وزیراعلیٰ کی ای بائیکس سکیم، طلبہ و طالبات کیلئے نئے سکوٹی سکولز اور کاؤنٹرز قائم 

Sep 05, 2026 | 10:42:AM
وزیراعلیٰ کی ای بائیکس سکیم، طلبہ و طالبات کیلئے نئے سکوٹی سکولز اور کاؤنٹرز قائم 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(عابد چودھری) وزیراعلیٰ کی ای بائیکس سکیم کے تحت طلبہ و طالبات کی سہولت کیلئے لاہور ٹریفک پولیس نے نئے سکوٹی ڈرائیونگ سکولز اور کاؤنٹرز قائم کردیئے ہیں، ای بائیک سکیم میں شامل طلبہ و طالبات کو ڈرائیونگ کی عملی تربیت فراہم کرنے کیلئے 5،5 ڈرائیونگ ٹریننگ سکولز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی ہدایت پر تمام لائسنس سینٹرز میں الگ سکوٹی کاؤنٹرز بھی قائم کردیئے گئے ہیں۔

سی ٹی او لاہور کے مطابق سکوٹی لائسنس کے حصول کیلئے طلبہ و طالبات کو صرف اپنا شناختی کارڈ ہمراہ لانا ہوگا، سکوٹی ڈرائیونگ کی تربیت کیلئے آبشار ڈرائیونگ سکول، لبرٹی خدمت مرکز اور گریٹر اقبال پارک میں ٹریننگ سکول قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ٹریفک پولیس لائنز مناواں اور ایل او ایس فیروزپور روڈ پر بھی سکوٹی سکول قائم کیے گئے ہیں۔

سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق ایل او ایس فیروزپور روڈ پر قائم سکوٹی سکول میں صرف خواتین کو مفت سکوٹی چلانے کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، شہر بھر میں خواتین کیلئے سکوٹی ٹریننگ کے 5 جبکہ گاڑی چلانے کی تربیت کیلئے 12 ڈرائیونگ سکولز قائم کیے گئے ہیں، جہاں خواتین کو وویمن ٹو وویمن سروس بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں:بسنت فیسٹیول ؛ انتظامی اور ثقافتی تیاریوں کے بارے میں اہم اجلاس

سی ٹی او لاہور کے مطابق لاہور ٹریفک پولیس کے ڈرائیونگ سکولز سے اب تک 8 ہزار 220 خواتین نے کار ڈرائیونگ جبکہ 7 ہزار 290 خواتین نے سکوٹی چلانے کی مفت تربیت حاصل کی ہے،رواں سال بھی ایک ہزار 629 خواتین نے ڈرائیونگ سکولز سے تربیت حاصل کی ہے، ان کا کہنا تھا کہ لاہور ٹریفک پولیس کے ڈرائیونگ اسکولز سے ہزاروں خواتین بااعتماد ڈرائیور بن چکی ہیں اور خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت دے کر انہیں خودمختار اور بااختیار بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

سی ٹی او عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ خواتین بااختیار ہوں گی تو معاشرے میں واضح تبدیلی آئے گی، معاشرتی اور سماجی ترقی کیلئے مردوں کے ساتھ خواتین کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خواتین کو ڈرائیونگ کی تربیت فراہم کرنے کا مقصد انہیں سفری سہولت کے ساتھ خوداعتمادی، خودمختاری اور عملی زندگی میں مزید بااختیار بنانا ہے۔