مدھوبالا :’’جانے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا ‘‘
تحریر:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
٭جس کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ گھنٹوں انتظار کیا کرتے تھے وہ خود محبّت کیلئے جنگ لڑتی رہی
٭مدھو بالا کو میرلن منرو کے بعددوسری حسین ترین اداکارہ قرار دیا جاتا ہے
٭کشمیر والا بابا نے مدھو کے شاندار مستقبل،کربناک ذاتی زندگی اور ناکام محبتوں کے حوالے سے جو پیشگوئی کی وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی
٭مدھو نے پہلا عشق بچپن کے دوست لطیف سے کیا، جُدا ہوتے ہوئے سُرخ گلاب بھی دیا تھا
٭کیدار شرما کے بعد کمال امروہوی کی صورت میں مدھو کو تیسرا عاشق ملا
٭کمال امروہوی پہلی بیوی کو طلاق دینے پر راضی نہ ہوئے تو یہ عشق 6 ماہ میں ہی دفن ہوگیا
٭پریم ناتھ مدھو کی جانب سے محبّت کی پیشکش پر سکتے میں آ گئے،یہ محبّت بھی چند ہفتوں میں دم توڑ گئی
٭شواہد موجود ہیں کو مدھو نے اگر کسی کو دل کی گہرائیوں سے چاہا تو وہ دلیپ کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں
٭دلیپ کمار اورمدھو پہلی بار فلم’’ترانہ‘‘ کے سیٹ پر ملے اورپہلی نظر میں ایک دوسرے پر فدا ہو گئے
٭مدھو کے والد نے دلیپ اور مدھو کے سیٹ کے علاوہ ملنے پر مکمل پابندی لگا دی تھی
٭دلیپ سے بول چال بند ہونے کے باوجود ’’مغل اعظم‘‘ میں مدھو نے انارکلی کے تصوراتی کردار کو امر کر دیا
٭1950ء کی دہائی کے وسط میں ذوالفقار علی بھٹّو مدھو کو دیکھنے ’’مغل اعظم‘‘کے سیٹ پر آیا کرتے تھے
٭مدھو کی ڈائری اس کے سنگدل باپ نے ساتھ ہی دفنا دی جس کی وجہ سے کئی رازوں سے پردہ نہ اُٹھ سکا
بھارتی فلم’’پیاسا‘‘ کا گانا جسے ہیمنت کمار نے گایا تھا اورجس کے بول تھے:
جانے وہ کیسے لوگ تھے
جن کے پیار کو پیار ملا
ہم نے تو جب کلیاں مانگیں
کانٹوں کا ہار ملا

یہ گانابرصغیر کی حسینۂ پُرجمال مدھوبالا کی زندگی کا مناسب احاطہ کرتا ہے،وہ جس سے پیار کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں نہیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں تھی اورجس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لوگ سڑکوں پر اور سٹوڈیو کے اردگرد گھنٹوں انتظارکیا کرتے تھے،وہ خود محبّت کے حصول کے لئے جنگ لڑتی رہی جس نے اپنے محبوب سے قربت کی غرض سے اپنی شُہرت، اپنی جوانی اور اپنا مستقبل داؤ پر لگا دیا،وہ کچھ لوگوں کی خود غرضی کا شکار ہو کر بے وقت اس سماج سے روپوش ہو گئی۔ اصل کہانی کیا ہے؟وہ درپردہ حقائق کیسے ہیں کہ وہ شُہرت کے عروج پر پہنچ کر بھی اس دُنیا سے روٹھ گئی۔ ہاں اُسے دل کی بیماری تھی مگر یہ بیماری وہ نہیں جس کا نام لے کرمدھوبالا کی زندگی کے خاتمے کا جواز تلاش کیا جاتا یا اس سے ملتا جلتا نتیجہ اخذ کر لیا جاتا ہے۔ مدھوبالا کے دل کی بیماری وہ لوگ تھے جن سے اُس نے یہ توقّع منسلک کرلی تھی کہ وہ شاید اُس کی تڑپتی روح کی تسکین کا باعث بن سکتے تھے۔اس میں معصوم مدھو کا کوئی قصور نہیں تھا۔