ٹی ایل پی قیادت نے ہر وہ کام کیا جو کسی بھی پارٹی پر پابندی کیلئے ضروری ہوتا ہے،سلیم بخاری

سلیم بخاری شو

Oct 23, 2025 | 23:39:PM
ٹی ایل پی قیادت نے ہر وہ کام کیا جو کسی بھی پارٹی پر پابندی کیلئے ضروری ہوتا ہے،سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد) معروف صحافی اور سینئر تجزیہ کارسلیم بخاری نے وفاقی کابینہ کے    ٹی ایل پی پر  پابندی کی منظوری  پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کہ یہ فیصلہ بہت ضروری تھا او ر لگ رہا تھا  کہ اس جماعت پر پابندی لگ جائے گی۔انہوں نے کہا  ٹی ایل پی کی قیادت نے ہر وہ کام کیا جو کہ کسی بھی پارٹی پر پابندی کیلئے ضروری ہوتا ہے۔غزہ میں امن معاہد ہ ہو جانے کے باوجود احتجاج کی کال دینے کی کوئی لاجک نہیں تھی۔پھردوسری بات ٹی ایل پی والے امریکہ ایمبیسی  کے باہر احتجاج کرنے چلے تھےاور ان کی قیادت بضد تھی کہ وہ ہر صورت امریکی ایمبیسی تک جائیں گے کیونکہ وہ وہا ں جا کر ہی احتجاج کریں گے۔وہ یہ بھی بھول گئے کہ یا ان کو پتہ نہیں تھا کہ ریڈ زون جو ہے اسکے تحفظ کی  ذمہ داری وفاقی حکومت کے ذمے ہوتی ہے۔اس طرح سے تو ریڈ زون غیر محفوظ ہو جاتا اور کوئی بھی جماعت جا کر حملہ آور ہو سکتی تھی۔ 

انہوں نے کہا ایک اور بات یہ تھی کہ ابتدا میں ہی ٹی ایل پی کے کارکن تشدد پر اتر آئے اور انہوں نے جب مارچ کا آغاز کیا ہی تھا تو پولیس سے  پہلی جھڑپ لا ہور میں ان کے مرکز کے باہر ہی ہو گئی تھی۔جس کے نتیجے میں پولیس کی گاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا  پولیس سے اسلحہ چھین لیا تھااور پولیس والے اغوا بھی کر لیے تھے۔جس کے ثبوت ان ریکارڈ ہے  اور وہ چھینا ہوا اسلحہ مرید کے میں پولیس پر استعمال کیا۔دھرنے کے دوران احتجاج ملتوی کرانے کی وفاقی ا ور صوبائی حکومت نے کوشش کی لیکن انہوں نے گرفتار دہشتگردوں کی فہرست دیدی جو کہ ناقابل قبول تھی۔ 

سلیم بخاری نے مزید کہا یوں 2015 میں قائم ہونے والی اس جماعت نے پورے ملک میں  شرانگیزی کو  ہوا دی، تنظیم پر پابندی کی وجہ 2021 میں دی گئی ضمانتوں سے روگردانی بھی ہے، ماضی میں بھی ٹی ایل پی کے پرتشدد جلسوں، ریلیوں میں سکیورٹی اہلکار  اور  بےگناہ راہگیر جاں بحق ہوئے، وفاقی کابینہ متفقہ طورپر اس نتیجے پرپہنچی کہ ٹی ایل پی دہشت گردی اور  پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہے۔ان کارروائیوں کے نتیجے میں  ٹی ایل پی پر پابندی  کا فیصلہ کیا گیا اور کابینہ نے ضابطے کی کارروائی کے لیے  وفاقی وزارت داخلہ کو  احکامات جاری کردیئے  ہیں۔

انہوں نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا  اب ٹی ایل پی  پرپابندی کی منظوری کا معاملہ  وزارت  قانون کو  بھجوایا جائےگا، وزارت قانون  پابندی سے متعلق باقاعدہ ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کرےگی، سپریم کورٹ سے  ریفرنس منظوری  پر الیکشن کمیشن  ٹی ایل پی کو ڈی نوٹیفائی کرےگا  اور  پابندی لگادی جائےگی۔

مقبوضہ مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم نہیں ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ

اس پر سلیم بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے اس قسم کے رد عمل کی توقع  تھی کیونکہ جس قسم کی صورتحال غزہ بلکہ مشرق وسطیٰ میں بن گئی تھی ایسا لگتا تھا کہ کہیں یہ آگ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل نہ ہو جائے لیکن اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے  غزہ کی پٹی کے قبضے کے پلان کا مقصد کیا تھا۔اس پر انہوں نے کہا کہ سب کا رد عمل سمجھ میں آتا ہے لیکن ٹرمپ کا ردعمل سمجھ نہیں آتا کیونکہ جتنااندھا دھند اعتماد نیتن یاہو کو صدر ٹرمپ پر تھا یہ اس کے لیے ایک دھچکا ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ مقبوضہ مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم ہو ایسا نہیں ہوگا، عرب ممالک سے وعدہ کیا تھا، اب ایسا نہیں کرسکتے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو غزہ میں حملوں سے روکا، نیتن یاہو سے کہا دنیا آپ کے خلاف ہے، اسرائیل دنیا کے مقابلےکےلیے بہت چھوٹی جگہ ہے۔

ٹرمپ کے اس بیان  کا حوالہ دیتے ہوئے قطر پر اسرائیلی حملہ غلط حکمت عملی تھی، اس حملے نے اسرائیل پرکافی دباؤ ڈالا کہ وہ جنگ بندی پر راضی ہوجائے، امریکہ صدر کے اس  بیان کے پیچھے وجوہات ہیں  اس کی دو وجہ ہیں  ایک تو بین الاقوامی رائے عامہ تیزی سے تبدیل ہوئی ہے امریکہ اور اسرائیل  کے خلاف پوری دنیامیں احتجاج اپنی جگہ اہم بات امریکہ میں جو ستر لاکھ لوگوں نے احتجاج کیا ہے اس کی بھی وجہ ہے کہ امریکہ صدر کے خلاف امریکہ میں ہی اتنا بڑا احتجاج۔اس وجہ سے ٹرمپ انڈر پریشر ہیں اپنے ملک میں بھی اور دنیا میں بھی۔لہذا ٹرمپ کو کچھ نہ کچھ ایسا کرنا ہےکہ وہ اپنا پریشر کم کر سکے۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: