خوابوں کی شہزادی مدھوبالااپنے ہی خوابوں کے ہاتھوں دھوکہ کھاگئی

دلیپ کمار اورمدھو پہلی بار فلم ترانہ کے سیٹ پر ملے اورپہلی نظر میں ایک دوسرے پر فدا ہو گئے

Feb 24, 2026 | 11:40:AM
خوابوں کی شہزادی مدھوبالااپنے ہی خوابوں کے ہاتھوں دھوکہ کھاگئی
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(دوسری قسط)

گزشتہ آرٹیکل کے آخری حصّے میں آپ نے مدھوبالاکے دلیپ کمار سے عشق کے حوالے سے جو کچھ پڑھا،اس کی مزید تفصیل حاضرہے۔

مدھوبالا کے والد نے یہ پابندی لگا دی تھی کہ مدھو اوردلیپ سیٹ کے علاوہ کہیں نہیں ملیں گے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں پریمیوں کا ملن صرف سٹوڈیو کی چار دیواری تک ہی محدود رہا۔ بی آر چوپڑہ فلم ’’نیا دور‘‘ بنانے جا رہے تھے جس میں دلیپ کمار ہیرو تھے،انہوں نے چوپڑہ صاحب سے کہا کہ وہ مدھو کو ہیروئن کے طور پر سائن کر لیں،اسی اثناء میں دلیپ نے مدھو سے شادی کا واضح عندیہ دے دیا،مدھو کو تو یہ یقین ہو چکا تھا کہ وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہے گی اور وہ دلیپ کو دھوکہ دینا بھی نہیں چاہتی تھی۔ دوسری طرف فلم ’’نیا دور‘‘جس کی 9 ریلیں بن چکی تھی اور آؤٹ ڈور شوٹنگ باقی تھی۔ بی آر چوپڑہ نے آؤٹ ڈور شوٹنگ کی تاریخ طے کی تو مدھو کے والد نے اس کی بیماری کا بہانہ بنا کر آؤٹ ڈور کے لئے انکار کر دیا جس پر بات اتنی بڑھی کہ مدھو نے فلم میں کام کرنے سے ہی انکار کر دیا، چوپڑہ نے مقدمہ دائر کر دیا جس میں دلیپ نے مدھو کے خلاف گواہی دے کر معاملہ اتنا اُلجھا دیا کہ مدھو کو تعلقات ختم کرنے کا موقع بھی مل گیا اور وہ دلیپ سے اپنی دانست میں بے وفائی کرنے سے بھی بچ گئی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا مدھو کے والدکے روایتی لالچ کی وجہ سے ہوا،تاہم جب یہ ہوا ’’مغل اعظم‘‘ سیٹ کی زینت بن چکی تھی۔یہاں حالات کا ایک اور تضاد بھی سامنے آتا ہے کہ دلیپ اس سب کچھ کے باوجود مدھو سے شادی پر آمادہ تھے مگر ان کی واحد شرط یہ تھی کہ وہ اپنے والد سے علیحدگی اختیار کرے مگر مدھو نے بوجوہ ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔عدالت میں بیان دیتے ہوئے دلیپ نے واشگاف الفاظ میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ مدھو بالا سے محبّت کرتے ہیں اور زندگی کی آخری سانس تک اس شدّت سے کرتے رہیں گے،ناکام محبّت کے باوجود مدھوبالا نے ’’مغل اعظم‘‘ فلم کودو وجوہ کی بناپرمکمّل کرنے کا عزم کیا۔ایک تو یہ کہ کے آصف ،جو اس فلم کے پروڈیوسر تھے، وہ ان کی بہت عزت کرتی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ ابھی بھی دلیپ کمار کی قربت میں وقت گزارنا چاہتی تھی۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس فلم کومکمّل ہونے میں دس سال کا عرصہ لگا، اس پورے عرصے میں دلیپ کمار کی مدھو سے بات چیت صرف فلم کے ڈائیلاگ تک محدود تھی مگر یہ کمال مدھو کا ہے کہ انہوں نے اپنی بیماری اور دلیپ کے روکھے پن کے باوجود اپنے وجود کو ٹوٹنے نہیں دیا اور اداکاری کے وہ جوہر دکھائے کہ آنے والے اداکاروں کے لئے آج بھی وہ ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی ہیں،انہوں نے اپنی خوبصورتی اور اداکاری کے امتزاج سے انارکلی کے تصوراتی کردار کو زندگی بخش دی،اس فلم نے مدھوبالا کو زندۂ جاوید بنا دیا۔

جیسا کہ یہ بات لوگوں کے علم میں تھی کہ مدھو روزانہ اپنی ڈائری لکھتی تھی ،اس ڈائری میں مدھو نے ضرور اپنے اوپر بیتنے والے جذباتی ادوار اور اپنے چاہنے والوں کے بارے میں لکھا ہوگا مگر اُس کے سنگدل باپ نے وہ ڈائری مدھو کی لاش کے ساتھ ہی قبر میں دفنا دی تھی جو ہر لحاظ سے انسانیّت کے خلاف ایک جُرم کی حیثیت رکھتا ہے جس کیلئے انہیں کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔دلیپ کمار سے علیحدگی کے بعد مدھو بالا نے نامعلوم حالات کے پیش نظر گلوکار کشورکمار سے اس شرط پر شادی کر لی کہ وہ اسلام قبول کرے۔کشور نے ایسا ہی کیا اور قبول اسلام کے بعد اپنا نام کریم عبدل رکھ لیا۔مگر شومئی قسمت کہ کشور سے شادی کے بعد مدھو کی طبیعت روزبروز بگڑنے لگی جس نے اُن دونوں کے تعلقات کو بری طرح متاثر کیا اور وہ آہستہ آہستہ بستر سے لگ گئی جو جان لیوا ثابت ہوا۔ آخر کار 23 فروری 1969ء کو وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئیں،وہ جب بستر مرگ پر تھیں اورکشور کمار کی بے اعتنائی سے دل برداشتہ تھیں تو یہ شعر پڑھا کرتی تھیں:۔ 
جب کشتی ثابت و سالم تھی
ساحل کی تمنّا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر
ساحل کی تمنّا کون کرے


دلیپ کمار ایک طویل عرصہ تک لبِ بستہ رہے اور کبھی کوئی منفی ردّعمل اپنے اور مدھوبالا کے حوالے سے ظاہر نہیں کیا مگر انہوں نے اپنی سوانح عمری،جو اب شائع ہو چکی ہے،میں پہلی دفعہ اپنی زبان کھولی ہے۔وہ کہتے ہیں ’’مدھو بالا میری زندگی میں اس لئے آئی کہ اُس نے میرے اندر جو ایک خلا سا تھا،اُسے پُر کیا،اپنی ہوشیاری یا چالاکی سے نہیں بلکہ اپنی پُرجوش فطرت، زندگی سے بھرپور ادائوں اور اپنی دلکشی سے،یہی وہ سب عناصر تھے جو میری ذات کے اندرونی زخموں کا مداوا تھے۔’’مغل اعظم‘‘کی شوٹنگ کے دوران مدھوبالا نے فلم کے پروڈیوسر کے آصف سے اپنے دل کی بات کر دی اور مجھ سے اپنے پیار کا اقرار بھی کر لیا۔ آصف کومیری فطرت کا بھی اچھّی طرح اندازہ تھاکہ میں جذباتی اور اپنے کام کے حوالے سے فیصلے کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ آصف ایک خودغرض فلمساز تھا اور میری اور مدھو بالا کی محبّت کا فائدہ اٹھا کر اپنی فلم میں حقیقت سے قریب تراداکاری کروانے کا خواہش مند تھا،میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں مدھو سے محبّت کرتا تھا، کرتا ہوں اور زندگی کی آخری سانس تک کرتا رہوں گا۔ مگر ’’مغل اعظم‘‘ اُس وقت بن رہی تھی جب میں اور مدھو اپنی اپنی ضِد پر اَڑے ہوئے تھے،میں چاہتا تھا کہ مدھو مجھ سے شادی کرے اور اپنے والد سے علیحدگی اختیار کرے۔چونکہ فلم ’’نیا دور‘‘ کے حوالے سے بی آر چوپڑہ اور مدھو کے والد میں چپقلش چل رہی تھی اور میں نے حقائق کے تحت چوپڑہ کا ساتھ دیا تھا اس لئے مدھو کا مطالبہ تھا کہ میں آکر اُس کے والد سے معذرت (سوری) کروں جس کیلئے میں تیار نہیں تھا۔ ’’مغل اعظم‘‘ابھی آدھی بنی تھی کہ ہمارے باہمی تعلقات اتنے تلخ و ترش ہوگئے کہ پہلے بات چیت بند ہوئی اور پھر ہم سلام دعا سے بھی گئے مگر یہ بات ہمیشہ تاریخ کا حصّہ رہے گی اوراداکاری کی معراج تصور ہوگی کہ بحیثیت اداکار ہم دونوں نے اپنے بگڑے تعلقات کا شائبہ تک بھی فلم بینوں تک جانے نہیں دیا۔

