2025 میں کلاؤڈ برسٹ کے بڑھتے واقعات،  مون سون کی شدت یا موسمیاتی تبدیلی؟

Jul 22, 2025 | 16:24:PM
 2025 میں کلاؤڈ برسٹ کے بڑھتے واقعات،  مون سون کی شدت یا موسمیاتی تبدیلی؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

خبردار یہ صرف عام بارش یا عام بادل نہیں بلکہ کلاؤڈ برسٹ ہو سکتا ہے ، جی ہاں اس رواں مون سون سیزن میں موسم بالکل ہی مختلف ہے اور کلاؤڈ برسٹ کے واقعات کچھ زیادہ ہی سننے میں آ رہے ہیں لیکن یہ مون سون مختلف کیسے ہے؟ کلاؤڈ برسٹ کیا ہوتا ہے؟ اس کے عوامل کیا ہوتے ہیں؟ اس سے نقصان کس نوعیت کا ممکن ہے؟ کیا بادلوں کی بھی کئی اقسام ہیں؟ ایسے متعدد سوالات چلتے پھرتے ہر جگہ سننے کو مل رہے ہیں تو اس بار بھی ان تمام سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لیے این ڈی ایم اے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب سے رابطہ کیا تاکہ مکمل آگاہی اس بارے حاصل ہو سکے۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں مون سون کی جس کا باقاعدہ آغاز اس بار 25 جون سے ہی ہو گیا تھا، جوں جوں وقت گزرتا گیا مون سون شدت اختیار کرتا گیا مون سون کے تیسرے اسپیل میں راولپنڈی کے متعدد علاقوں میں 200 ملی میٹر سے بھی کہیں زیادہ بارش ہوئی جسکے باعث نالہ لئی بپھر گیا اور راولپنڈی کے متعدد علاقے نالہ لئی کی زد میں آئے، اسکے بعد چوتھے اسپیل میں اسلام آباد میں سید پور میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث نالے میں طغیانی دیکھنے میں آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی لمحوں میں پانی کا ریلا متعدد گاڑیوں کو ساتھ لے گیا، چوتھا اسپیل مون سون کا پچھلے تین سلسلوں سے بھی کہیں زیادہ شدید نوعیت کا ہے لیکن یہ سلسلہ شدید نوعیت کا کیوں ہے اس کی بڑی وجہ این ڈی ایم اے کے ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر طیب نے 24 نیوز سے خصوصی گفتگو میں  بتائی کہ مون سون کے ساتھ تین مزید بارشوں کے سلسلے پاکستان کے ساتھ ٹکرائے ہیں ،3 لو پریشر سسٹمز نے پاکستان کی طرف رخ کیا ہے، ایک لو پریشر جو کہ انڈیا مدھیا پردیش میں تھا اس کا اثر پاکستان کے سینٹرل پارٹس پر ہے، دوسرا پریشر سسٹم اریبین سی اور گجرات سے ہوتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوا ہے جبکہ ایک تیسرا مغربی ہواؤں کا سلسلہ شمال سے پاکستان کی طرف بڑھا ہے، ان تین سلسلوں کے ٹکراؤ کی وجہ سے  ملک گیر بارشیں ہیں اور یہ چوتھا اسپیل جس کی شدت 21 جولائی سے بڑھی ہے یہ مون سون کا سلسلہ 26 سے 27 جولائی تک جاری رہے گا، تین سلسلوں کے ٹکراؤ کا مطلب ہے کہ موسمیاتی شدت انسانی سوچ سے بھی کہیں آگے متوقع ہے۔