ہم اس آرٹیکل میں مدھوبالا سے منسوب اُن تمام عشوق کا تفصیلاً ذکر کریں گے جن کے کرداروں نے یا تو مدھو کی شُہرت کو اپنی کامیابی کا زینہ بنایا یا پھر اُس کے حُسن سے مستفید ہونے تک محدود رہے یا پھرخود غرضی کی بدترین مثال بن گئے۔سب کا ہی احاطہ کریں گے۔مدھوبالا فلمی دُنیا کی دوسری حسین ترین اداکارہ تھیں،اُن کی ہم عصر ہالی وُڈ اداکارہ میرلن منرو بھی مدھوبالا کی طرح ’’سیکس سمبل‘‘ مشہور تھیں فرق صرف اتنا تھا کہ مدھو میرلن منرو کی طرح نیم عریانیت کی قائل نہیں تھیں بلکہ اپنی معصومیّت کو اپنا ہتھیاربنایا۔منرو 1926ء میں پیدا ہوئی اور 1962ء میں خواب آور گولیاں کھا کر انتہائی پُراسرار حالات میں اس دُنیائے فانی سے رُخصت ہوئیں،ان کی عمر 36 برس تھی۔ مدھو بھی36 سال کی عمر میں دل کی بیماری کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئی۔وہ 1933ء میں پیدا ہوئیں اور 1969ء میں خالق حقیقی سے جا ملی۔ ایک قدر مشترک دونوں میں یہ تھی کہ اُن کا پیدائشی نام کچھ اور تھا اور فلمی دُنیا میں دوسرے نام سے شُہرت حاصل کی۔ میرلن منرو کا پیدائشی نام فارما جین مورٹین تھا جبکہ مدھوبالا کا پیدائشی نام ممتازجہاں دہلوی تھا،بہت ہی مختصر عرصہ میں مدھو نے بھارتی سلور سکرین پر راج کرنا شروع کر دیا اور ایک قدآور فلم سٹار بن گئیں۔وہ ایک ایسے مقام پر فائز ہوگئیں جس کا دوسرے اداکار زندگی بھر خواب دیکھتے رہتے ہیں۔مدھوبالا کا حُسن اور ان کی شاندار اداکاری کا جادو فلم بینوں کے ذہنوں پر آج بھی ہے مگر چونکہ اس تحریر میں ہم صرف ان کی ذاتی زندگی اور اس کے نشیب وفراز،محبّت کی رنگین داستانوں اوراُن کی زندگی سے جڑی صدماتی کہانیوں کا ذکر کرنے پر اکتفا کریں گے، اس لئے اُن کے فلمی سفر اورکامیابیوں کا ذکر اس کے بعد ایک علیحدہ مضمون میں کریں گے۔اُن کے والد عطاء اللہ خان کو پشاور چھوڑکرممبئی اس لئے آنا پڑا کہ انہیں نوکری سے برخاست کر دیا گیا تھا۔ممبئی آکر گزر اوقات کی غرض سے ممتازجہاں( مدھوبالا)کو نوعمری میں ہی روزگارکے لئے9 برس کی عمر میں ہی فلم میں کام کرنا پڑا۔مدھوبالا 14 جنوری 1933ء کو نیو دہلی میں پیدا ہوئیں، وہ گیارہ بہن بھائیوں میں سے پانچویں نمبر پر تھیں،اُن کا گھرانہ روایتی طور پر قدامت پسند تھا۔ مدھو کا بچپن بہت تنگ دستی میں گزرا۔1942ء میں مدھو نے اپنی پہلی فلم ’’برسات‘‘ سے فنّی سفر کا آغاز کیا۔وہ جس روز پیدا ہوئیں وہ ویلنٹائن ڈے تھا۔یہ ایک مشہور روایت ہے کہ ویلنٹائن ڈے پر پیدا ہونے والی خواتین انتہائی خوب صورت ہوتی ہیں اورانہیں اپنی زندگی میں کئی مرتبہ ناکامی عشق جیسے صدمہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے،اُن کے والد عطاء اللہ ایک راسخ العقیدہ پٹھان خاندان کے فرد تھے اور چونکہ مدھو اپنے سب بہن بھائیوں میں سب سے زیادہ خوب صورت تھی،وہ اپنے باپ کی بہت چہیتی تھی۔بہن بھائی مدھو کو منجھلی آپا کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ جب مُسکراتی تو اُس کے ہونٹ پھول کی پتیوں کی طرح تازگی بکھیرتے نظر آتے تھے۔کشمیر والا بابا کے نام سے مشہور ایک نجومی نے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ مدھو کا مستقبل بہت تابناک ہوگا اور بڑی ہو کر یہ بچّی بہت نام کمائے گی،بہت پیسہ اور شُہرت پائے گی لیکن اس کی ذاتی زندگی بہت کربناک ہوگی جو ناکام محبتوں سے بھرپور ہوگی۔شادی ہوگی تو پیار سے محروم رہے گی اور یہ بہت ہی کم عمری میں مر جائے گی۔کشمیر والا بابا کی ہر بات حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔مدھو کی زندگی کی سب سے بڑی ٹریجڈی یہ تھی کہ اُسے بہت کم عمری میں ہی ڈاکٹروں نے بتا دیا تھا کہ اُس کے دل میں سوراخ ہے مگر یہ حقیقت مدھو کے والد نے فلمسازوں سے مخفی رکھی۔تاہم 1960ء کی دہائی میں اس کا مرض بڑھتا گیا جس نے مدھوبالا کو مجبور کیا کہ وہ اپنا فلمی کیریئر اگر مکمّل طور پر ختم نہیں تو فوراً معطل کر دے ،اس وقت اس کی عمر صرف 28 برس تھی،وہ علاج کی غرض سے برطانیہ گئی جہاں ڈاکٹروں نے اس وجہ سے دل کی سرجری سے انکار کردیا کہ مرض آخری مراحل میں پہنچ چکا ہے۔وہ انتہائی مایوسی کے عالم میں بھارت لوٹ آئیں۔وہ ان روح فرسا حالات سے کیوں دوچار ہوئیں؟کیا ان کی ذاتی زندگی کی پے درپے ناکامیاں اُن کی نوجوانی میں موت کا باعث بنیں؟اس کا احاطہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اُن افراد کا ذکر کیا جائے جو مدھو کے قریب رہے یا جن سے مدھو کو دلی لگاؤ تھا۔ ابتدا کرتے ہیں مدھوبالا کے بچپن کے دوست لطیف سے جو دہلی میں مدھو کے گھر کے قرب وجوار میں رہتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب بچپن خراماں خراماں جوانی کی سیڑھیوں پر قدم رکھ رہا تھا۔اس دور میں جذبات شدید اور اکثر اختیار سے تجاوز کر جاتے ہیں،جب مدھو کو حالات کی مجبوری سے دہلی چھوڑ کر ممبئی آنا پڑا تو وہ بہت اُداس اور دُکھی تھی۔مدھو نے جدا ہوتے وقت لطیف کو ایک سُرخ گلاب دیا،یہی سرخ پھول آنے والے سالوں میں مدھو کیلئے اظہار محبّت کا ہتھیار بنا۔لطیف نے بھی یہ معصومانہ تعلّق خوب نبھایا اور جب30 سال بعد مدھو کا انتقال ہوا تو لطیف نے اُسی سرخ گلاب کے پھول کوجسے اُس نے سنبھال کر رکھا ہوا تھا لا کر مدھو کی قبر پر رکھ دیا اور تب سے ہی ہر سال 23 فروری کو لطیف باقاعدگی سے سرخ پھول قبر پر رکھ جاتا رہا۔کہتے ہیں مرد ہو یا عورت اپنا پہلا پیار کوئی بھول نہیں سکتا۔اس حوالے سے لطیف کی وفا کے شواہد تو تاریخ کا حصّہ ہیں لیکن ایسا کچھ سامنے نہیں آیا جس سے پتہ چل سکے کہ مدھوبالا کے دل میں بھی لطیف کیلئے کوئی نرم گوشہ تھا یا نہیں؟یہ اسرار شاید اب کبھی نہ کھل پائے گا۔لہٰذا اس پر کچھ زیادہ نہ کہنا ہی بہتر ہے۔ تاہم یہ طے ہے کہ ان دونوں کے اس افیئر کے بارے میں کبھی کوئی منفی بات کہی گئی نہ سُنی گئی۔اس کے بعد اُن کا واسطہ پڑتا ہے کیدارشرما کے ساتھ جس نے انہیں فلم ’’بسنت‘‘ کے بعد پہلی مرتبہ ہیروئن کیلئے فلم’’نیل کمل‘‘ کیلئے کاسٹ کیا جب وہ صرف 14 برس کی تھیں،وہ راج کپور کے مدِمقابل اس فلم میں بڑا کردار کر رہی تھیں۔اس فلم میں اُن کی اداکاری سے متاثر ہو کر اُس وقت کی معروف اداکارہ دیویکا رانی نے مشورہ دیاتھا کہ ممتاز جہاں کا نام تبدیل کرکے مدھوبالارکھ دیاجائے۔