امریکہ 78 سال بعد عالمی ادارہ صحت سے دستبردار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)امریکہ نے 78 سال کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے جس سے امریکہ کا ڈبلیو ایچ او کے ساتھ عملی تعلق بالکل ختم ہو گیا ہے۔
امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبا کے دوران مناسب طریقے سے کام نہیں کیا۔
ادارے میں سیاسی اثرات اور اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے وہ امریکہ کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پا رہا ہے۔
دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کے مطابق امریکہ پر 130–270 ملین ڈالر سے زائد واجبات ابھی بقایا ہیں اور یہ بھی تنازعے کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں:ابوظہبی مسلسل دسویں سال دنیا کا محفوظ ترین شہر قرار
امریکہ کا کہنا ہے اب وہ ڈبلیو ایچ او کے بجائے مستقل طور پر دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں میں کام کرے گا، جیسے امراض پر نگرانی اور ویکسین کے مسائل۔
اس فیصلے کے بعد عالمی صحت کے ماہرین نے اس فیصلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او عالمی سطح پر امراض کی نگرانی اور بروقت معلومات فراہم کرتا ہے۔
امریکہ ایسے ڈیٹا تک رسائی کھو سکتا ہے جو مستقبل میں وائرس یا فلو جیسے خطرات سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ ڈبلیو ایچ او میں 1948 میں شمولیت اختیار کرنے والا ایک بانی رکن تھا اور اس کے بڑے مالی معاونین میں سے تھا جو کہ ادارے کا کُل 18٪ تک ادا کرتا تھا۔