اب بات کرتے ہیں کلاؤڈ برسٹ کی جسے عام زبان میں بادل کا پھٹنا کہتے ہیں ، کیا ان تین سلسلوں کی انتہائی شدت تو بادل پھٹنے کی وجہ نہیں؟ اس بارے ڈاکٹر طیب نے میری تشویش بھانپتے ہوئے جواب دیا کہ کلاؤڈ برسٹ ایک ایسا موسمیاتی عمل ہے جس میں کم دورانیے میں بہت زیادہ بارش برس جائے، میٹرولوجیکل زبان میں کلاؤڈ برسٹ کی تشریح کچھ اس طرح سے ہے کہ 1 گھنٹے کے اندر 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو اور 100 ملی میٹر سے مراد کئی ہزار ٹن پانی کسی ایک علاقے میں گرے، ایک گھنٹے میں اتنی بارش کا ہونا یعنی جیسے بادل  پھٹ گیا ہو، یہ کیوں ہوتا ہے؟ کونسے عناصر ہیں اس کے اندر؟ ڈاکٹر طیب نے کلاؤڈ برسٹ کی سائنس سمجھاتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر کرہ فضاء کے اندر مختلف قسم کے بادل تشکیل پاتے ہیں، بادلوں کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں ان میں کچھ بادل ایسے ہوتے ہیں جن کو ہم کم اونچائی (لوایلٹیٹیوڈ) یعنی زمین کی سطح سے 6 سے 7 کلومیٹر بلندی پر جو بادل بنتے ہیں یہ لو ایلٹیٹیوڈ ہے پھر اسکے بعد کرہ فضاء کی درمیانی سطح جسے میڈیم ایلٹیٹیوڈ کہا جاتا ہے اس پر بادل بنتے ہیں پھر اسکے بعد کرہ فضاء کی انتہائی بلندی جسے ہائی ایلٹیٹیوڈ کہا جاتا ہے ان تینوں ایلٹیٹیوڈ میں بادلوں کا ایک ٹاور بنتا ہے ایک ایسا بادلوں کا ٹاور جس نے ان تینوں ایلٹیٹیوڈ کو گھیرا ہوا یے اس میں ایک کثیف مقدار میں یا انتہائی بڑی مقدار میں پانی جمع ہوتا ہے، بنیادی طور پر میٹرولوجیکل زبان میں اسے کرہ فضاء کا دریا ایٹموسفرک ریور کہا جاتا ہے جس کی لمبائی بلندی میں 6 سے 7 کلومیٹر سے 11 کلومیٹر تک ہوتی ہے اور خدانخواستہ اگر یہ متحرک ہو جائے اور پھٹ جائے تو اسے کلاؤڈ برسٹ کا نام دیا جاتا ہے، اور ایسی برسٹنگ میں ہمیشہ کم دورانیے میں زیادہ بارش ہوتی ہے ۔

ڈاکٹر طیب نے کلاؤڈ برسٹ یعنی بادل کے پھٹنے سے متعلق سمجھاتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ بارشوں کی بھی مختلف اقسام ہیں جن کا انحصار بادلوں کی نوعیت پر ہے یعنی کچھ بادل ایسے ہوتے ہیں جو کرہ فضاء میں ایسے پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اور پتلے ہوتے ہیں جسکے باعث پھوار کی طرح ہلکی بارش ہوتی ہے، کچھ بادل جو پہاڑی علاقوں میں ہوتے ہیں جن کے آگے شیلڈ پہاڑ ہوتے ہیں تو پہاڑوں کی اس رکاوٹ کے سبب وہاں ایک اور قسم کی بارش ہوتی ہے جسے اوروگرافک بارش کہتے ہیں یعنی جب ہوائیں نمی لیے ہوئے پہاڑی علاقوں کی طرف بڑھتی ہیں اور پہاڑوں سے ٹکرا کر بلند ہونے پر مجبور ہوتی ہیں تو اونچائی پر درجہ حرارت کم ہونے کی وجہ سے ہوا  میں موجود نمی گاڑھی ہو کر بادل بناتی ہے اور پھر بارش کی صورت میں زمین پر گرتی ہے۔ اس عمل کو جغرافیائی بارش یا اوروگرافک بارش کہتے ہیں اور انتہائی سادہ الفاظ میں یہ وہ بارش ہوتی ہے جو پہاڑوں کی وجہ سے ہوتی ہے جیسے کہ پاکستان میں  مری، ایبٹ آباد، سوات اور کشمیر کے علاقوں میں اکثر جغرافیائی بارش دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ یہ علاقے پہاڑی ہیں پھر ایک تیسری بارش جسے بہت خطرناک سمجھا جاتا ہے جو کہ کلاؤڈ برسٹ کی شکل میں ہوتی ہے، اور اگر کہیں کلاؤڈ برسٹ ہو تو وہاں سیلابی صورتحال بنتی ہے۔

