شہریوں نے ’’بنام سرکار‘‘ میں پنجاب حکومت کے بائیکس کیلئے انٹینا پروگرام کو قابل تحسین قرار دیدیا

Jan 24, 2026 | 21:04:PM
شہریوں نے ’’بنام سرکار‘‘ میں پنجاب حکومت کے بائیکس کیلئے انٹینا پروگرام کو قابل تحسین قرار دیدیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)لاہوریوں کی اکثریت نے ’’بنام سرکار‘‘ پروگرام میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کی آمد پر بائیکس کے لیے شروع کیے گئے ’’مفت انٹینا کی تقسیم‘‘ کو قابل تحسین قرار دے دیا۔

لاہور میں موٹر سائیکل سواروں کو خطرناک پتنگ کی ڈور سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومتِ پنجاب کی جانب سے بائیک پر انٹینا لگانے کی مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ایک خصوصی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جہاں شہریوں میں مفت انٹینا تقسیم کیے گئے۔

کیمپ میں چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور، کمشنر لاہور مریم خان اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی بابر علی نے شرکت کی۔ پروگرام کے دوران اینکر زوہیب سلیم بٹ نے شہریوں، ٹریفک وارڈنز اور حکومتی افسران سے بات چیت کی اور اینٹینا کی افادیت اور معیار پر سوالات اٹھائے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ جس طرح وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ہیلمٹ کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، اسی طرح  انٹیناکا استعمال بھی ضروری ہے کیونکہ یہ خطرناک ڈور سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے،شہریوں کے مطابق یہ اقدام ان کی جانوں کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔

ٹریفک وارڈنز نے وضاحت کی کہ اینٹینا ایک حفاظتی آلہ ہے جو ڈور کو موٹر سائیکل سوار کے جسم تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اینٹینا ڈور کو ٹچ کرتے ہی پیچھے کی طرف دھکیل دیتا ہے، جس سے گردن اور جسم محفوظ رہتا ہے،اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی بابر علی نے بتایا کہ سرکلر روڈ پر ٹریفک کا دباؤ زیادہ ہونے کے باعث پہلے بھی دو مہمات چلائی جا چکی ہیں اور یہ تیسری مہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مہم کا دائرہ کار پورے لاہور تک پھیلا ہوا ہے اور کسی قسم کا ریڈ زون نہیں، ان کے مطابق لاہور میں تقریباً 48 لاکھ موٹر سائیکلوں پر اینٹینا نصب کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔پروگرام کے دوران ایک شہری نے اینٹینا لگاتے ہی اس کے ٹوٹنے کی نشاندہی کی اور کہا کہ یہ گتے یا کمزور فائبر سے بنا ہوا محسوس ہوتا ہے، جو زرا سا فولڈ کرنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔

 شہری کا کہنا تھا کہ یہ پائیدار نہیں اور اس کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے،اینکر زوہیب سلیم بٹ نے خود موٹر سائیکل پر بیٹھ کر اینٹینا کا عملی معائنہ کیا اور اس کی مضبوطی پر سوالات اٹھائے  تاہم ٹریفک وارڈنز اور لیڈی اہلکاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اینٹینا ڈور سے نہیں ٹوٹے گا اور یہ وائر کٹنگ سے محفوظ ہے۔ اس دوران اینکر اور ٹریفک اہلکاروں کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی دیکھنے میں آیا۔

بعد ازاں اینکر نے سی ٹی او لاہور سے اینٹینا کے معیار پر سوال کیا، جس پر سی ٹی او نے کہا کہ یہ مہم کا آغاز ہے اور آئندہ اس میں بہتری لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر سنگل اینٹینا لگایا جا رہا ہے جو مؤثر ثابت ہوگا، اینکر زوہیب سلیم بٹ نے سی ٹی او کی بات کی ترید کرتے ہوئے کہا کہ سیفٹی راڈ سے زیادہ ضروری لوگوں کی جانیں ہیں جوکہ پہلے بچانی چاہیے ، اینکر زوہیب سلیم بٹ کی بات سن کر سی ٹی او نے پنجابی میں کہا کہ " توں تے اپنا بندہ اے تیرے کول اے اُمید نہیں سی ۔کمشنر لاہور مریم خان نے مہم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اینٹینا مہم مجموعی طور پر سیفٹی گیئر کا حصہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس وافر فنڈز موجود ہیں اور اینٹینا کی سپلائی بھی آ چکی ہے، معیار سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی قسم کی خامی سامنے آئی تو اسے فوری طور پر درست کیا جائے گا، انتظامیہ کے مطابق اس مہم کا مقصد شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے تاکہ پتنگ بازی کے باعث ہونے والے حادثات سے بچا جا سکے۔پروگرام کے اختتام میں پچھلے ہفتے کے پروگرامز کے بھی کچھ حصے دیکھئے گئے جس میں پتنگ کے اُستادوں نے اپنا اپنا تعارف کیساتھ بسنت جیسے تہوار پر کھل کر بات کی۔

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کی ابوظہبی محکمہ خزانہ کے چیئرمین سے ملاقات