مرگی آسیب نہیں ایک قابل علاج بیماری ہے:پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان
یہ ایک طرح سے برین کا شارٹ سرکٹ جو چند سیکنڈ کیلئے ہوتا ہے ، علاج نہ کیا جائے تو خطرناک ہو جاتا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز ) معروف چائلڈ نیورالوجسٹ اور میڈیکل ڈائریکٹر چلڈرن ہسپتال لاہور پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے کہا ہے کہ مرگی کا دورہ کسی جن بھوت کے اثرات کی وجہ سے نہیں ہوتا اور اس کا علاج جوتا سنگھانا یا پیاز ہر گز نہیں ہے نہ ہی مرگی کے مریض کو کمرے میں بند کرنے سے یہ بہتر ہوتی ہے۔
24نیوزکے پروگرام’’مارننگ ود فضا‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے معروف چائلڈ نیورالوجسٹ اور میڈیکل ڈائریکٹر چلڈرن ہسپتال لاہور پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے کہا کہ مرگی ایک صدیوں پرانی بیماری ہے ، یہ دماغ کی کیفیت ہےجو قبل ازمسیح میں بھی تھی ، توہمات ماننے والے اس وقت بھی اس کا علاج کر رہے ہوتے تھے اور آج بھی کچھ ممالک میں کچھ جگہوں پر یہی سمجھا جاتا ہے ، یہ برین کا فنکشنل ڈس آرڈر ہے اوریہ ایک طرح کا برین کا شارٹ سرکٹ ہے جو چند سیکنڈ کیلئے ہوتا ہے ، اگر علاج نہ کیا جائے تو خطرناک ہو جاتا ہے ، برین کے اندر بھی اربوں نیورانز خلیے ہیں ان کا کنکشن نیورو ٹرانسمیٹرز کے ذریعے ہوتا ہے ، ان کی کمی یا بیشی کے باعث بیماریاں آتی ہیں ، یہ دورے کی شکل میں سامنے آتی ہیں ، اگر اسے کنٹرول نہ کیا جائے تو یہ نقصان کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مرگی کی کچھ اقسام ہیں جو والدین سے بچوں کو منتقل ہو سکتی ہیں، اگر ماں باپ وہ جین بچے میں منتقل کردیں تو یہ ممکن ہے ۔
پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان کے مطابق زیادہ تر مرگی کسی وجہ سے ہوتی ہے ، یہ بچے کی پیدائش کے دوران برین کو نقصان پہنچنے سے بھی ہو سکتی ہے ، مرگی کی تشخیص آسان ہے، اگر دورہ گھر پر پڑا ہے تو موبائل فون سےایک کلپ بنالیں جس سےیہ جاننے میں آسانی ہوتی ہے کہ یہ مرگی ہے یا نہیں ، اس میں ای ای جی ٹیسٹ ہوتا ہے جیسے ہارٹ کی ای سی جی ہوتی ہے ، دماغ میں پندرہ بیس تاریں لگا کر برین کی ویوز ریکارڈ کی جاتی ہیں ، برین ویوز میں ہی مرگی کی ویوز ہوتی ہیں ، برین سیلز جب اپنا کام درست نہیں کرتے اس میں جھٹکے لگتے ہیں ، بچہ پانچ یا دس سیکنڈ کے لئے گُم سُم بھی ہو جاتا ہے ، کلاس روم میں بچہ اچانک گُم سُم ہو جاتا ہے،وہ کرسی سے گرتا بھی نہیں ، بہت چھوٹے بچے میں جھٹکا لگ کر روتا ہے تو ماں باپ سمجھتے ہیں کہ بچہ ڈر گیا ،والدین ایسے موقع پر ویڈیو بنا کر ڈاکٹر سے ضرور ڈسکس کریں۔

پروفیسر ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے کہا کہ اگر دورہ پڑ جائے تو مریض کو کروٹ میں لٹا ئیں، گلے کے ارد گرد کوئی کپڑا ہے تو ہٹا دیں ، جھاگ ہے تو صاف کر دیں،یہ دورے خطرناک نہیں، اگر ایک منٹ تک کے ہوں ، اگر بار بار دورے ہوں تو علاج کریں ،یہ دو سے پانچ برس کا علاج ہے جس سے بچے ستر سے اسی فیصد ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