نورِ سحر میں " امام عاشقاں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ" کے موضوع پر  بصیرت افروز اور روح پرور نشست 

جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے حضرت اویسِ قرنیؒ کو آفتابِ اُمت اور شمعِ دین قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؒ کی زندگی سادگی کا شاہکار اور عمل کی روشن مثال ہے

Dec 24, 2025 | 15:19:PM
 نورِ سحر میں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)معروف دینی و علمی پروگرام "نورِ سحر" میں " امام عاشقاں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ" کے موضوع پر ایک نہایت مؤثر، بصیرت افروز اور روح پرور نشست کا انعقاد کیا گیا۔ 

پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے حضرت اویسِ قرنیؒ کو آفتابِ اُمت اور شمعِ دین قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپؒ کی زندگی سادگی کا شاہکار اور عمل کی روشن مثال ہے، انہوں نے اویسِ قرنیؒ کی حیرت انگیز حیات اور اُن کے اقوال کو دلوں کو بدل دینے والا پیغام قراردیا ۔

پروفیسر عبدالحمید قادری نے کہا  کہ نبی کریم ﷺ نے خود حضرت اویسِ قرنیؒ کا حلیہ بیان فرمایا، جو آپؒ کے بلند مقام اور مقبولیتِ الٰہی کی دلیل ہے، انہوں نے اویسِ قرنیؒ کی پہچان، اُن کے خانوادے کے اخلاق پر بھی گفتگو کی  ۔

پروفیسر ڈاکٹر مجاہد احمد نے سوال اٹھایا کہ ہم حضرت اویسِ قرنیؒ کا تذکرہ کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ اویسِ قرنیؒ کا ذکر عشق، وفا اور اطاعت کا درس دیتا ہے  اور یہ پیغام دیتا ہے کہ عشقِ رسول ﷺ صرف دیکھنے سے نہیں بلکہ سچے دل اور خالص عمل سے پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے ’’اویس‘‘ نام کے معنی اور اس کے روحانی پیغام پر بھی روشنی ڈالی، انہوں نے رسولِ کریم ﷺ کے اس ارشاد کا حوالہ دیا جس میں آپ ﷺ نے یمن سے آنے والی ٹھنڈی ہوا کا ذکر فرمایا، جو حضرت اویسِ قرنیؒ کی نسبت سے منسوب ہے۔

تقریب میں منقبتِ اویسِ قرنیؒ پیش کی گئی، جسے عشق کی زبان قرار دیا گیا۔ 

پروفیسر احسن اویس مصطفوی نے حضرت اویسِ قرنیؒ  کی  بن دیکھے عشقِ مصطفی ﷺ کی کیفیات کو بیان کرنے کے ساتھ آپ کی  عظمت و جلالت اور اہلِ بیتؑ سے والہانہ محبت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا  کہ حضرت اویسِ قرنیؒ اُن عظیم ہستیوں میں سے ہیں جن کا ذکر خود رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا، اور یہ سبق دیا کہ اصل پہچان نام سے نہیں بلکہ مقام اور عمل سے ہوتی ہے۔