہ اُٹھایاجو اس سے پہلے مخفی تھیں،اگر کسی 27 سالہ خوبرو حسینہ کو اچانک یہ بتایا جائے کہ اب اس کی زندگی کے صرف دو سال باقی ہیں تو اس پر کیا گزری ہو گی؟اس کا اندازہ لگانا مُمکن ہے، آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اپنی زندگی کے آخری سال میں وہ فلم ’’جیول تھیف‘‘کا گانا ’’رُلا کے گیاسپنامیرا‘‘ اکثر سُنتی رہتی تھیں،خوابوں کی یہ شہزادی اپنے ہی خوابوں کے ہاتھوں دھوکہ کھا گئی، مُدھرکہتی ہیں’’میں ان کی سب سے چھوٹی بہن تھی اور میں ان کی کامیابیوں کے عروج اور پھر آہستہ آہستہ ان کی بیماری کی وجہ سے ان کے فلمی دُنیا میں زوال کی گواہ ہوں،میں نے اپنے بچپن میں تو آپا کو ہمیشہ شوٹنگ کرتے ہی دیکھا،میرے والد امپیریل ٹوبیکو کمپنی پشاور کے ملازم تھے اور ذرا ٹیڑھے دماغ کے انسان تھے۔لہٰذا 15 سالہ پرانی ان کی نوکری ختم ہونے میں ایک پل بھی نہ لگا،ان کے بے روزگار ہونے کے بعد آپا ہی گھر کی واحد کفیل تھی،وہ سات سال کی عمر میں ہی رقص بھی کرلیتی اور گا بھی لیتی تھیں،اس وقت سے لے کر آخری سانس تک وہ گھر کی واحد کفیل رہیں،میرے والد کے بارے میں سخت گیر ہونے کا تاثر درست نہیں،وہ ڈسپلن کے پابند تھے اور باقاعدگی کے قائل تھے،میں مدھو آپا کے حُسن کے بارے میں کیا کہوں،کیا یہ کافی نہیں کہ ان کے اس دُنیا سے اُٹھ جانے کے نصف صدی بعد بھی لوگ ان کے حُسن کی باتیں کرتے اورانہیں یاد رکھے ہوئے ہیں، ہم بہنیں ان کے ساتھ کھڑے ہو کر احساس کمتری کا شکار ہو جاتی تھیں،ہم تو کسی صورت بھی ان کے مقابل آنے کی ہمّت نہ رکھتی تھیں،آپا کو سفید پلین ساڑھی، گولڈن اور کندن کی جیولری بہت پسند تھیں،وہ چاٹ کھانے کی بہت دلدادہ تھیں،اس کے علاوہ پیٹیز، پانی پوری اور قلفی بہت شوق سے کھاتی تھیں،وہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے برقعہ پہنتی تھیں تاکہ لوگ انہیں پہچان کر اکٹّھے نہ ہو جائیں،آپا کے کوئی دوست نہیں تھے کیونکہ انہیں آزادانہ گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی، ایک بار ہمارے والد سے کسی نے کہا کہ اگر آپ اتنے ہی قدامت پسند ہیں تو آپ نے اپنی بیٹی کو فلموں میں کام کرنے کی اجازت کیوں دی تو انہوں نے کہاکہ میرا بیٹا خدا نے چھین لیا،اگر مدھو کماتی نہ تو ہم فاقوں سے مر جاتے،آپا بہت ہی جذباتی لڑکی تھی اور چند سیکنڈ میں آنسوئوں سے رونا شروع ہوجاتی تھیں، مگر وہ اتنی ہی جلد قہقہے بھی لگانے لگتی تھیں، میرے خیال میں وہ بہت زیادہ مذہبی جذبات نہیں رکھتی تھی،وہ روزے نہیں رکھتی تھی مگر دن میں ایک نماز ضرور پڑھتی تھی، آپا نے پریم ناتھ سے بھی پیارکی ابتداء کی تھی مگر مذہب آڑے آگیا،وہ کسی غیرمسلم سے زندگی کا ناطہ جوڑنا نہیں چاہتی تھی،انہوں نے دل سے پیار صرف بھائی جان (دلیپ کمار) سے ہی کیا جن سے ان کی پہلی ملاقات ’’ترانہ‘‘فلم کے سیٹ پر ہوئی تھی،ان کا یہ عشق 9 سال تک جاری رہا جس کے نتیجے میں ان دونوں کی منگنی تک ہو گئی تھی،بھائی جان اور آپا کی جوڑی ایسی تھی کہ لگتا تھا اللہ نے انہیں ایک دوسرے کے لئے ہی بنایا ہے،ان کی علیحدگی