اقلیتی برادری اورنوجوانوں کی فلاح کیلئےبڑا قدم!
Stay tuned with 24 News HD Android App
(سجاد اظہر پیرزادہ) پاکستان کا نوجوان طبقہ اور اقلیتی برادری ملک کی سماجی و معاشی ترقی کا وہ متحرک سرمایہ ہے، جو اگر مزید درست رہنمائی، مزید مساوی مواقع اور مزید اعتماد کی فضا پائیں تو ترقی و استحکام کی نئی تاریخ رقم ہوسکتی ہے۔
جہاں حکومتوں کی جانب سے اقلیتی برادری اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، وہیں لاہور میں ایک اور اہم پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے،یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی کی جانب سےجاب فیئر کا انعقاد کیا گیا، سرگودھا ، ملتان میں امن اور اقلیتی حقوق کے فروغ کے پراجیکٹ کے تحت منعقد اس سرگرمی کا مقصد نوجوانوں، خواتین اور پسے ہوئے طبقوں بالخصوص اقلیتی برادری کیلئےبہتر معاشی مواقع میں اضافہ، اور انہیں نمایاں صنعتوں ، اداروں کیساتھ منسلک کرنا تھا۔
اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام یواین ڈی پی پاکستان میں امن، مساوات اور پائیدار معاشی ترقی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، وائے ڈی ایف نےیو این ڈی پی سے مل کر لاہور میں یونیورسٹی آف ایجوکیشن ٹاؤن شپ کیمپس میں ملازمتوں کا میلا سجایا،اقلیتی نوجوانوں کو ایک ایساپلیٹ فارم میسرآیا جہاں انہوں نےروزگار کے مواقع سے آگاہی حاصل کی۔
وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر عاقف چوہدری کاکہناہےاس طرح کے اقدامات سےشہریوں کےدرمیان اعتماد اورملکی و قومی ترقی کی راہیں نکلتی ہیں، سیکرٹری انسانی حقوق و اقلیتی امور فرید تارڑکےمطابق روزگار ہر شہری کا بنیادی حق ہے،ایسے جاب فیئرز ان افراد کے لیےبہتری کے راستے کھولتے ہیں جو اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، پارلیمانی سیکرٹری سونیا عاشر کاکہناتھا اس نوعیت کے مواقع صرف افراد ہی نہیں بلکہ ان کے خاندانوں اور پوری برادریوں پر مثبت اثرات ڈالتے ہیں،ممبر صوبائی اسمبلی اعجاز عالم آگسٹین نے شرکاء سے بات کرتے ہوئے کہا ترقی کےمساوی مواقع سب کاحق ہے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن شاہد رحمت کاکہناتھا جب تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر کام کرتے ہیں توقومی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں،ڈائریکٹر انسانی حقوق و اقلیتی امور محمد یوسف،یونیورسٹی آف ایجوکیشن سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے دو ہزار کےقریب طالبعلم، کارپوریٹ نمائندگان اور صنعتی شراکت دارشریک ہوئے۔
یہ بات نہایت حوصلہ افزا ہے کہ آج اقلیتی برادری اور نوجوان طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف ادارے اور تنظیمیں عملی طور پر سرگرمِ دکھائی دیتی ہیں،اس رجحان نے اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ ہماری سماجی ساخت میں پھرسے ہم آہنگی اور مساوی مواقع کی قدریں مضبوط ہو رہی ہیں۔درحقیقت، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور نجی شعبے کا باہمی تعاون محض ایک انتظامی کوشش نہیں بلکہ ایک اجتماعی عزم کی علامت ہے، ایسا عزم جو نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے نئے دروازے کھولنے کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادری کی معاشی خودمختاری کی راہ ہموار کر رہا ہے،یہ وہ مثبت پیش رفت ہے جو ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی نوید دیتی ہے، جہاں ہر فرد، چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے یا عقیدے سے ہو، ترقی کے سفر میں شانہ بشانہ شریک ہو سکے۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر