محض ایک ٹوئٹ نے گوگل کو 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا دیا، مگر کیسے؟ 

Oct 22, 2025 | 14:01:PM
محض ایک ٹوئٹ نے گوگل کو 100 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا دیا، مگر کیسے؟ 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)اوپن اے آئی نے اپنا پہلا مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ویب براؤزر چیٹ جی پی ٹیAtlas متعارف کرایا، جس کی اطلاع ٹویٹر پر نشر ہوتے ہی گوگل کے شیئرز تقریباً 5 فیصد گر گئے۔

اوپن اے آئی کے اعلان کے بعد گوگل کی پیرنٹ کمپنی کی مالیت میں تقریباً 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جب اس کے شیئرز 252.68 ڈالر سے گر کر 246.15 ڈالر تک پہنچ گئے۔

اس اقدام نے اوپن اے آئی کو براہِ راست گوگل کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے، جو فی الحال 3 ارب سے زائد صارفین کے ساتھ دنیا کا سب سے مقبول ویب براؤزر گوگل کروم چلاتا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی اٹلاس کو ایک ذاتی نوعیت کا براؤزر قرار دیا جا رہا ہے، جو صارفین کے لیے نہ صرف آن لائن سرچ بلکہ مختلف کام جیسے فلائٹ بُکنگ، دستاویزات کی تدوین اور ڈیٹا کا تجزیہ بھی انجام دے سکتا ہے۔

ہر ویب سائٹ پر ‘Ask ChatGPT’ کا آپشن ظاہر ہوگا، جس سے صارف براہِ راست مواد سے متعلق سوالات یا ہدایات دے سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:’’ سزا کالعدم قرار‘‘،اعلیٰ عدالت نے  فیصلہ سنا دیا

اوپن اے آئی کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے اب 800 ملین سے زائد صارفین ہیں، جن میں سے زیادہ تر مفت سروس استعمال کرتے ہیں۔

 کمپنی نے کہا ہے کہ وہ مزید منافع بخش طریقے تلاش کر رہی ہے، جن میں اشتہارات سے آمدنی حاصل کرنے کے امکانات شامل ہیں۔

اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین نے چیٹ جی پی ٹی اٹلاس کو ‘ایک دہائی میں آنے والا نایاب موقع’ قرار دیا ہے، جس سے ‘یہ سوچنے کا نیا طریقہ پیدا ہوگا کہ براؤزر کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔’

یہ براؤزر سب سے پہلے macOS پر دستیاب ہوگا، جبکہ جلد ہی ونڈوز، آئی او ایس اور انڈرائڈ پر بھی پیش کیا جائے گا، ‘ایجنٹ موڈ’ میں، جو فی الحال صرف پریمیم صارفین کے لیے ہے، چیٹ جی پی ٹیصارف کی جانب سے مکمل آن لائن کارروائیاں خود انجام دے سکتا ہے،جیسے کسی نسخے کے اجزاء تلاش کرنا اور انہیں خودکار طور پر آن لائن اسٹور سے خریدنا۔