کا باعث بنی فلم ’’نیا دور‘‘جس کا معاملہ عدالت میں گیاجہاں بھائی جان نے میرے والد کو ڈکٹیٹر قرار دیا اور چوپڑہ کا ساتھ دیا،اس سے دونوں کے تعلّق میں دراڑ پڑ گئی اور رشتے ٹوٹ گئے،میں آج بھی بھائی جان سے پوچھتی ہوں کہ آپ کی محبّت یہاں تھی، آپ کی چاہت یہاں تھی،پھر آپ نے ایسا کیوں کیا، مگر دونوں کی ضِد اور اَنا نے ان کے پیار کو اُجاڑ دیا، بھائی جان مدھو کو اس کے والد سے علیحدہ کرنا چاہتے تھے جبکہ مدھو کا اصرار تھا کہ وہ اس کے باپ سے معذرت کرے،میرے والد نے مدھو پر کبھی منگنی توڑنے کے لئے دبائو نہیں ڈالا اور نہ ہی وہ دلیپ کو معافی مانگنے پرمجبور کرنے کے حامی تھے، کشورکمار سے شادی کے بعد وہ اپنی بیماری سے بہت بیزار تھی اور اکثر زاروقطار روتے ہوئے چیخ چیخ کر کہتی تھیں مجھے زندہ رہنا ہے مجھے مرنا نہیں ہے،وہ ایک بھرپور زندگی دلیپ کے ساتھ گزارنے کی خواہش مند تھیں اور اکثر خود کلامی کرتے ہوئے بڑبڑاتی تھیں کہ ’’ڈاکٹر کب علاج نکالیں گے؟‘‘ مجھے اچھّی طرح یاد ہے کہ جب بھائی جان نے سائرہ بانو سے شادی کی تو آپا بہت آزردہ تھیں کیونکہ وہ دلیپ کمار کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے چاہتی تھیں،میں نے آپا کو یہ کہتے سناتھاکہ ان کے نصیب میں وہ (سائرہ بانو) تھی میں نہیں،وہ یہ بھی کہتی تھیں کہ انہوں نے ایک خوب صورت خاتون سے شادی کی ہے،وہ بہت وفادار ہے،میں دلیپ کے لئے بہت خوش ہوں۔‘‘

مدھو بالا کے والد نے بہت تگ و دو کے بعد دلیپ کے پیار کو مدھو کے دماغ سے نکال دیا اور یہ بھی ہوا کہ مدھو کے دل ودماغ میں دلیپ کے لئے نفرت انگیز جذبات پیدا ہوگئے تھے اور انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ دلیپ کو میری آخری رسومات میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔ اب دیکھیں اس کا راوی کون ہے،معروف شاعر شکیل بدایونی فلم’’مغل اعظم‘‘کی شوٹنگز کے دوران مدھو کے بہت قریب آ گئے تھے،ان کا کہنا ہے کہ مدھو نے راز دارانہ انداز میں انہیں یہ بات کہی تھی،ہوا یوں کہ ایک دن وہ بہت اداس تھیں،آنکھوں میں چھلکتے آنسو لئے بھرائی ہوئی آواز میں انہوں نے مجھے کہا کہ جب میں مر جائوں تو قبرستان میں میرے آخری سفر میں دلیپ کو شرکت نہ کرنے دی جائے،مجھے یہ سُن کر حیرت تو ہوئی مگر میں اس کے جذبات سے شناسا تھا،اس کے مرنے کے بعد آخری خواہش مجھے ایک عرصہ تک پریشان کرتی رہی تاہم میں نے اسے ’’مغل اعظم‘‘ کے ایک گانے میں یوں سمودیا
’’قسم ہے تمہیں نہ دینا کاندھا اُٹھے جب میرا جنازہ‘‘
فلم کا آخری گانا بھی آپ کو یاد ہوگا ’’خدا نگہبان ہو تمہارا‘‘ یہ گانا مدھو کے آخری وقت میں ایک حقیقت بن کر سامنے آیا،جب مدھو کی موت کا اعلان کیا گیاتو دلیپ اس وقت مدراس کے علاقے چنائے میں شوٹنگ کر رہے تھے فلم’’گوپی‘‘ کی، یہ خبر سُن کر انہوں نے شوٹنگ ختم کر دی اور بمبئی کے لئے روانہ ہوگئے،اب اسے شومئی قسمت کہیں یا مدھو کی دلی خواہش کا نتیجہ کہ جب دلیپ کمار قبرستان پہنچے تو مدھو کی تدفین ہوچکی تھی اور یوں وہ ان کی شکل دیکھنے سے بھی محروم رہ گئے۔