عالیہ بھٹ اور دیپیکا پڈوکون کیساتھ فلم: منیب بٹ نے خاموشی توڑدی
اہلیہ کیساتھ شادی کے بعد ایک بھی پروجیکٹ نہیں کیا، فورسز میں جانے کاشوق تھالیکن اداکار بن گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) معروف اداکار منیب بٹ نے بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ اور دیپیکا پڈوکون کے ساتھ فلم میں کام کرنے کی حقیقت سے پردہ اٹھا دیا۔
منیب بٹ نے حال ہی میں نجی ٹی وی کے شو میں شرکت کی، جہاں اپنے بچپن اور کیریئر کے حوالے سے گفتگو کی۔
منیب بٹ نے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ مجھے فورسز میں شمولیت اختیار کرنے کا شوق تھا، تاہم اللہ نے نصیب میں اداکار بننا لکھا تھا تو شوبز میں آگیا۔
معروف اداکار کا کہنا تھا کہ ویسے تو کراچی والے بھی بےحد پیار کرتے ہیں،لیکن پنجاب بالخصوص لاہوریوں کی محبت کا کوئی جواب نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف ہدایت کاروں کے ساتھ کام کر کے اردو بہتر ہوئی،میں مردوں کی اکثریت کے برعکس کھانا بھی پکا لیتاہوں،ا گر کبھی اہلیہ(اداکارہ ایمن خان) کا رات میں کچھ کھانے کا دل چاہے تو میں انہیں کچن میں نہیں جانے دیتا بلکہ اپنے ہاتھ سے کچھ پکا کر کھلاتا ہوں۔
منیب بٹ نے مزید کہاکہ وہ بچپن میں بےحد شرارتی تھے جس کی وجہ سے انہیں بہت مار بھی پڑتی تھی۔

بچپن کا ایک قصہ شیئر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے والد کی الیکٹرونکس کی دکان پر بیٹھتے تھے،دکان میں جس دراز میں کیش رہتا تھا اس کی چابی ان کے پاس ہوتی تھی، جس میں سے وہ روزانہ 500 روپے نکال کر اپنے گلّک میں ڈال لیتے تھے،جب ایک روز وہ گلّک ماسی سے ٹوٹا اور گھروالوں کو میری چوری کا پتا چلا تو پھر بہت مار پڑی۔

عالیہ بھٹ اور دیپیکا پڈوکون کے ساتھ فلم کی آفرکی تردید کرتے ہوئے منیب بٹ نے کہا کہ معلوم نہیں یہ خبریں کون پھیلا رہا ہے،بھارت سے ایک فلم آفر ہوئی تھی مگر وہ پنجابی فلم تھی، جس کی شوٹنگ کینیڈا یا لندن وغیرہ میں ہونی تھی تاہم اس کی شوٹنگ ہی نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں:کبریٰ خان اور گوہر رشید کی شادی: شازیہ وجاہت کی ڈانس ویڈیو وائرل
ایک سوال کے جواب میں منیب بٹ نے کہا کہ اہلیہ ایمن خان ان سے بہت بہتر اور منجھی ہوئی اداکارہ ہیں،اہلیہ کے ساتھ شادی کے بعد ایک بھی پروجیکٹ نہیں کیا کیونکہ میاں بیوی کا ایک ساتھ کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔
منیب بٹ نے کہاکہ ڈر انسان کی قابلیت کھا جاتا ہے اور افسوس ہے کہ کیریئر کے ابتدائی کچھ سال ڈر کر گزارے،انہوں نے مختلف نوعیت کے کردار ادا کرنے سے اس لیے معذرت کی کہ وہ ناکامی سے ڈرتے تھے۔