یوں’’نیل کمل‘‘ مدھو کی ممتازجہاں کے طور پر آخری فلم تھی۔کیدار شرما نے فلم’’نیکی بدی‘‘میں ہیرو کا کردار بھی ادا کیا۔اس فلم میں مدھوبالاکے علاوہ گیتابالی نے بھی کام کیا تھا۔کیدارشرما نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا ’’مدھوحسین ترین بھارتی اداکارہ تھیں۔‘‘مدھو نے بھی اپنے کیریئر کے عروج پر ایک انٹرویو میں کہا تھا ’’کیدارشرما کام ہر قیمت پر کرکے چھوڑتے ہیں،وہ واحد فلمساز ہے جو دولت کی لالچی دُنیا میں دوست کی حاطر اپنے فن کو بیچنے پرآمادہ نہیں،وہ میرے گرو ہیں اورمجھے اُن کا شاگرد ہونے پر فخر ہے۔‘‘

مدھوبالا کی بیماری کے عرصہ میں کیدارشرما میں خود تو اُس کے پاس آنے کا حوصلہ نہ تھا مگر انہوں نے ایک کاغذ پر شعر لکھ بھیجا:…ع
رادھا کو نہ ستا شیام پچھتائے گا
نین چھلک آئے تو گوردھن بہا جائے گا
سات فلموں میں کام کر چکنے کے بعد مدھو نہ صرف دو عاشقوں سے نپٹ چکی تھی بلکہ اُسے بالی وُڈ کے ماحول کی بھی اچھّی طرح سمجھ آچکی تھی۔ اسی عرصہ میں مدھو نے جو کبھی سکول نہیں گئی تھی اُردو اور انگریزی کی تعلیم کے لئے گھر پر ٹیوشن رکھ لی تھی جس کی بدولت وہ فرفر اُردو اور انگلش بولنے لگی تھی۔ اب وہ دور شروع ہوتا ہے جب ممبئی ٹاکیز کے کمال امروہوی اپنی فلم ’’محل‘‘ کیلئے ایک حسینہ دلربا کے متلاشی تھے۔ابتدا میں ثریا نے یہ کردار ادا کرنا تھا مگرکمال امروہوی نے مدھو کو ثریا پر فوقیّت دی۔’’محل‘‘بنی اورکامیابی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ اس کے نتیجے میں دو کام ہوئے۔ ایک تو مدھو کا معاوضہ ایک لاکھ روپے تک پہنچ گیا اور دوسرا یہ کہ ثریا اور مدھو ایک دوسرے کی دشمن بن گئیں۔تیسرا کمال یہ ہوا کہ کمال امروہوی کی صورت میں مدھو کو تیسرا عاشق مل گیا۔ مگر کمال مدھو کو دوسری بیوی کے طور پر رکھنا چاہتے تھے جو اُسے کسی صورت قبول نہ تھا۔ مدھو کا تقاضا تھا کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دیں جس پر کمالی راضی نہ تھے اور یوں یہ عشق چھ ماہ کے اندر ہی دفن ہو گیا۔ مدھو کے والد عطاء اللہ کو کمال امروہوی سے مدھو کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ اُن کے نزدیک اسلام چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے مگر مدھو اس کے لئے کبھی راضی نہ ہوئی۔’’محل‘‘کے بعد فلم بنی ’’بادل‘‘شوٹنگ کے پہلے ہی دن مدھو پریم ناتھ کے میک اَپ روم میں داخل ہوئی اور پھرتی سے ایک کھلا ہواگلاب کا پھول اور ایک کاغذ پر لکھا نوٹ دے کر چلی گئی جس میں لکھا تھا ’’اگر تم کو مجھ سے پیار ہے تو پھول رکھ لو ورنہ اسے لوٹا دو‘‘ پریم ناتھ جو سکتے میں تھے کہ ہندوستان کی خوب صورت ترین ہیروئن اُسے محبّت کی پیشکش کر رہی ہے،اُس نے وہ پھول اپنے کوٹ کی کالر میں لگایا اور مدھو سے جا کر کہا ’’قبول ہے قبول ہے‘‘ یہ محبّت پروان چڑھنے لگی مگر چند ہی ہفتوں بعد مدھو نے دوری اختیار کرنا شروع کر دی۔اس کی وجہ کیا تھی؟