ڈاکٹر طیب نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ بات غور طلب ہے کہ پاکستان کے مون سون 2025 میں کچھ ایسے عوامل ہو رہے ہیں جو نارمل پیٹرن سے مختلف ہیں یعنی 2025 کے جولائی کو خالی مون سون کی بارشیں نہیں کہہ سکتے وجوہات یہ ہیں کہ یکے بعد دیگرے مون سون کے ساتھ ساتھ مغربی ہواؤں کے سلسلے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں اور اس میں ایک بڑا عمل موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی ہے جسکی مثال شمال مشرقی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ملتی ہے جیسے کہ کوئٹہ، پشین، لورالائی ، بارکھان، کوہلو ، اوستا محمد، لسبیلہ اور آواران کا ریجن، یہ وہ علاقے ہیں جو مون سون کے نہیں ہیں، یہ مون کا ریجن ہی نہیں لیکن اس سال اس ریجن میں مون سون بارشیں آ رہی ہیں اور یہ مون سون کے نارمل ٹریک سے کافی مختلف ہیں اور اس بار خیبرپختونخوا میں بھی کافی بارشیں دیکھنے کو ملی ہیں۔

بارشوں کے ساتھ ساتھ بڑھتے درجہ حرارت پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طیب نے بتایا کہ بحیرہ روم اس بار اپنے 6 ڈگری نارمل سے اوپر ہے کیوں کہ بحیرہ روم میں ہیٹ ویو موجود ہے، ہیٹ ویو صرف زمین پر نہیں بلکہ سمندروں پر بھی بنتی ہے اور بحیرہ روم اس وقت شدید سمندری ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے، جس کے نتیجے میں نمی کی بڑی مقدار فضا میں بلند ہو کر بادلوں کی تشکیل کا سبب بن رہی ہے۔ڈاکٹر طیب نے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ آنے والے مون سون کی بارشوں کی مقدار زیادہ ہوگی، ان جگہوں پر بھی بارشیں زیادہ برسیں گی جہاں زیادہ بارش کا تصور ہی نہیں تھا۔

یہ تو ہو گئی پاکستان میں مون سون کی بات لیکن اگر گلوبلی بھی دیکھیں تو اس وقت صرف پاکستان ہی ایسے واقعات کی زد میں نہیں کہ زیادہ بارشوں کے باعث نقصانات ہو رہے ہیں بلکہ ساؤتھ آف چائنہ میں متعدد سیلاب کے واقعات ہوئے ہیں، ٹیکساس امریکہ بھی ایسے واقعات سے چھپا ہوا نہیں ہے، لیکن ان ممالک کی بہ نسبت پاکستان کے پاس آج بھی موسمیاتی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کم ہی ہے، وفاقی حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کے باوجود کلائمیٹ بجٹ میں کمی کر کے یقیناً ملک اور قوم کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے وقت کی ضرورت ہے کہ ناگہانی قدرتی آفات ،موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز کا سامنا کر کے نقصان اٹھا کر پھر امداد کا انتظار کرنے کے بجائے بروقت اقدامات ضروری ہیں، ایک طرف جہاں شدید بارشیں اور سیلابی صورتحال ہے تو دوسری طرف لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بھی ہیں، سیاحتی مقامات کا رخ کرنے کے بجائے مسافروں کو شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے، دعاؤں میں یاد رکھیں۔