ہائیکورٹ  نے " گرینڈ حیات" کی لیز منسوخ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ  کر لیا

Feb 24, 2026 | 17:47:PM
 ہائیکورٹ  نے
کیپشن: گرینڈ حیات مین بہت سے با اثر لوگوں کے اپارٹمنٹ ہیں۔ اس تنازعہ کو لٹکے ہوئے دو دہائیں گزر چکی ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احتشام کیانی)  اسلام آباد ہائیکورٹ  نے  ریڈ زون میں واقع کثیر منزلہ عمارت" گرینڈ حیات" کی لیز منسوخ کنرے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ  کر لیا۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد آج  کیس کی سماعت مکمل ہونے کا اعلان کیا اور فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اس کیس کی سماعت کی ۔

کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے وکیل نے  عدالت کو بتایا کہ لیز کو  21 سال گزرنے کے باوجود ادائیگیاں نہیں ہو سکیں۔

سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ  سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا اسی کیس سے متعلق فیصلہ آج تک جاری نہیں ہوا۔

وکیل نے مزید بتایا کہ سابق جج اعجاز الاحسن بی این پی گروپ کی نمائندگی کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  فتنۃ الخوارج کا زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانے والی ایمبولینس پر حملہ، آگ لگا کر زندہ جلا دیا

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا،  کیا اعجاز الاحسن وہی ہیں جنہوں نے بعد میں یہ کیس سنا تھا؟ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر  نے مزید سوال کیا کہ کیا سی ڈی اے نے ان پر اعتراض نہیں کیا تھا؟

سی ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ اس وقت سی ڈی اے کے وکیل نے جسٹس اعجاز الاحسن کے بنچ میں بیٹھنے پر اعتراض کیا تھا،۔

سابق چیف جسٹس نے سی ڈی اے کے وکیل کی جانب سے  بنچ پر اعتراض کرنے  پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ 

کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے وکیل نے کہا،  فائیو سٹار ہوٹل کے لئے مختص کی گئی زمین پر  لگژری رہائشی اپارٹمنٹس بنا کر شہر کو ایک فائیو  سٹار ہوٹل کی سہولت سے محروم کیا گیا۔ 

سی ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے "مشروط فیصلے" کے بعد بھی بی این پی گروپ لیز کی رقم سی ڈی اے کو ادا کرنے میں ناکام رہا۔ 

سی ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ آج دن تک بی این پی نے  واجب الادا ساڑھے 17 ارب میں سے  صرف 2.9 ارب کی ادائیگی کی۔

اس گروپ نے  تقریباً 240 اپارٹمنٹس اور کمرشل ایریاز تیسرے فریقین کو بیچ دیئے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد لیز منسوخ کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو اب کسی بھی وقت سنایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:   علیمہ خان، نورین خان اور عظمی خان کا اڈیالہ جیل کے داہگل ناکے پر دھرنا