یہ بھی ایک اسرار ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مدھو پریم ناتھ سے زیادہ وفا نبھانے کی توقّع نہیں رکھتی تھی یا شاید یہ اس لئے اب ان کے سامنے دلیپ کمار جیسا آپشن موجود تھا۔اس دوران پریم ناتھ کو اشوک کمار نے بتایا کہ مدھو بالا نے اسے بھی ایک سُرخ گلاب اور ایک کاغذ پر یہ لکھ کر دیا کہ اگر تمہیں مجھ سے پیار ہے تو اسے رکھ لو ورنہ لوٹا دو مگر کیا یہ حقیقت ہے یا افسانہ کوئی نہیں جانتا۔ایسے شواہد موجود ہیں کہ مدھو نے اگر دل کی گہرائیوں سے کسی کو چاہا تو وہ دلیپ کمار کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں مگر چونکہ اسے اپنی بیماری کا علم ہو چکا تھا اور ڈاکٹر اسے بتا چکے تھے کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتی کیونکہ اوپن ہارٹ سرجری کا ابھی آغاز نہیں ہوا تھا اور اس کے دل کے سوراخ کا اور کوئی علاج ممکن نہ تھا۔کیا مدھو کے دل میں کہیں یہ احساس تھا کہ وہ اپنے محبوب سے دھوکہ نہیں کر سکتی۔اگر ایسا ہی تھا تو اسے بھی محبّت کی معراج ہی گردانا جانا چاہیے۔ آیئے اب دیکھتے ہیں کہ وہ کیا حالات وواقعات تھے جس کے سبب ایک ساتھ دھڑکنے والے دو دل باہم مل نہ سکے۔دلیپ سے مدھو بالا کی پہلی ملاقات فلم ’’ترانہ‘‘کے سیٹ پر ہوئی اور دونوں ہی پہلی نظر میں پیار کے مصداق ایک دوسرے پر فدا ہو گئے۔ اس کے بعد 1952ء میں بنی ’’سنگدل‘‘ اور 1954ء میں بنی ’’امر‘‘ اور اس سے پہلے 1950ء میں شروع ہوئی تھی بھارتی فلم انڈسٹری کی بھاری سرمایے سے بننے والی فلم ’’مغل اعظم‘‘جس میں مدھو اور دلیپ نے جواداکاری کی اس کا کوئی ثانی نہیں۔مگر’’مغل اعظم‘‘ کے آغاز سے اس کی تکمیل تک کے عرصے میں جو کچھ ہوا وہ ان دو پیار کرنے والوں کی زندگیاں بدل گیا،جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا کہ مدھو کے والد عطاء اللہ خان ایک لالچی طبع انسان تھے جس کی مثال بیٹی کی فلموں میں کاسٹ ہوتے وقت 10 فیصد کمیشن تک لینا شامل ہے،وہ کسی صورت یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی سونے کی چڑیا کوئی اور لے اُڑے۔لہٰذا انہوں نے یہ پابندی لگا دی کہ مدھو اور دلیپ سیٹ کے علاوہ کہیں نہیں ملیں گے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں پریمیوں کا ملن صرف سٹوڈیو کی چار دیواری تک ہی محدود رہا۔ بی آر چوپڑہ فلم ’’نیا دور‘‘ بنانے جا رہے تھے جس میں دلیپ کمار ہیرو تھے،انہوں نے چوپڑہ صاحب سے کہا کہ وہ مدھو کو ہیروئن کے طور پر سائن کر لیں،اسی اثناء میں دلیپ نے مدھو سے شادی کا واضح عندیہ دے دیا،مدھو کو تو یہ یقین ہو چکا تھا کہ وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہے گی اور وہ دلیپ کو دھوکہ دینا بھی نہیں چاہتی تھی۔ دوسری طرف فلم ’’نیا دور‘‘جس کی 9 ریلیں بن چکی تھی اور آئوٹ ڈور شوٹنگ باقی تھی۔ بی آر چوپڑہ نے آئوٹ ڈور شوٹنگ کی تاریخ طے کی تو مدھو کے والد نے اس کی بیماری کا بہانہ بنا کر آئوٹ ڈور کے لئے انکار کر دیا جس پر بات اتنی بڑھی کہ مدھو نے فلم میں کام کرنے سے ہی انکار کر دیا، چوپڑہ نے مقدمہ دائر کر دیا جس میں دلیپ نے مدھو کے خلاف گواہی دے کر معاملہ اتنا اُلجھا دیا کہ مدھو کو تعلقات ختم کرنے کا موقع بھی مل گیا اور وہ دلیپ سے اپنی دانست میں بے وفائی کرنے سے بھی بچ گئی۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا مدھو کے والدکے روایتی لالچ کی وجہ سے ہوا۔ تاہم جب یہ ہوا ’’مغل اعظم‘‘ سیٹ کی زینت بن چکی تھی۔یہاں حالات کا ایک اور تضاد بھی سامنے آتا ہے کہ دلیپ اس سب کچھ کے باوجود مدھو سے شادی پر آمادہ تھے مگر ان کی واحد شرط یہ تھی کہ وہ اپنے والد سے علیحدگی اختیار کرے مگر مدھو نے بوجوہ ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔عدالت میں بیان دیتے ہوئے دلیپ نے واشگاف الفاظ میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ وہ مدھو بالا سے محبّت کرتے ہیں اور زندگی کی آخری سانس تک اس شدّت سے کرتے رہیں گے،ناکام محبّت کے باوجود مدھوبالا نے ’’مغل اعظم‘‘ فلم کودو وجوہ کی بناپرمکمّل کرنے کا عزم کیا۔ایک تو یہ کہ کے آصف ،جو اس فلم کے پروڈیوسر تھے، وہ ان کی بہت عزت کرتی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ ابھی بھی دلیپ کمار کی قربت میں وقت گزارنا چاہتی تھی۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس فلم کومکمّل ہونے میں دس سال کا عرصہ لگا۔ اس پورے عرصے میں دلیپ کمار کی مدھو سے بات چیت صرف فلم کے ڈائیلاگ تک محدود تھی مگر یہ کمال مدھو کا ہے کہ انہوں نے اپنی بیماری اور دلیپ کے روکھے پن کے باوجود اپنے وجود کو ٹوٹنے نہیں دیا اور اداکاری کے وہ جوہر دکھائے کہ آنے والے اداکاروں کے لئے آج بھی وہ ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنی خوبصورتی اور اداکاری کے امتزاج سے انارکلی کے تصوراتی کردار کو زندگی بخش دی۔اس فلم نے مدھوبالا کو زندۂ جاوید بنا دیا۔قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ وہ جنہوں نے مدھوبالا سے عشق کیا اُن میں ایک نام پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹّوکا بھی ہے۔ یاد رہے کہ بھٹّو1950ء تک پاکستان اور ہندوستان کی دوہری شُہریت کے حامل تھے،وہ ایک امیر آدمی تھے اور ممبئی میں بہت سی عمارتیں اُن کی ملکیّت تھیں۔باندرہ میں ان کا ایک گھر’’مائی نیسٹ‘‘ کے نام سے تھا جس پر 1965ء کی جنگ کے بعد بھارتی حکومت نے قبضہ کر لیا تھا۔1950ء کی دہائی کے دوران بھٹّو اکثر’’مغل اعظم‘‘ کے سیٹ پر آتے تھے اور ان کا مقصد صرف مدھوبالا کو دیکھنا ہوتا تھا،جب اس فلم کا گانا ’’موہے پنگھٹ پہ نندلال چھیڑ گیئو رے‘‘ کی عکس بندی ہو رہی تھی تو بھٹّو وہاں سحر زدہ بیٹھے رہے کیونکہ گانے کے سُر اور مدھو کے حُسن نے اُن کے ہوش اڑا دیئے تھے،جب گانا ختم ہوا تو بھٹّو نے فلم کے موسیقار نوشاد کی تعریف کی کیونکہ اسے ایک مشکل راگ پیلو میں کمپوز کیا گیا تھا۔ یہ بھی یاد رہے کہ بھٹّو وہاں اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مدھوبالا کے خصوصی مہمان کے طور آتے تھے۔