میکسیکو کی مس یونیورس کی جیت؛ سابق جج نے بڑاالزام لگادیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)مس یونیورس 2025 مقابلے میں میکسیکو کی فاطمہ بوش نے نئی مس یونیورس کا تاج توپہن لیامگر مقابلے کے سابق جج نےحیران کن دعویٰ کرکےدنیا بھر کے مداحوں کو حیران کردیا ۔
لبنانی نژاد فرانسیسی کمپوزر اور سابق مس یونیورس جج عمر حرفوش نے الزام لگایا ہے کہ فاطمہ بوش کو جتوانے کا فیصلہ پہلے ہی کر لیا گیا تھا اور اس کے پیچھے مس یونیورس آرگنائزیشن کے سربراہ راؤل روچا کے مبینہ کاروباری مفادات شامل تھے کیونکہ راؤل روچا کے فاطمہ بوش کے والد کے ساتھ کاروباری تعلقات تھے اسی لیے نتیجہ طے شدہ تھا۔
عمر حرفوش نے ججز کے پینل سے استعفیٰ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ فائنل سے 24 گھنٹے پہلے ہی امریکی چینل HBO پر کہہ چکے تھے کہ مس میکسیکو جیتے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ دبئی میں راؤل روچا اور ان کے بیٹے نے ان سے براہِ راست درخواست کی کہ وہ فاطمہ بوش کے حق میں ووٹ دیں کیونکہ یہ ہمارے کاروبار کے لیے مفید ہوگا۔
مس یونیورس آرگنائزیشن نے اس الزام کوردکردیاہے، راؤل روچا نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ انہوں نے عمر کو ججز کے پینل سے ہٹا دیا تھا کیونکہ ان کے بیانات ’’بیانڈ دی کراؤن‘‘ جیسے خیراتی پروگرام کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے تھے، مزید برآں روچا نے وہ ٹیکسٹ میسیجز بھی شیئر کر دیے جن میں عمر کو پینل سے ہٹانے کا باقاعدہ نوٹس دیا گیا تھا۔
اس کے جواب میں عمر حرفوش نے دعویٰ کیا کہ انہیں ’’غیر مہذب گفتگو‘‘ کی وجہ سے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا، انہوں نے مزید الزام لگایا کہ مقابلے کے پریلمنری راؤنڈز شروع ہونے سے پہلے ہی ایک ’’خفیہ کمیٹی‘ ‘نے 30 فائنلسٹس منتخب کر رکھے تھے، اور یہاں تک کہا کہ ایک امیدوار اور انتخابی کمیٹی کے رکن کے درمیان مبینہ رومانس نے صورتِ حال کو مزید مشکوک بنا دیا تھا،تاہم مس یونیورس آرگنائزیشن نے ان تمام بیانات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ نہ کوئی خفیہ انتخابی کمیٹی وجود رکھتی ہے نہ نتائج میں دھاندلی ہوئی ہے، تمام فیصلے مکمل شفافیت کے ساتھ کیے گئے اور ججز کو باضابطہ طریقے سے منتخب کیا گیا تھا۔