امریکی حکومت کا متنازعہ پائپ لائن کو ریلیف، نئی شرائط عائد
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )امریکی حکومت نے ڈکوٹا ایکسس پائپ لائن کو سخت ماحولیاتی اور حفاظتی شرائط کے ساتھ آپریشن جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے، یہ فیصلہ یو ایس آرمی کور آف انجینئرز کی جانب سے کیا گیا، جس سے طویل عرصے سے پائپ لائن کی بندش کے خواہاں مقامی قبائلی گروہوں اور ماحولیاتی تنظیموں کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پائپ لائن کو بند کرنے کے بجائے اس پر اضافی نگرانی اور حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔ ان اقدامات میں لیک کی بروقت نشاندہی کے جدید نظام، زیر زمین اور سطحی پانی کی مسلسل نگرانی، ہنگامی پانی کی فراہمی کا منصوبہ، اور آزاد ماہرین کے ذریعے حفاظتی نظاموں کا جائزہ شامل ہے۔
ڈکوٹا ایکسس پائپ لائن، جسے ڈی اے پی ایل بھی کہا جاتا ہے، نارتھ ڈکوٹا کے باکن شیل آئل فیلڈ سے روزانہ تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور یہ تیل کو الینوائے تک پہنچاتی ہے۔ اس کا ایک اہم حصہ جھیل اوہے کے نیچے سے گزرتا ہے، جو دریائے مسوری پر واقع ایک آبی ذخیرہ ہے اور مقامی قبائل کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کے بیان نے کھلبلی مچا دی
امریکی آرمی کور آف انجینئرز نے کہا ہے کہ پانچ مختلف آپشنز کے جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پائپ لائن کو سخت شرائط کے ساتھ چلنے دیا جائے تاکہ توانائی کی ترسیل بھی جاری رہے اور ماحولیاتی خطرات کو کم کیا جا سکے۔
پائپ لائن کی مالک کمپنی انرجی ٹرانسفر نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے محفوظ طریقے سے چل رہا ہے اور امریکی توانائی ڈھانچے کا اہم حصہ ہے۔
دوسری جانب مقامی قبائلی گروہوں اور ماحولیاتی تنظیموں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جھیل اوہے اور دریائے مسوری کے پانی کو ممکنہ تیل کے اخراج سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