پہلگام واقعہ کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش پاکستان بھارت کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

Apr 23, 2026 | 19:20:PM
پہلگام واقعہ کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش پاکستان بھارت کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتا ہے، ترجمان دفتر خارجہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(انور عباس) پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ  پاکستان بھارت کے پروپیگنڈے کو مسترد کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے آج کہا،  پاکستان بھارت سے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ قابلِ افسوس ہے کہ بھارت نے ایک بار پھر بے بنیاد الزامات و پروپیگنڈا مہم کا سہارا لیتے ہوئے پہلگام واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

بھارت نے یہ حرکت ایک ایسے وقت میں کی جب پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے مربوط سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا،  بدقسمتی ہے کہ جاری علاقائی بحران کے دوران بھی بھارت اپنی تنگ نظر داخلی سیاسی مفادات کے لیے پاکستان کے خلاف جھوٹے بیانیے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ گزشتہ سال بھارت کو آپریشن بنیان المرصوص کی صورت میں اپنی غلط مہم جوئی کا منہ توڑ جواب ملا تھا۔ اس کے بعد ایسے الزامات بھارت کی اس حکمت عملی کا ایک حصہ ہیں۔ اس کے ذریعے وہ خطے میں دہشت گردی کی اپنی سرپرستی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔

یہ بھی پرھیئے:  ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کسی کشتی کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم 

حقیقت یہ ہے کہ ایسی پروپیگنڈا مہمات بین الاقوامی برادری کی توجہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اس کے قبضے اور کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت سے محروم رکھنے سے نہیں ہٹا سکتیں۔ یہ بھارتی کوشیشیں متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔  بھارتی ہتھکنڈے اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتے ہیں کہ بھارت اشتعال انگیز بیانات، بار بار اشتعال انگیزی، اور جارحانہ عسکری رویے کے ذریعے علاقائی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔  ان میں سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ طور پر معطلی کا غیر قانونی اقدام بھی شامل ہے۔ 

 دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا،  یہ بھارتی اقدام بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ امید ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت کو ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے پر زور دے گی۔ امید ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت کو ایسے تمام بیانات اور اقدامات سے گریز کرنے کی تلقین کرے گی جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے جاری کوششوں کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی فوج نے بحر ہند میں ایران سے منسلک ایک اور آئل ٹینکر کو  قبضے میں لے لیا