نوابشاہ: وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کے گھر کو نذر آتش کرنے پر اہم انکشافات
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے اپنے آبائی شہر مورو میں واقع گھر کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے پر اہم بیان جاری کرتے ہوئے کئی بڑے انکشافات کیے ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے مقامی سیاسی مخالفین کی سہولت کاری سے کیا گیا،ان کے مطابق کالعدم تنظیم کے رہنما شفیع برفت نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور معاملے کی ہر پہلو سے جدید تفتیشی طریقوں سے تحقیقات جاری ہیں،ضیاء الحسن لنجار نے کہا بحیثیت وزیر داخلہ ہر شہری کی حفاظت میری ذمہ داری ہے اور اس واقعے کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، ہم انصاف کے حصول کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کریں گے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں کسی بے قصور شخص کو نامزد نہیں کیا گیا بلکہ صرف ان افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں جن کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی آر میں سابق وفاقی وزیر مرتضیٰ جتوئی اور مسرور جتوئی کے نام بھی شامل ہیں، اور ان کی سہولت کاری کے بغیر یہ واقعہ ممکن نہیں تھا، وزیر داخلہ نے بتایا کہ واقعے کے بعد بعض عناصر کی جانب سے لاش رکھ کر دھرنا دیا گیا تھا جسے کل مورو جا کر ختم کروایا گیا،انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پولیس معاملے کو مکمل سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد انٹر نیشنل ایئر پورٹ کا نام بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ رکھنے کی قراردادمنظور