کبھی کبھی بھٹّو اور مدھوبالا اکٹّھے دوپہر کا کھانا کھاتے اور بھٹّو اپنے مزاح سے مدھو کا دل لبھاتے،یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے جب بھٹّو بمبئی ہائیکورٹ میں بیرسٹر کی حیثیت سے پریکٹس کرتے تھے مگر بھٹّو کے عزائم کچھ اور تھے اور پاکستان کی سیاست میں اپنا مستقبل دیکھ رہے تھے۔مدھو اور ذوالفقار علی بھٹّو کے درمیان تعلقات کی نوعیّت کیا تھی؟یہ بات تاریخ کے دبیز پردہ میں پوشیدہ ہے۔جیسا کہ یہ بات لوگوں کے علم میں تھی کہ مدھو روزانہ اپنی ڈائری لکھتی تھی ،اس ڈائری میں مدھو نے ضرور اپنے اوپر بیتنے والے جذباتی ادوار اور اپنے چاہنے والوں کے بارے میں لکھا ہوگا مگر اُس کے سنگدل باپ نے وہ ڈائری مدھو کی لاش کے ساتھ ہی قبر میں دفنا دی تھی جو ہر لحاظ سے انسانیّت کے خلاف ایک جُرم کی حیثیت رکھتا ہے جس کیلئے انہیں کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔دلیپ کمار سے علیحدگی کے بعد مدھو بالا نے نامعلوم حالات کے پیش نظر گلوکار کشورکمار سے اس شرط پر شادی کر لی کہ وہ اسلام قبول کرے۔کشور نے ایسا ہی کیا اور قبول اسلام کے بعد اپنا نام کریم عبدل رکھ لیا۔مگر شومئی قسمت کہ کشور سے شادی کے بعد مدھو کی طبیعت روزبروز بگڑنے لگی جس نے اُن دونوں کے تعلقات کو بری طرح متاثر کیا اور وہ آہستہ آہستہ بستر سے لگ گئی جو جان لیوا ثابت ہوا۔ آخر کار 23 فروری 1969ء کو وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئیں،وہ جب بستر مرگ پر تھیں اورکشور کمار کی بے اعتنائی سے دل برداشتہ تھیں تو یہ شعر پڑھا کرتی تھیں:۔

جب کشتی ثابت و سالم تھی
ساحل کی تمنّا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر
ساحل کی تمنّا کون کرے
دلیپ کمار ایک طویل عرصہ تک لبِ بستہ رہے اور کبھی کوئی منفی ردّعمل اپنے اور مدھوبالا کے حوالے سے ظاہر نہیں کیا مگر انہوں نے اپنی سوانح عمری،جو اب شائع ہو چکی ہے،میں پہلی دفعہ اپنی زبان کھولی ہے۔وہ کہتے ہیں ’’مدھو بالا میری زندگی میں اس لئے آئی کہ اُس نے میرے اندر جو ایک خلا سا تھا،اُسے پُر کیا،اپنی ہوشیاری یا چالاکی سے نہیں بلکہ اپنی پُرجوش فطرت، زندگی سے بھرپور ادائوں اور اپنی دلکشی سے،یہی وہ سب عناصر تھے جو میری ذات کے اندرونی زخموں کا مداوا تھے۔’’مغل اعظم‘‘کی شوٹنگ کے دوران مدھوبالا نے فلم کے پروڈیوسر کے آصف سے اپنے دل کی بات کر دی اور مجھ سے اپنے پیار کا اقرار بھی کر لیا۔ آصف کومیری فطرت کا بھی اچھّی طرح اندازہ تھاکہ میں جذباتی اور اپنے کام کے حوالے سے فیصلے کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ آصف ایک خودغرض فلمساز تھا اور میری اور مدھو بالا کی محبّت کا فائدہ اٹھا کر اپنی فلم میںحقیقت سے قریب تراداکاری کروانے کا خواہش مند تھا،میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ میں مدھو سے محبّت کرتا تھا، کرتا ہوں اور زندگی کی آخری سانس تک کرتا رہوں گا۔ مگر ’’مغل اعظم‘‘ اُس وقت بن رہی تھی جب میں اور مدھو اپنی اپنی ضِد پر اَڑے ہوئے تھے،میں چاہتا تھا کہ مدھو مجھ سے شادی کرے اور اپنے والد سے علیحدگی اختیار کرے۔