نور مقدم کے قاتل کی جھوٹی درخواست، طبی معائنہ میں ملزم’’ چنگا بھلا ‘‘قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(بابر شہزاد ترک) نور مقدم قتل کیس کا مجرم ظاہر جعفر صحت مند قرار، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی درخواست پر کئے گئے طبی معائنہ میں ظاہر جعفر کی نفسیاتی و نیورولوجیکل جانچ نارمل ہے۔
ذرائع کے مطابق نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفرکا معائنہ پمز کے دو رکنی میڈیکل بورڈ نے21 جولائی کو کیا،ظاہر جعفر کا طبی معائنہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی درخواست پر کیا گیا، پمز کے ماہر امراض نفسیات اور نیورو نے ظاہر جعفر کا تفصیلی معائنہ کیا، ظاہر جعفر ذہنی و نفسیاتی طور پر مکمل صحت مند، مزاج نارمل پایا گیا، ظاہر جعفر میں نفسیاتی بیماری یا دماغی خرابی کے شواہد نہیں ملے، ظاہر جعفر کے لواحقین رحم کی اپیل دائر کرنے پر غور کر رہے ہیں، ظاہر جعفر نے رحم کی اپیل کیلئے نفسیاتی معائنہ کی درخواست دی تھی۔
واضح رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک گھر میں قتل کیا گیا تھا، اسی روز ظاہر جعفر کے خلاف واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔عدالت نے 14 اکتوبر کو ظاہر جعفر سمیت مقدمے میں نامزد دیگر 11 افراد پر فرد جرم عائد کی تھی، 24 فروری 2022 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنا دی تھی۔عدالت نے مختصر فیصلے میں ظاہر جعفر کو قتل عمد کے سلسلے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائی تھی اور نور مقدم کے ورثا کو 5 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم کے بہیمانہ قتل سے متعلق کیس میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کی جانب سے ظاہر جعفر کو سزائے موت سنانے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے سزا کے خلاف اپیلیں مسترد کر دی تھیں۔بعدازاں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ،جس پر تین رکنی بینچ نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لکڑ دادی کا انتقال ،51پوتے پوتیاں،122 پرپوتے پرپوتیاں اور چوتھی نسل کے 22 بچے سوگوار