 اس کا درست اندازہ کرنے کیلئے فلم کا وہ منظر دیکھنا ضروری ہے جس میں ہم دونوں کے چہرے بہت ہی قریب ہیں اور اس سے پہلے کہ ہمارے ہونٹوں کا ملاپ ہوتا ہے ایک پرپیچ میں آجاتا ہے۔ مدھو کے باپ کی خواہش تھی کہ میں صرف اس کے بینر تلے بننے والی فلموں میں کام کروں مگر میں نے یہ پابندی قبول کرنے سے انکار کر دیا،میں یہ پابندی تو خود اپنے بینر تلے بننے والی فلموں پر لگانے پر بھی کبھی آمادہ نہ ہوتا مگر مدھو اپنے والد کی خواہش پر زیادہ مائل نظر آتی تھی،اُس نے تو مجھے یہاں تک بھی کہا کہ شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ صورتحال کوئی زیادہ خوش کن نہیں تھی اور ایک بند گلی کی طرف جا رہی تھی ۔لہٰذا میرا فیصلہ یہ تھا کہ نہ صرف ہم شادی نہ کریں بلکہ اُس کے درست ہونے کا انتظار بھی نہ کریں،میں کسی ایسے بندھن کا قائل نہیں تھا جو ہم دونوں میں سے کسی ایک کیلئے بھی سودمند نہ ہو۔‘‘


 مدھو مر کر بھی فلم بینوں کیلئے ایک روایت کا درجہ رکھتی ہے،وہ کبھی فلم ’’محل‘‘کی پُراسرار حسینہ کا چہرہ لے کر اچانک نمودار ہو جاتی ہے یا انارکلی بن کر اپنے گرد چنی جانے والی دیوار کو یاس انگیز نظروں سے دیکھتی معلوم ہوتی ہے۔ مدھو کے مرنے کے بعد بہت سی ایکٹرسوں نے مدھو بالا بننے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئیں کیونکہ اُن کے پاس نہ تو مدھو جیسی دلکشی تھی نہ وہ تباہ کن مسکراہٹ جو بڑے بڑوں کو مدہوش کرنے کی صلاحیّت رکھتی تھی۔اُن کے قریبی عزیروں کا کہنا ہے کہ مدھو ایک مثالی بیوی بننے کی بہت خواہش مند تھی۔ یوں لگتا تھا اُس پر کوئی آسیب کا سایہ ہے،وہ خود کو بہت غیر محفوظ تصور کرتی تھی۔ سکرین پر تو وہ ہوشربا حسینہ کے طور پر نمودار ہوتی تھی مگر اپنی حقیقی زندگی میں وہ بہت ہی آرزدہ خاتون تھی۔

یہ بھی پڑھیں:مدھوبالا :’’جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا ‘‘

 دل کی بیماری نے اسے ہمیشہ موت سے بہت قریب رکھا۔ آخرکار اُسے یہ احساس ہوگیا کہ دولت،شُہرت اور عروج بہت ہی عارضی چیزیں ہیں،بعض اوقات وہ نفسیاتی مریضہ معلوم ہوتی تھی اوربے قابو ہو جاتی تھی مگر کسی بھی حالت میں اُس کی دلکشی میں کمی نہیں آتی تھی،وہ ایک معمولی لڑکی سے غیر معمولی مقام تک پہنچ گئی تھی۔ایک ایسا مقام جہاں تک نہ پہلے نہ اب نہ آئندہ کوئی پہنچ پائے گا۔مدھوبالا کے بارے میں لکھنے بیٹھو تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