چونکہ فلم ’’نیا دور‘‘ کے حوالے سے بی آر چوپڑہ اور مدھو کے والد میں چپقلش چل رہی تھی اور میں نے حقائق کے تحت چوپڑہ کا ساتھ دیا تھا اس لئے مدھو کا مطالبہ تھا کہ میں آکر اُس کے والد سے معذرت (سوری) کروں جس کیلئے میں تیار نہیں تھا۔ ’’مغل اعظم‘‘ابھی آدھی بنی تھی کہ ہمارے باہمی تعلقات اتنے تلخ و ترش ہوگئے کہ پہلے بات چیت بند ہوئی اور پھر ہم سلام دعا سے بھی گئے مگر یہ بات ہمیشہ تاریخ کا حصّہ رہے گی اوراداکاری کی معراج تصور ہوگی کہ بحیثیت اداکار ہم دونوں نے اپنے بگڑے تعلقات کا شائبہ تک بھی فلم بینوں تک جانے نہیں دیا۔ اس کا درست اندازہ کرنے کیلئے فلم کا وہ منظر دیکھنا ضروری ہے جس میں ہم دونوں کے چہرے بہت ہی قریب ہیں اور اس سے پہلے کہ ہمارے ہونٹوں کا ملاپ ہوتا ہے ایک پرپیچ میں آجاتا ہے۔ مدھو کے باپ کی خواہش تھی کہ میں صرف اس کے بینر تلے بننے والی فلموں میں کام کروں مگر میں نے یہ پابندی قبول کرنے سے انکار کر دیا،میں یہ پابندی تو خود اپنے بینر تلے بننے والی فلموں پر لگانے پر بھی کبھی آمادہ نہ ہوتا مگر مدھو اپنے والد کی خواہش پر زیادہ مائل نظر آتی تھی،اُس نے تو مجھے یہاں تک بھی کہا کہ شادی کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ صورتحال کوئی زیادہ خوش کن نہیں تھی اور ایک بند گلی کی طرف جا رہی تھی ۔لہٰذا میرا فیصلہ یہ تھا کہ نہ صرف ہم شادی نہ کریں بلکہ اُس کے درست ہونے کا انتظار بھی نہ کریں،میں کسی ایسے بندھن کا قائل نہیں تھا جو ہم دونوں میں سے کسی ایک کیلئے بھی سودمند نہ ہو۔‘‘

مدھو مر کر بھی فلم بینوں کیلئے ایک روایت کا درجہ رکھتی ہے،وہ کبھی فلم ’’محل‘‘کی پُراسرار حسینہ کا چہرہ لے کر اچانک نمودار ہو جاتی ہے یا انارکلی بن کر اپنے گرد چنی جانے والی دیوار کو یاس انگیز نظروں سے دیکھتی معلوم ہوتی ہے۔ مدھو کے مرنے کے بعد بہت سی ایکٹرسوں نے مدھو بالا بننے کی کوشش کی مگر ناکام ہوئیں کیونکہ اُن کے پاس نہ تو مدھو جیسی دلکشی تھی نہ وہ تباہ کن مسکراہٹ جو بڑے بڑوں کو مدہوش کرنے کی صلاحیّت رکھتی تھی۔اُن کے قریبی عزیروں کا کہنا ہے کہ مدھو ایک مثالی بیوی بننے کی بہت خواہش مند تھی۔ یوں لگتا تھا اُس پر کوئی آسیب کا سایہ ہے،وہ خود کو بہت غیر محفوظ تصور کرتی تھی۔ سکرین پر تو وہ ہوشربا حسینہ کے طور پر نمودار ہوتی تھی مگر اپنی حقیقی زندگی میں وہ بہت ہی آرزدہ خاتون تھی۔ دل کی بیماری نے اسے ہمیشہ موت سے بہت قریب رکھا۔ آخرکار اُسے یہ احساس ہوگیا کہ دولت،شُہرت اور عروج بہت ہی عارضی چیزیں ہیں،بعض اوقات وہ نفسیاتی مریضہ معلوم ہوتی تھی اوربے قابو ہو جاتی تھی مگر کسی بھی حالت میں اُس کی دلکشی میں کمی نہیں آتی تھی،وہ ایک معمولی لڑکی سے غیر معمولی مقام تک پہنچ گئی تھی۔ایک ایسا مقام جہاں تک نہ پہلے نہ اب نہ آئندہ کوئی پہنچ پائے گا۔مدھوبالا کے بارے میں لکھنے بیٹھوں تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔آئندہ آرٹیکل میں ہم مدھوبالا کے فلمی کیریئر کے حوالے سے بات کریں گے کہ وہ اپنی فلموں کی کامیابی اور اپنی اداکاری کے حوالے سے کتنی قدآور شخصیت تھیں۔
٭٭٭